Urdu: Unlocked Literal Bible for رَسُولوں کے اَعمال

Formatted for Translators

©2022 Wycliffe Associates
Released under a Creative Commons Attribution-ShareAlike 4.0 International License.
Bible Text: The English Unlocked Literal Bible (ULB)
©2017 Wycliffe Associates
Available at https://bibleineverylanguage.org/translations
The English Unlocked Literal Bible is based on the unfoldingWord® Literal Text, CC BY-SA 4.0. The original work of the unfoldingWord® Literal Text is available at https://unfoldingword.bible/ult/.
The ULB is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike 4.0 International License.
Notes: English ULB Translation Notes
©2017 Wycliffe Associates
Available at https://bibleineverylanguage.org/translations
The English ULB Translation Notes is based on the unfoldingWord translationNotes, under CC BY-SA 4.0. The original unfoldingWord work is available at https://unfoldingword.bible/utn.
The ULB Notes is licensed under the Creative Commons Attribution-ShareAlike 4.0 International License.
To view a copy of the CC BY-SA 4.0 license visit http://creativecommons.org/licenses/by-sa/4.0/
Below is a human-readable summary of (and not a substitute for) the license.
You are free to:
The licensor cannot revoke these freedoms as long as you follow the license terms.
Under the following conditions:
Notices:
You do not have to comply with the license for elements of the material in the public domain or where your use is permitted by an applicable exception or limitation.
No warranties are given. The license may not give you all of the permissions necessary for your intended use. For example, other rights such as publicity, privacy, or moral rights may limit how you use the material.

رَسُولوں کے اَعمال

11۱۔ اَے تھِیُفِلُسؔ! مَیں نے گُزِشتہ رِسالہ اُن سب باتوں کو بَیان کرنے کے لئے تَصْنِیف کِیا جوباتیں یِسُوؔع نے کرنا اَور سِکھانا شُرُوع کِیں۔ 2۲۔ اُس روز تک جِس روز وہ اُن رَسُولوں کو جِنَہِیں اُس نے چُنا تھا رُوحُ الْقُدس کے وَسِیلَہ سے حُکْم دے کر اُوپر اُٹھالیا گَیا۔ 3۳۔اُس نے اپنی تَصْلِیب کے بعد بَہُت سے شَواہِد کے ساتھ خُود کواُن پر زِنْدَہ ظاہِر کِیاتھا چنان٘چہ وہ چالِیس دِن تک اُنھیں دِکھائی دیتا اور اُن سے خُدا کی بادشاہی کی باتیں کرتا رہا۔4۴۔ اَور اُن سے مُلاقات کے دَوران اُن کو حُکْم دِیا کہ یرُوشلیؔم سے باہَر نہ جاؤ بَلْکِہ باپ کے اُس وَعدَہ کی تَکْمِیْل کے مُنتَظِر رہو جِس کا ذِکْر تُم مُجھ سے سُن چُکے ہو۔ 5۵۔ کیُونکِہ یُوحنّؔا تو دَرحَقِیقَت پانی سے بَپْتِسمَہ دیتا تھا مَگر تھوڑے دِنوں کے بعد تُم رُوحُ الْقُدس سے بَپْتِسمَہ پاؤ گے۔6۶۔ سو جب وہ جَمْع تھے تو اُنہوں نے اُس سے پُوچھا کہ اَے خُداوند! کیا یَہی وہ وَقْت ہَے کہ تُو اِسرائؔیل کی بادِشاہی بَحال کرےگا۔ 7۷۔ اُس نے اُن سے کہا،اُن وَقْتوں اَور مِیعادوں کو جِنَہِیں باپ نے اپنے اِخْتِیار میں رکّھا ہَےجاننا تُمہارا کام نَہِیں۔ 8۸۔ لیکِن جب رُوحُ الْقُدس تُم پر نازِل ہو گا تو تُم قُوّت پاؤ گے اَور یرُوشلیِؔم اَور سارے یُہودؔیہ اَور سامؔریہ میں بَلْکِہ زمین کی اِنْتِہا تک میرے گَواہ ہو گے۔9۹۔ یہ باتیں کَہہ کر وہ اُن کے دیکھتے دیکھتے اُٹھا لِیا گَیا۔ اَور ایک بادَل نے اُسے اُن کی نَظروں سے اوجَھل کر دِیا۔ 10۱۰۔ اَور اُس کے جاتے وَقْت جب وہ آسمان کی طرف غَور سے دیکھ رہے تھے تو دیکھو سَفید پَوشاک پَہْنے ہُوئے دو مَرد اُن کے پاس آ کھڑے ہُوئے۔ 11۱۱۔ اَور کہنے لگے اَے گلِیلِی مَردو! تُم کِیُوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو؟ یَہی یِسُوؔع جو تُمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھایا گَیا ہَے اِسی طرح پِھر آئے گا جِس طرح تُم نے اُسے آسمان پر جاتے دیکھا ہَے۔12۱۲۔ تب وہ اُس پَہاڑ سے جو کوہِ زَیتُون کہلاتا ہَے اَور یروشلِؔیِم کے نزدِیک سَبَت کی منزِل کے فاصِلہ پر ہَے یروشلِؔیِم کولَوٹے۔ 13۱۳۔ اَور جب اُس میں داخِل ہُوئے تو بالا خانہ میں گئے جہاں وہ یَعْنی پَطؔرس، یُوحنّؔا، یعقُؔوب، اندریاؔس، فِلؔپُّس، تؔوما، برتُلؔمائی، متّؔی، حلؔفئ کا بیٹا یعقُؔوب، شمعُؔون زیلؔوتیس اَور یعقُؔوب کا بیٹا یہُوداؔہ ٹھہرے ہُوئے تھے۔ 14۱۴۔ یہ سب کے سب چند عَورتوں اَور یِسُوؔع کی ماں مریؔم اَور اُس کے بھائِیوں سمیت یِک دِل ہو کر دُعا میں مشغُول رہے۔15۱۵۔ اَور اُنہی دِنوں پَطؔرَس بھائِیوں کے دَرمِیان جِن کا شُمار ایک سَو بِیس کے قَرِیب تھا کھڑا ہو کر کہنے لگا۔ 16۱۶۔اَے بھائِیو اُس کلام کا پُورا ہونا لازِم تھا جو رُوحُ الْقُدس نے داؤُؔد کی زَبانی اُس یہُؔوداہ کے بارے میں پہلے سے کیاتھا جو یِسُؔوع کو پکڑنے والوں کا رَہْنُما بنا۔17۱۷۔ کیُونکِہ وہ ہم میں سے ہی تھا اَور اُس نے اِس خِدْمَت کا حِصَّہ بھی پایا۔ 18۱۸۔ (اُس نے شَرارَت کی کمائی سے ایک کھیت خَرَیدا اَور وہ وہاں سَر کے بَل گِرا اَور اُس کا پیٹ پَھٹ گَیا اَور اُس کی سَب اَنتْڑیاں نِکل پڑِیں۔ 19۱۹۔ اِس واقعہ کا چَرچا یروشلؔیِم کے تمام باشِنْدَوں میں ہوگَیا، اِس لئے یہ کھیت اُن کی مَقامی زبان میں "ہَقَل دؔما" کے نام سے مَشہَور ہوگَیا جِس کا مطلب "خُون کا کھیت" ہَے۔)20۲۰۔ کیُونکِہ زبُور کی کِتاب میں یُوں لکِھا ہَے کہ اُس کا مَسِکن اُجڑ جائے۔

اَور اُس میں بسنے والا کوئی نہ رہَے۔ اَور یہ کہ اُس کا عُہدہ کوئی اَور لے لے۔

21۲۱۔ سو جومَرد اُس مُدّت تک مُسْتَقِل مارے ساتھ رہے جِس میں خُداوند یِسُؔوع ہمارے ساتھ آمَدورَفْت کرتا رہا۔ 22۲۲۔ یَعْنی یُوحنّؔا کے بَپْتِسمَہ سے لے کر خُداوند کے ہمارے پاس سے اُٹھالئے جانے تک لازِم ہَے کہ اُن میں سے ایک ہمارے ساتھ اُس کی قَیامَت کا گَواہ بنے۔ 23۲۳۔ پِھر اُنہوں نے دواَشخاص یَعْنی یُؔوسف جو برؔسبّا کہلاتا اَور جِس کا لقب یُوستُؔس ہَے اَور متّؔیاہ کو پیش کِیا۔24۲۴۔ اَور یہ کَہہ کر دُعا کی کہ اَے خُداوند تُو جو ہر ایک کے دِل کو جانتا ہَے ظاہِر کر کہ اِن دونوں میں سے تُو نے کِسے چُنا ہَے۔ 25۲۵۔کہ وہ اِس خِدْمَت اَور رِسالَت کی جگہ لے جِس سے یہُؔودہ خارِج ہُؤا تاکہ اپنی جگہ جائے۔ 26۲۶۔ پِھر اُنہوں نے اُن کے مُتعلِق قُرّعہ ڈالا اَور قَرْعَہ متّؔیاہ کے نام کا نِکلا۔چنان٘چہ وہ اُن گَیارہ رسُولوں کے ساتھ شُمار ہُؤا۔
21۱۔ جب عِیدِ پینتکُِست کا دِن آیا تو وہ سب ایک جگہ جَمْع تھے۔ 2۲۔ 2۔ اَور اچانَک آسمان سے ایسی آواز آئی جیسے تُند ہَوا کا سنّاٹا اَور اُس سے سارا گھر جہاں وہ بیٹھے تھے گُونج اُٹھا۔ 3۳۔ 3۔ اَور اُنَہِیں آگ کے شُعلے کی سی زُبانیں دِکھائی دیں۔اَور اُن میں سے ہر ایک پر آ ٹھہریں۔ 4۴۔ اَور وہ سب رُوحُ الْقُدس سے مَعْمُور ہوگئے اَور دِیگَر زُبانیں بولنے لگےجِس طرح رُوح نے اُنَہِیں بولنے کی تَوفِیق عَطا کی۔5۵۔ اَور آسمان تلے کی ہر ایک قوم میں سے خُدا ترس یُہُودی یرُوشلؔیِم میں رہتےتھے۔ 6۶۔ جب یہ آواز آئی تو بھیڑ لگ گئی اَور لوگ شَشْ و پَنْج میں پڑگئے کیُونکِہ ہَر ایک کو یَہی سُنائی دیتا تھا کہ یِہ میری ہی بولی بول رہے ہیَں۔ 7۷۔ اَور سب حَیران و مُتَعَجِّب ہو کر کہنے لگے دیکھو!کیا یہ بولنے والے سب گلِیلی نَہِیں؟8۸۔ پِھر ہم میں سے ہَر ایک اپنے اپنے وَطَن کی بولی کِیُوں کر سُنتا ہَے؟ 9۹۔ حالانکہ ہم پارْتھی ، مادی اَور عیلامی ہیں، اَور مسوپتامِیہ، یُہُودیہ، کَپّدُکؔیہ، پُنطُؔس، آسِؔیہ، 10۱۰۔ فرُوگؔیہ، پمفیِلؔیہ کے علاقوں کےاَور مِصؔری ہَیں اَور لِؔبوآکے اُن عِلاقوں میں سے ہَیں جو کرینؔے کی طرف ہَیں اَور رُومی مُسافِر خَواہ یُہُودی خَواہ اُن کے مُرِید، کریتی اَور عَربؔ ہَیں۔ 11۱۱۔ کیا یُہُودی کیا نَو مُرِید اَور کریتی اَور عَؔربی۔ ہم اپنی اپنی زُبان میں اُن سے خُدا کے عَجِیب کاموں کا بَیان سُنتے ہَیں۔12۱۲۔ اَور سَب حَیران ہُوئے اَور تَعَجُّب کر کے ایک دُوسرے سے کہنے لگے کہ یہ کیا ہُؤا چاہتا ہَے؟ 13۱۳۔ بَعْض نے طنزً کہا کہ یہ تو نئی مَے کے نَشّے میں ہَیں۔14۱۴۔ تب پَطؔرَس نے اُن گَیارہ کے رُوبَرُو کھڑے ہو کر اپنی آواز بَلَنْد کی اَور اُن سے کہا۔ اَے یُہُودی مَردو اَور یرُوشلؔیِم کے سب رہنے والو! یہ جان لو اَور کان لگا کر میری باتیں سُنو! 15۱۵۔ جیسا تُم نے فَرض کر لِیا ہَے،یہ نَشَہ کی حالَت میں نَہِیں ہَیں، اِس لئے کہ ابھی تو دِن نِِکلے تین ہی گھنٹے گُزرےہَیں۔16۱۶۔ بَلْکِہ یہ تو وہ بات ہَے جو یوئیلؔ نَبی کی مَعرِفَت کہی گئی تھی کہ 17۱۷۔ (خُداوند فَرْماتا ہَےکہ) آخری دِنوں میں اَیسا ہوگا۔

کہ مَیں اپنی رُوح ہر بشر پر اُنڈیلُوں گا۔

اَور تُمہارے بیٹے اَور تُمہاری بیٹیاں نبُوّت کریں گی۔

اَور تُمہارے نَوجوان رویا دیکھیں گے۔

اَور تُمہارے بُوڑھوں کو خواب دیکھیں گے۔

18۱۸۔ بَلْکِہ مَیں یقیناً اُن دِنوں میں اپنے بندوں اَور اپنی بندیوں پر اپنی رُوح اُنڈیلْوں گا۔ اَور وہ نُبُوَّت کریں گے۔ 19۱۹۔ مَیں اُوپر آسمان میں عَجائِب۔ اَور نِیچے زمین پر کَرِشمے دِکھاؤُں گا۔

یَعْنی خُون اَور آگ اَور دُھوئیں کا بادَل۔

20۲۰۔ خُدا کے روزِعَظِیم و جَلِیل کی آمَد سے پیشْتَر سورَج تارِیکی میں ڈھل جائے گااَور چاندخُون ہو جائے گا 21۲۱۔ اَور یُوں ہو گا کہ جو کوئی خُداوند کا نام پُکارے گا نَجات پائے گا۔22۲۲۔ اِے اِسرائِیلِیو! یہ باتیں سنُو کہ یِسُؔوع ناصَرِی ایک شَخص تھا جِس کا تُم پر خُدا کی طرف سے ظاہِرہونا اُن مُعْجِزَاْتْ اَور عَجِیب کاموں اَور نِشانوں سے ثابِت ہُؤا جو خُدا نے اُس کی ذَرِیعہ تُمہارے دَرمِیان دِکھائے۔جِیسا کہ تُم خُود جانتے ہو۔ 23۲۳۔ جب وہ خُدا کے مُقَرّرَہ مَنصُوبہ اَور عِلمِ سابِق کے مُطابِق پکڑوایا گَیا تو تُم نے اُسے بے شَرع لوگوں کے ہاتھوں مَصلُوب کروا کر مار ڈلا۔ 24۲۴۔ لیکِن خُدا نے اُسے مَوت کی اَذِیّت ناک گرِفت سے آزاد کر کے جِلایا کیُونکِہ مُمکِن نہ تھا کہ وہ اُس کے قَبضہ میں رہتا۔25۲۵۔ کیُونکِہ داؤُؔد اُس کے مُتَعلِق کہتا ہَے کہ مَیں خُداوند کو ہَمیشہ اپنے سامنے دیکھتا رَہا۔

کیُونکِہ وہ میری دِہنی طرف ہَے تاکِہ مُجھے جُن٘بِش نہ ہو۔

26۲۶۔ اِسی سَبَب سے میرا دِل خُوش ہُؤا اَور میری زُبان نے خُوشی سے نَعرے لگائے۔ اَور میرا جِسم بھی اُمید میں جِیتا رہے گا۔27۲۷۔کیُونکِہ تُو میری جان کو پاتال میں نہ چھوڑے گا، اَور نہ ہی اپنے مُقَدَّس کو گلنے سڑنے دے گا۔ 28۲۸۔ تُو نے مُجھے زِندَگِی کی راہوں سے آگاہ کر دِیا ہَے اَور تُو اپنے حُضُور مُجھے خُوشی سے مَعْمُور کرتا ہَے۔29۲۹۔ اَے بھائِیو!مَیں قوم کے بزرگ داؤُؔد کے مُتَعَلِّق تو تُم سے دَلیری سے کَہہ سکتا ہُوں کہ وہ مُؤا اَور دَفن بھی ہُؤا اَور اُس کی قَبر آج تک ہمارے دَرمِیان مَوجُود ہَے۔ 30۳۰۔ لیکِن وہ ایک نَبِی تھا اَور جانتا تھا کہ خُدا نے اُس سے قَسم کھائی ہَے۔ کہ اُس کی نَسل میں سے ایک شَخص اُس کے تَخْت پر بیٹھے گا۔ 31۳۱۔ اُس نے پیشْ گوئی کے طَور پر مَسِؔیح کی قَیامت کا ذَکر کِیا کہ نہ وہ عالمِ اَرواح میں چھوڑا گَیا نہ اُس کے جِسم کے سڑنے کی نَوبت آئی۔32۳۲۔ اِسی یِسُؔوع کو خُدا نے جِلایا جِس کے ہم سب گَواہ ہَیں۔ 33۳۳۔ سو اُس نے خُدا کے دہنے ہاتھ سر بَلَنْدی پاتے ہوتے ہُوئے باپ سے وہ رُوحُ الْقُدس حاصِل کر کے جِس کا وَعدَہ کیا گَیا تھا نازِل کِیا جو تُم دیکھتے اَور سُنتے ہو۔34۳۴۔ کیُونکِہ داؤؔد خُود تو آسمان پر نَہِیں چڑھا۔ پِھر بھی وہ کہتا ہَے کہ خُداوند نے میرے خُداوند سے کہا کہ میری دَہنی طرف بیٹھ۔ 35۳۵۔ جب تک مَیں تیرے دُشمنوں کو تیرے پاؤں تَلے کی چَوکی نہ کر دُوں۔ 36۳۶۔ پس اِسرائؔیل کا سارا گھرانا یقیِن جان لے کہ خُدا نے اُسی یِسُؔوع کو جِسے تُم نے مصلُوب کِیا خُداوند بھی بنایا اَور مَسِؔیح بھی۔37۳۷۔ اَب جب اُنہوں نے یہ سُن لِیا تو اُن کے دِل چَھلنی ہو گئے اَور اُنہوں نے پطؔرس اَور باقی رسُولوں سے کہا کہ اَے بھائِیو!اَب ہم کیا کریں؟ 38۳۸۔ اِس پر پطؔرس نے اُن سے کہا کہ توبہ کرو اَور تُم میں سے ہر ایک اپنے گُناہوں کی مُعافی کے لئے یِسُؔوع مَسِؔیح کے نام پر بپتِسمہ لے توتُم رُوحُ الْقُدس کا اِنعام پاؤ گے۔ 39۳۹۔ اِس لئے کہ یہ وَعدَہ تُم، تُمہاری اولاد اَور اُن سب دُور کے لوگوں سے ہَے جِن کو خُداوند ہمارا خُدا اپنے پاس بُلائے گا۔40۴۰۔ اَور اُس نے مَزِید بَہُت سی باتیں جَتا جَتا کر اُنَہِیں یہ نَصِیَحت کی کہ اپنے آپ کو اِس ٹیڑھی نَسل سے بچاؤ۔ 41۴۱۔ پس جِن لوگوں نے اُس کا کلام قُبُول کِیا اُنہوں نے بَپْتِسمَہ لِیا اَور اُسی روز تین ہزار آدَمِیوں کے قرِیب اُن میں شامِل ہو گئے۔ 42۴۲۔ وہ رسُولوں سے تَعلِیم حاصِل کرنے، رَفاقت رکھنے، روٹی توڑنے اَور دُعا کرنے کے لئے وَقف ہو گئے۔43۴۳۔ اَور ہر شَخص پر ایک خَوف سا تاری ہو گَیا کیُونکِہ رسُولوں کے ذَرِیعہ سے بَہُت سے عَجِیب کام اَور نِشان ظاہِر ہُوئےتھے۔ 44۴۴۔اَور جو لوگ اِیمان لے آئے تھے وہ سب ایک جگہ رہتے اَور سب چِیزوں میں شرِیک تھے۔ 45۴۵۔ اَور اپنا مال واَسباب بیچ بیچ کر ہر ایک کی ضُرُورَت کے ُمطابِق سب کو تَقسِیم کر دِیا کرتے تھے۔46۴۶۔اَور ہر روز یک دِل ہو کر ہَیکَل میں جَمْع ہُؤا کرتے، گھروں میں فراخ دِلی سے روٹی توڑ کر خُوشی اَور سادہ دِلی سے کھانا کھایا کرتے تھے۔ 47۴۷۔ اَور وہ خُدا کی حَمْد کرتے اَور سب لوگوں کو عَزِیز تھے اَور جو نَجات پاتے تھے اُن کو خُداوند ہر روز اُن میں شامِل کر دیتا تھا ۔
31۱۔ پَطؔرَس اَور یُوحنّؔا دُعا کے وَقْت یَعْنی دِن کے نَویں گھنٹے ہَیکَل کوجا رہے تھے۔ 2۲۔ اَور لوگ ایک پیدائشی اَپاہَج کو لا رہے تھے جِسے ہر روز ہَیکَل کے اُس دَروازہ پر بِٹھا دِیا کرتے تھے جو خُوبصُورَت کہلاتا ہَے تاکہ ہَیکَل میں جانے والوں سے بِھیک مانگا کرے۔ 3۳۔ ۔جب اُس نے پطؔرس اَور یوُحنّؔا کو ہَیکَل میں جاتے دیکھا تو اُن سے بھی بِھیک مانگی۔4۴۔ پَطؔرس اَور یُوحنّؔا نے اُس پر غَور سے نَظَر کی اَور پَطؔرس نے اُس سےکہا ہماری طرف دیکھ۔ 5۵۔ اُن سے کُچھ ملنے کی اُمید پر وہ اُن کی طرف مُتوَجِّہ ہُؤا۔ 6۶۔ لیکِن پَطؔرس نے اُس سےکہا چاندی اَورسونا تو میرے پاس نَہِیں ہَے، پر جو کُچھ میرے پاس ہَے وہ تُجھے دِیا چاہتا ہُوں۔ یِسُؔوع مَسِؔیح ناصِری کے نام سے اُٹھ اَور چَل پِھْر۔7۷۔ اَورپھر اُس کا دَہْنا ہاتھ تھَام کر اُس کو اُٹھایا اَور اُسی دَم اُس کے پاؤں اَور ٹَخْنے مَضْبُوط ہو گئے۔ 8۸۔اَور وہ اُچھل کر کھڑا ہو گَیا اَور چلنے پِھْرنے لگا اَور چلتا،اُچھلتا اَور خُدا کی حَمْد کرتا ہُؤا اُن کے ساتھ ہَیکَل میں چلا گَیا۔9۹۔ اَور سب لوگوں نے اُسے چلتے پِھرتے اَور خُدا کی حَمْد کرتے ہُوئے دیکھا۔ 10۱۰۔ اَور اُسے دیکھا اَور پَہْچان لِیا کہ یہ تو وَہی ہَے جو ہَیکَل کے خُوبصُورَت دَروازے پر بیٹھ کر بھیک مانگا کرتا تھا۔ اَور جو واقع اُس پرگُزرا تھا اُس سے نِہایَت حَیران اَور مُتَعجِّب ہُوئے۔11۱۱۔ سو وہ سب دَوڑتے ہُوئےسُلؔیمان کے برآمدہ میں آئے جہاں وہ اب تک َپطؔرس اَور یُوحنّؔا سے لِپٹا ہُؤا تھا۔ 12۱۲۔ ۔یہ دیکھ کر پَطؔرس نےاُن لوگوں سے کہا اَے اِسرائِیلِیو! تُم اِس پر تَعجُّب کِیُوں کرتے اَور ہمیں اِس طرح کِیُوں دیکھ رہَے ہو کہ گویا ہم نے اپنی قُدرَت یا دِین دارِی سے اِس شَخص کو چلنے پِھْرنے کے قابِل کر دِیا۔13۱۳۔ اِبرہاؔم اَور اِضؔحاق اَور یعقُؔوب کے خُدا یَعْنی ہمارے باپ دادا کے خُدا نے اپنے بندہ یِسُؔوع کو جلال دِیا جِسے تُم نے گِرِفْتار کروایا اَور جب پِیلاطُؔس نے اُسے رِہاکر دینے کااِرادہ کِیا تو تُم نے اُس کے سامنے اُسے رَدّ کِیا۔ 14۱۴۔ تُم نے ایک قُدُّس اَور راسْت باز کو رَدّ کر کے ایک قاتِل کی رِہائی کی دَرْخواسْت کی۔15۱۵۔ اَور زندگی کے بانِی کو قَتل کِیا، جِسے خُدا نے مُردوں میں سے جِلایا اَورہم اِس بات کے گَواہ َہیں۔ 16۱۶۔ اُسی کے نام نے اُس اِیمان کی بِنا پرجو اُس کے نام پر ہَے اِس شَخص کو مَضْبُوط کِیا جِسے تُم دیکھتے اَور جانتے ہو۔ بیشَک اُسی اِیمان نے جو اُس کے وَسِیلَہ سے ہَے یہ کامِل صِحَت تُم سب کے سامنے اُسے دِی۔17۱۷۔ اَور اب اَے بھائِیو! مَیں جانتا ہُوں کہ تُم نے یہ کام لاعِلمی میں کِیا اَور اَیسا ہی تُمہارے سَرداروں نے بھی کِیا۔ 18۱۸۔ مَگر جِن باتوں کی خُدا نے سب انبِیاء کی زُبانی پیش گوئی کی تھی۔ یَعْنی کہ اُس کا مَسِؔیح دُکھ اُٹھائے گا۔اُس نے اُنَہِیں اِسی طرح تمام کِیا۔19۱۹۔ سو تَوبہ کرو اَور رُجُوع لاؤ تاکہ تُمہارے گُناہ مِٹائے جائیں۔ 20۲۰۔ تاکہ خُداوند کی طرف سے تازگِی کے دِن آئیں اَور وہ اُس مَسِؔیح کو جو تُمہارے واسطے مُقرّر ہُؤا ہَے یَعْنی یِسُؔوع کو بھیجے۔21۲۱۔ ضُرُور ہَے کہ وہ آسمان میں اُس وَقْت تک رہے جب تک کہ وہ سب چِیزیں بَحال نہ کی جائیں جِن کا ذِکْر خُدا نے اپنے پاک اَنبِیاء کی زُبانی کِیا ہَے جو دُنیا کے شُرُوع سے ہوتے چلے ہَیں۔ 22۲۲۔ مُوسؔیٰ نے دَرحَقِیقَت کہا تھا کہ "خُداوند خُدا تُمہارے بھائِیوں میں سے تُمہارے لئے مُجھ سا ایک نَبِی پَیدا کرے گا۔ جو کُچھ وہ تُم سے کہے اُس کی سُننا۔ 23۲۳۔ اَور یُوں ہو گا کہ جو شَخص اُس نَبِی کی نَہِیں سُنتا وہ قَوم میں سے نِیست و نابُود کر دِیا جائے گا"۔24۲۴۔ اِسی طرح سؔمُوئیل سے لے کر جتنے انبِیاء نے اُس کے بعد کلام کِیا ہَے اُن سب نے اِن دِنوں کی خَبر دِی ہَے۔ 25۲۵۔ تُم انبِیاء کی اُولاد اَور اُس عہد کے فَرزِنْدَہو جو خُدا نے تُمہارے باپ دادا سے باندھا تھا جب اَبرَہاؔم سے کہا کہ تیری نَسل میں زمین کے تمام قَبِیلے برَکَت پائیں گے۔ 26۲۶۔ خُدا نے اپنے خادِم کو اُٹھایا اَور پہلے تُمہارے پاس بھیجا تاکہ تُم میں سے ہَر ایک کو اُس کی شَرارَت سے پھیرکر برکَت دے۔
41۱۔ اَبِھی وہ لوگوں سے کلام کر ہی رہے تھے کہ کاہِن، ہَیکَل کا سردار اَور صدوقی اُن پر چڑھ دَوڑے۔ 2۲۔ اَور سخت رَنْجِیدَہ ہُوئے کیُونکِہ پَطَؔرس اَور یُوحنّؔالوگوں کو تَعلِیم دیتے اَور یَسُؔوع کی مِثال دِے کر مُردوں کے جی اُٹھنے کی مُنادی کرتے تھے۔ 3۳۔ اَور اُنہوں نے اُن کو گِرفتار کر کے دُوسرے دِن تک قَید خانہ میں رکھّا کیُونکِہ شام ہوچُکی تھی۔ 4۴۔ مَگر کلام سُننے والوں میں سے بَہُت سے لوگ اِیمان لےآئے یہاں تک کہ اِیمان لانے والے مَردوں کی تَعداد تقریباً پانچ ہزار تک ہو گی۔5۵۔ اَور دُوسرے دِن یُوں ہُؤا کہ اُن کے سَردار اَور بزُرگ اَور فَقِہہ یِرُوشلِؔیم میں جَمْع ہُوئے۔ 6۶۔اَور سَردار کاہِن حنّؔااَور کائؔفا اَور یُوحنّؔااَور اسکؔندر اَور سَردار کاہِن کے گھرانے کےجتنےلوگ تھے یرُوشلِؔیم میں جَمْع ہُوئے۔ 7۷۔ اَورپَطؔرس اَور یُوحنّؔا کواپنے دَرمِیان کھڑا کر کے پُوچھنے لگے کہ تُم نے یہ کام کِس قُدرَت کے وَسِیلَہ سےاَور کِس نام میں کِیاہَے؟8۸۔ ۔تب پَطؔرس نے رُوحُ الْقُدس سے معمُور ہوکر اُن سے کہا۔ اَے قَوم کے سَردارو اَور بزُرگو!۔ 9۹۔ اگر آج ہم سے اُس نیک کام کو لے کر جو اُس مَعزُورپر کِیا گَیا ہَے باز پرُس کی جاتی ہَے کہ اُس نے کِس وَسِیلے سے شِفا پائی۔ 10۱۰۔ تو تُم سب کواَور اِسرائِؔیل کی ساری اُمَّت کو مَعلُوم ہو جائےکہ یِسُؔوع مَسِؔیح ناصری جِسے تُم نے مَصلُوب کِیا مَگر خُدا نے اُسے مُردوں میں سے زِنْدَہ کِیا اُسی کے نام سے یہ تُمہارے سامنے تَندرُست کھڑا ہے۔11۱۱۔ یِسُؔوع مَسِؔیح ہی وہ َپتَّھر ہَے جِسے تُم مِعماروں نے رَدّ کر دِیالیکِن اُسی کو کونے کے سِرے کا پَتَّھر بنا دِیا گَیا۔ 12۱۲ ۔ اَور کِسی دُوسرےشَخص کے وَسِیلَہ سے نَجات نَہِیں کیُونکِہ آسمان کے تَلے آدَمَیوں کو کوئی دُوسرا نام نَہِیں بَخشا گَیا جِس کے وَسِیلَہ سے ہم نَجات پا سکیں۔13۱۳۔ جب اُنہوں نے پَطؔرس اَور یُوحنّؔا کی دَلیری دیکھی اَور مَعلُوم کِیا کہ یہ مَعمولی، اَن پَڑھ آدَمِی ہَیں۔ اَور یہ جان کر تَعَجُّب کِیا کہ وہ یِسُؔوع کے ساتھ رہے ہَیں۔ 14۱۴۔ اِس لئے کہ شِفا پانے والے شَخص کواُن کے ساتھ کھڑا دیکھ کر اُن کے پاس مُخلاِفَت کا کوئی سَبَب باقی نہ رہا۔15۱۵۔ لیکِن اُنَہِیں مجلِس سے نِکل جانے کا حُکْم دے کر ،اُنہوں نے آپس میں مُشاَورت کی۔ 16۱۶۔کہ ہم اُن آدمِیوں کے ساتھ کِس طرح پیش آئیں؟ کیُونکِہ یرُوشلِؔیم کے سب رہنے والوں پر یہ واضح ہَے کہ اُن کے ذَرِیعہ ایک قابِلِ ذکر مُعجَزہ ظاہِر ہُؤاہَے جِسے ہم جُھٹلا نَہِیں سکتے۔ 17۱۷۔ لیکِن کَہِیں یہ لوگوں میں پَھیل نہ جائے چلو ہم اُنَہِیں دَھمکائیں کہ پِھر یہ نام لے کر کِسی سے بات نہ کریں۔ 18۱۸۔ ۔تَب اُنہوں نے اُن کو اَندَر بُلا کر حُکْم دِیا کہ وہ یِسُؔوع کا نام لے کر ہَرگِز بات نہ کریں اَور نہ ہی تَعلِیم دِیں۔19۱۹۔ مَگر پَطؔرس اَور یُوحنّؔا نے جَواب میں اُن سے کہا کہ تُم ہی اِنصاف کرو۔ آیا خُدا کے نَزدِیک یہ واجِب ہَے کہ ہم خُدا سے زِیادہ تُمہاری فَرمانبَردارِی کریں۔ 20۲۰۔ کیُونکِہ یہ مُمکِن ہی نَہِیں کہ جوباتیں ہم نے دیکھیں اَور سُنِیں ہَیں اُن کا بیان نہ کریں۔21۲۱۔ اُنہوں نے اُن کو مزید دھمکا کر جانے دیا کیُونکِہ لوگوں کے سبب سے اُن کو سزا دینے کا کوئی بہانہ نہ مِلا۔ اِس لئے کہ سب لوگ اُس ماجرے کے سَبَب سے خُدا کی تمجید کررہے تھے۔ 22۲۲۔جِس شَخص کو شِفا کے مُعجِزَہ کا تَجرِبَہ ہُؤا تھا وہ چالِیس برَسوں سے زِیادہ کا تھا۔23۲۳۔ وہ رِہا ہو کر اپنے لوگوں کے پاس آئے اَور جو کُچھ سَردار کاہِنوں اَور بزُرگوں نے اُن سے کہا تھا بیان کِیا۔ 24۲۴۔ جب اُنہوں نے یہ سُنا تو یَک دِل ہو کر بَلَنْد آواز سے خُدا سے کہا کہ اَے مالِک! تُونے آسمان اَور زمین اَور سمندر اَور جو کُچھ اُن میں ہَے پیدا کِیاہَے۔ 25۲۵۔ تُو نے رُوحُ الْقُدس کے وَسِیلَہ سے ہمارے باپ اپنے خادِم داؤُؔد کی زُبانی فرمایا کہ غَیر اَقوام کِیُوں طیش میں آئیں؟اَور اَقوام نے کِیُوں باطِل خیال کئِے؟26۲۶۔ تُو نے فرمایاکہ زمین کے بادشاہ خُداوند اَور اُس کے مَسِؔیح کی مُخالِفَت کو اُٹھ کھڑے ہُوئے اَور حُکّام جَمْع ہو گئے۔27۲۷۔ کیُونکِہ واقعی ہیرودیؔس اَور پُنطیُس پیلاطُسؔ دونوں غَیر اَقوام اَور اِسرائیِلِیوں کے ساتھ تیرے پاک خادِم یِسُؔوع کے خلاف جِسے تُو نے مَسح کِیا اِسی شہر میں جَمْع ہُوئے۔ 28۲۸۔ تاکہ سب کُچھ جو پہلے سے تیری قُدرَت اَور تیری مَصلِحَت نے ٹھہرادِیا تھا وُہَی عَمَل میں لائیں۔29۲۹۔ اب اَے خُداوند! اُن کی دَھمکِیُوں کو دیکھ اَور اپنے بندوں کو یہ تَوفِیق دِے کہ وُہ تیرا کلام کمال دِلیری کے ساتھ سُنائیں۔ 30۳۰۔ اَور تُو اپنا ہاتھ شِفا دینے کو بڑھا اَور تیرے پاک خادِم یِسُؔوع کے نام کے وَسِیلےسے مُعجِزَات اَور عَجِیب کام ظہُور میں آئیں۔ 31۳۱۔ جب وہ دُعا کر چُکے تو جِس مکان میں جَمْع تھے وہ ہِل گَیا اَور وُہ سب رُوحُ الْقُدس سے مَعْمُور ہوگئے اَور خُدا کا کلام دِلیری سے سُناتےتھے۔32۳۲۔ اَور اِیمان داروں کی جماعت یَک دِل اَور یَک جان تھی اَور کِسی نے بھی اپنے مال کو اپنا نہ سمجھا بَلْکِہ اُن کی تمام چِیزیں مُشترِک تھِیں۔ 33۳۳۔ اَور رَسُول بڑی قُدرت سے خُداوند یِسُؔوع کے جِی اُٹھنے کی گَواہی دیتے رہے اَور اُن سب پر بڑا فَضل تھا۔34۳۴۔ وہاں کوئی کِسی بھی چیز کامحتاج نہ تھا۔اِس لئے کہ جو لوگ زمینوں یا گھروں کے مالِکان تھے وُہ اُن کو بیچ بیچ کر حاصِل ہونے والی رَقم لاتے۔ 35۳۵۔ اَور رَسُولوں کے قَدموں میں رَکھ دِیاکرتے تھے۔ پِھر ہر ایک کو اُس کی ضُرُورَت کے مُطابِق بانٹ دِیا جاتا تھا۔36۳۶۔ اَور یُوسفؔ نام ایک لاؔوی تھا جِسے رسُول برنباؔس پُکارتے تھے(جِس کا ترجمہ نَصِیَحت کا بیٹاہَے) اُس کی پَیدائِش کُپؔرس کی تھی۔ 37۳۷۔ اُس کابھی ایک کھیت تھا جِسے اُس نے بیچا اَور رَقم لا کر رسُولوں کے قَدموں میں رَکھ دِی۔
51۱۔ اَور حَنَنَؔیاہ نام کے ایک شَخص اَور اُس کی بیوی سفِؔیرہ نے اپنی جائیداد کا کُچھ حِصّہ بیچا۔ 2۲۔ اَور اُس نے اپنی بیوی کے جانتے ہُوئے رَقَم میں سے کُچھ حِصّہ رَکھ لِیا اَور باقی لا کر رُسولوں کے قَدْموں میں رَکھ دِیا۔3۳۔ مگر پَطْرَس نے کہا اَے حَنَنَؔیاہ!شَیطان نے تیرے دِل میں یہ بات کیوں ڈالی کہ تُو رُوحُ القُدس سے جُھوٹ بولے اَور زمین کی قِیمَت میں سے کُچھ رَکھ لے؟ 4۴۔کیا جب تک وہ تیرے پاس تھی تیری مِلْکِیَّت نہ تھی؟ اَور جب بِیچ ڈالی گئی تو تیرے اِخْتِیار میں نہ رہی۔تُو نے کیوں اپنے دِل میں اس بات کا خیال باندھا؟ تُونے آدمیوں سے نہیں بلکہ خُدا سے جُھوٹ بولا۔ 5۵۔ یہ باتیں سُنتے ہی حَنَنَؔیاہ گر پڑا اَور اُس کا دَم نِکل گیا اَور سب سُننے والوں پر بڑا خَوف چھا گیا۔ 6۶۔ پِھر جَوانوں نے اُٹھ کر اُسے کَفَنایا اَور باہَر لے جا کر دفنایا۔7۷۔ اَور تَقْرِیباً تین گھنٹے گُذر جانے کے بعد اُس کی بیوی اِس ماجرے سے بے خَبر اندر آئی۔ 8۸۔ پَطْرَس نے اُس سے کہا مُجھے بتاکہ کیا تُم نے اِتنے ہی میں زَمِین بیچِی تھی؟ اُس نے کہا ہاں۔ اِتنے ہی میں۔9۹۔ پَطْرَس نے اُس سے کہا تُم نے کیوں خُداوند کے رُوح کو آزمانے کے لئے ایکا کِیا؟ دیکھ تیرے شَوہر کو دفنانے والے ہنوز دروازہ پر کھڑے ہَیں اَور تُجھے بھی باہَر لے جائیں گے۔ 10۱۰۔ وُہ اُسی وقت اُس کے قدموں پر گر پڑی ۔اَور اُس کا دَم نِکل گیا اَور جَوانوں نے اندر آ کر اُسے مُردہ پایا اَور باہَر لے جا کر اُس کے شوہَر کے پِہلَو میں دَفنا دِیا۔ 11۱۱۔ اَور ساری کَلِیسِیا اَور اِن باتوں کے سب سُننے والوں پر بڑا خَوف چھا گیا۔12۱۲۔ اَور رسُولوں کے ہاتھوں لوگوں کےدرمیان بُہُت سے نِشان اَور عَجِیب کام ظاہِر ہوتے تھے۔ اَور وہ سب ایک دِل ہو کر سُلَؔیمان کے برآمدہ میں جمع ہُؤاکرتے تھے۔ 13۱۳۔ لیکن باقی لوگوں میں سے کِسی کو حَوصَلہ نہ ہُؤا کہ اُن میں جا ملِے۔ مگر لوگ اُن کی بَڑائی ضُرُور کرتے تھے۔14۱۴۔ اَور اِیْمان لانے والے مرَدوزَن پَطْرَس میں بڑتے جا رہے تھے۔ 15۱۵۔ یہاں تک کہ لوگ بیماروں کو سڑکوں پر لا لا کر چارپائیوں اَور کھٹولوں پر لِٹا دیتے تھے تاکہ جب پَطْرَس آئے تو اُس کا سایہ ہی اُن میں سے کِسی پر پڑ جائے۔ 16۱۶۔ اَور یروُشلِیم کی چاروں اَطْراف کے شَہْر وں سے بھی لوگ کَثْرَت سے بیماروں اَور ناپاک رُوحوں کے سَتائے ہُوؤں کو لے کر جَمْع ہُؤا کرتے تھے اَور وُہ سب اچھے کر دِئے جاتے تھے۔17۱۷۔ پِھر سَردار کاہَن اَور اُس کے سب ساتھی جو صدُقیوں کے فِرقہ سے تَعَلُّق رَکھتےتھے حَسد سے بھرے ہُوئے اُٹھے۔ 18۱۸۔ اَور رسُولوں پر ہاتھ ڈال کر گِرِفْتار کِیا اَور اُنہیں عام سے قَید خانَہ میں ڈال دِیا۔19۱۹۔ مگر خُداوند کے ایک فرِشتہ نے رات کو قَید خانہ کے دروازے کھولے اَور اُنہیں باہَر لا کر کہا کہ 20۲۰۔ جاؤ اور ہَیکَل میں کھڑے ہو کر اِس زِنْدَگی کے کلام کی سب باتیں لوگوں کو بتاؤ۔ 21۲۱۔ وہ یہ سُن کر صُبْح ہوتے ہی ہَیکَل میں گئے اور تَعْلِیم دینے لگے مگر سَردار کاہَن اَور اُس کے ساتھیوں نے آ کر عَدالَتِ عالِیَہ اَور بَنی اِسرائِیْل کے سب بزُرگوں کو جمع کِیا اَور قَیدخانَہ میں کہلا بھیجا کہ اُنہیں لائیں۔22۲۲۔ لیکن جوافسران قَید خانَہ میں گئے اُنہیں وہاں نہ پا کر واپَس لَوٹ کر اُن کے نہ مِلْنے کی خَبَر دِی۔ 23۲۳۔ اَور کہا کہ ہم نے قَید خانَہ کو تو بڑی خِفاظَت سے بند کِیا ہُؤا اَور پَہْرے داروں کو باہَر دَروازوں پر کھڑے پایا مگر جب کھولا تو کِسی کو اندر نہ پایا۔24۲۴۔ جب ہَیکَل کے سَردار اَور سَردار کاہَنوں نے یہ باتیں سُنیں تو اُن کے مُتَعَلِّق حَیرَت سے کہنے لگے کہ آخِر اَب کیا ہو گا۔ 25۲۵۔ اِس پر کِسی نے آکر اُنہیں خَبر دِی کہ دیکھو وہ آدَمِی تو ہَیکَل میں کھڑے لوگوں کو تَعْلِیم دے رہے ہَیں جِنِہیں تُم نے قَید خانَے میں ڈالا تھا۔26۲۶۔ تب ہَیکَل کا سَردار اَفسَران کے ہَمراہ جا کر اُنہیں لے آیا لیکِن زَبَردَستِی سے نہیں کیُونکِہ وُہ ڈَرتے تھے کہ کہیں لوگ ہمیں سَنْگسار نہ کر دِیں۔ 27۲۷۔ پِھراُنہیں لا کر عَدالَت میں کھڑا کر دِیااَور سردار کاہِن نے اُن سے یہ کہتے ہُوئے تَفْتِیش کی 28۲۸۔ ہم نے تو تُمہیں حُکْم دِیا تھا کہ اِس نام میں تَعْلِیم نہ دینا تو بھی تُم نے سارے یرُوشلیِم میں اپنی تَعْلِیم پَھیلا دِی ہَےاَور اُس شَخْص کے خُون کی وجہ ہمیں ٹَھْہرانا چاہتے ہو۔29۲۹۔ لیکن پَطْرَس نے رسُولوں سَمیت جَواب میں اُن سےکہا کہ ہم پر اِنسان کی نِسبَت خُدا کی اِطاعَت کرنا زیادہ فَرْض ہَے۔ 30۳۰۔ ہمارے اَجْداد کے خُدا نے یَسُوع کو زِنْدَہ کِیا جِسے تُم نے دار پرلٹکا کر قَتْل کر دِیا تھا۔ 31۳۱۔ اُسی کو خُدا نے حُکْمران اَور مُنْجی کی حَیثِیَت سے اپنے دہنے ہاتھ پر بُلند کِیا تاکہ اِسْرِائِیْل کو تَوبَہ کی تَوفِیق اَور گُناہوں کی مُعَافِی بَخْش دے۔ 32۳۲۔ اَور ہم اِن باتوں کے گَواہ ہَیں اِسی طَرْح رُوحُ القُدس بھی جِسے خُدا نے اُنہیں بَخْشا ہَے جو اُس کی اِطاعَت کرتے ہَیں۔33۳۳۔ وہ یہ سُن کر بَھڑَک اُٹھے اور اِس کوشِش میں لگ گئے کہ کِسی طَرْح اِنہیں قَتْل کر دیں۔ 34۳۴۔ مگر گملی ایلؔ نام کےایک فَرِیسی نے جو شَرِیعَت کا مُعْلَم اَور سب لوگوں میں مُعَزَّز تھا عَدالَت میں کھڑے ہو کر حُکْم دیا کہ اُن آدمِیوں کو تھوڑی دَیر کے لئے باہَر بھیج دو۔35۳۵۔ اَور پِھر اُن سے کہا اَے اِسْرائِیْلیو! دیکھو اِن آدمِیوں کے ساتھ تُم جو کُچھ کرنے کو ہو ذَرا سوچ سَمَجھ کر کرنا۔ 36۳۶۔ کیونکہ اِن دِنوں سے پہلے تھیوداس نے بھی اُٹھ کر دعویٰ کِیا تھا کہ مَیں بھی کُچھ ہُوں اَور تَقْرِیباً چار سَو اَشْخاص اُس کی پَیروی کرنے لگے مگر جب وہ مارا گیا تو جِتْنے اُس کے پَیروکار تھے سب تِتَّر بِتَّر ہوکراَور خَتْم ہوگئے۔ 37۳۷۔ اِس شَخْص کے بعد یَہُوداہ گلیلی بھی مَردُم شُماری کے اَیّام میں اُٹھا اَور اُس نے بھی کُچھ لوگ اپنی طرف کھِیْنچ لئے۔وہ بھی ہلَاک ہو گیا اَور جتنے اُس کے پَیروکار تھے وہ سب بھی تِتَّر بِتَّر ہو گئے۔38۳۸۔ چُنان٘چِہ اَب مَیں تو تُم سے یَہی کہتا ہُوں کہ اِن اَشْخاص سے کِنارَہ کرو اَور اُن سے کوئی سروکارنہ رکھو۔ کیونکہ اگر یہ تَدْبِیر یا کام آدمِیوں کی طرف سے ہَے تو اَز خُود برَباد ہو جائے گا۔ 39۳۹۔ لیکِن اگر خُدا کی طرف سےہے تو تم اسے مَغْلُوب نہیں کر سکتے ورنہ تُم خُدا کا مُقابلہ کرنے والے ٹھہروگے۔ اِس پر اُنہوں نے اُس کی بات مان لی۔40۴۰۔ اَور رَسُولوں کو بلوا کر مار ِپیٹ کی اَور اُنْہیں یہ حُکم دے کر چھوڑ دِیا کہ یَسُوع کا نام ہَر گز تُمہارےلَب پر نہ آئے۔ 41۴۱۔ چُنان٘چِہ وہ عَدالَت سے اِس بات پر خوشی خوشی چلے گئے کہ ہم اِس نام کی خاطِر بے عِزَّت ہونے کے لائِق تو ٹھہرے۔ 42۴۲۔ اَور اُس کے بعد وہ ہَر روز ہَیکَل میں اَور گَھر گَھر یہ تَعْلِیم اَور بَشارَت دینے سے باز نہ آئے کہ یَسُوع ہی المَسِیح ہَے۔
61۱۔ اُن دِنوں جب شاگِردوں کا شُمار بڑھتا چلا جا رہا تھا یوُنانی عِبرانیوں پر کُڑکُڑانے لگے کیونکہ اُن کی بیواؤں کی خبر گیری میں روزانہ غفلت برتی جاتی تھی۔2۲۔اِس پر اُن بارہ نے شاگردوں کی جماعت کا اِجلاس بُلا کر اُن سے کہا۔ یہ بات تو نہ مُناسب ہے کہ ہم خُدا کے کلام کو چھوڑ کر دستر خوان کے اِنتظام میں لگ جائیں۔ 3۳۔ چنانچہ اَے بھائیو!اپنے میں سے سات نیک نام اِشخاص چُن لوجو رُوح القُدس اور حِکمت سے معمُور ہوں ۔تاکہ ہم اُنہیں اِس کام پر مُقرر کریں۔ 4۴۔ اوراب ہم خُود مُستقل طور پر دُعا اَورکلام کی خدمت میں مَشغُول رہیں گے۔5۵۔ یہ بات ساری جماعت کو پسند آئی اور اُنہوں نے ستِفَنُؔؔس نامی ایک شخص کو چُن لیا جو اِیمان اَوررُوح القُدس سے معمُور تھا۔اَورساتھ ہی فِلِپُّس اور پرُخُرؔس اور نِیکاؔنور اور تِیموؔن اور پرمنؔاس اور اِنؔطاکیہ کے ایک نومُرید یہودی نیکُلاؤؔس کو بھی۔ 6۶۔ اَور اِنہیں رسُولوں کے سامنےپیش کِیا۔ اُنہوں نے دُعا کر کے اُن پر ہاتھ رکھّے۔7۷۔ اَور خُدا کا کلام پھیلتا رہااَوریرُوشلیِؔم میں شاگِردوں کاشُماربُہت بڑھتا گیابلکہ کاہِنوں کا ایک بڑاگِروہ بھی دِین کے ماتحت ہوگیا۔8۸۔ اورستِفَنُس فضل اَورقُوٗت سے معمُورہو کر لوگوں کے درمیان بڑےبڑےعجائب و مُعجزات دِکھایا کرتا تھا۔ 9۹۔ کہ اُس عِبادت خانہ سے جو لِبرتِینوں کا عِبادت خانہ کہلاتا ہے اور کُریِنیوں اور اِسکندریوں اور اُن مَیں سے جو کِلِکیہ اور آسِیہ سے تھے بعض لوگ اُٹھ کر سِتفِنُس سے تکرار کرنے لگے۔10۱۰۔ مگروہ اُس دانائی اور رُوح کا جِس سے وہ کلام کرتا تھا مُقابلہ نہ کرسکے ۔ 11۱۱۔ اِس پر اُنہوں نے بعض اِشخاص کو سِیکھاکر اُن سے یہ کہلوا دِیا کہ ہم نے اِس کو مُوسؔیٰ اَور خُداکے خِلاف کُفریااِلفاظ اداکرتے ہوئےسُنا ہے۔12۱۲۔ اِس پر وہ عوام ، بُزرگان اَور فُقَہا کو اُبھارکر اُس پر چڑھ دوڑے اَور اُسے پکڑ کر صدرعِدالت مَیں لے گئے۔ 13۱۳۔ اَور جھُوٹے گَواہ کھڑے کِئے جِنہوں نےیہ کہا کہ یہ شخص اِس مُقدّس مقام اَور شِریعت کے خِلاف بولنے سے باز نہیں رہتا۔ 14۱۴۔ کیونکہ ہم نے اُسے یہ کہتے سُنا ہَے کہ وہی یِسُوؔع ناصری اِس مقام کو تباہ کردے گااَور اُن رسُوم کو بدل ڈالے گا۔جو مُوسیٰ نے ہم تک پُہنچائیں۔ 15۱۵۔ اَور اُن سب نے جو عدالت مَیں بیٹھے تھے اُس پر غور سے نظر کی تو دیکھا کہ اُس کا چہرہ فرِشتے کا سا ہَے۔
71۱۔  پھر سردار کاہِن نے کہا کیا یہ حقیقت پر مبنی ہَیں؟ 2۲۔ ستِفُنس نے کہا اَے برادران وبزُرگان سُنو!کہ خُدایِ ذُوالجلال ہمارے باپ ابرہاؔم پر تب ظاہرِ ہُؤا جب وہ حاراؔن میں رِہائش اِختِیار کرنے سے پہلے مسوپؔتامیہ میں تھا۔ 3۳۔ اَور اُس سے فرمایا "کہ اپنے وطن اور گھرانے سے نِکل کر اُس سرزمِین کو چلا جا جو مَیں تُجھے دِکھاؤں گا۔"4۴۔ اِس پر کَسدِؔیوں کے وطن سے نِکل کر وہ حاراؔن میں جا بسا اور وہاں سے اُس کے باپ کی وفات کے بعد خُدا نے اُس کو اِس سر زمِین میں لاکر بسا دِیا جِس میں اب تُم آباد ہو۔ 5۵۔ اَور اُسے وہاں کوئی مِیراث بلکہ قدم رکھنے کی جگہ بھی نہ دی مگروعدہ کِیا کہ مَیں یہ سر زمِین تیرے اور تیرے بعد تیری نسل کے قبضہ میں کروا دوں گاحالانکہ اب تک اُس کی کوئی اَولاد نہ تھی۔6۶۔ اَور خُدا نےیُوں فرمایا"کہ تیری نسل کے لوگ دِیارِ غیر میں پردیسی ہو ں گے ۔ اَور وہاں کے باشیِندے اُنہیں غُلام بنا کر چار سَو برسوں تک اُن کے ساتھ بد سلُوکی روا رکھیں گے۔ 7۷۔ پِھر خُدا نے فرمایا"کہ وہ جِس قَوم کی غُلامی میں رہیں گے مَیں اُسےسزا دُوں گا اور اُس کے بعد وہ نِکل کر اِسی جگہ میری عِبادت کریں گے۔ 8۸۔ پِھر خُدا نے ابرہاؔم سےخَتنہ کا عہد باندھا چُنانچہ ابرہاؔم سے اِضحاؔق پَیدا ہُؤا اور آٹھویں دِن اُس کا خَتنہ کِیا گیا ،اِسی طرح اِضحاؔق سے یعقُوبؔ پیدا ہُوا اور یعقُوبؔ سے بارہ قبائل کے بزُرگان پَیدا ہُوئے۔9۹۔ بزُرگان حاسد تھے اِس لئے اُنہوں نے یُوسؔف کو بیچ ڈالا کہ وہ مِصؔر پُہنچ جائے پر خُدا اُس کے ہمراہ تھا۔ 10۱۰۔ اَور اُس نے اُس کی سب مُصِیبتوں سے اُسے چُھڑایا اَور مِصؔر کے بادشاہ فِرعُوؔن کے حضُور مقبولیِت اَور حِکمَت بخشی اَور اُس نے اُسے مؔصر کا حکمران اَور اپنے سارے گھر کا مُختار بنادِیا۔11۱۱۔ پِھرمِصؔر کی ساری مُملکت اور کنعؔان کی سرزمِین میں سخت کال پڑا اور بڑی مُصِیبت آئی اور ہمارے اَجداد کو خوراک نہ ملتی تھی۔ 12۱۲۔ جب یَعقُوبؔ نے سُنا کہ مِصؔر میں اناج موجُود ہَے تو ہمارے اَجداد کو پہلی بار روانہ کِیا ۔ 13۱۳۔ اَوراُن کے دوسرے دورے پر یُوسفؔ نے خُود کو اپنے بھائیوں پر ظاہِر کر دِیا ِاِس طرح فرِعوؔن نے یُوسؔف کے خاندان کو بھی جان لِیا۔14۱۴۔ پِھر یُوسؔف نے اپنے بھائیوں کو واپس روانہ کِیا کہ اُس کے باپ یعقوبؔ اور اُس کے خاندان کے تمام اَفراد جِن کی تعداد پچھتّر تِھی مصؔر کو بُلا لائیں ۔ 15۱۵۔ پِھر یعقُوبؔ مِصؔر میں گیااور وہ اور ہمارے اَجدادوفات وہیں وفات پاگئے۔ 16۱۶۔ اور وہ شہرِ سِکؔم میں پُہنچائے گئے اور اُس مقبرہ میں دفن کئے گئے جِس کو ابرہامؔ نے سِکمؔ میں رُوپیہ دے کر بنی ہمونؔ سے خرید لِیاتھا۔17۱۷۔ لیکن جب اُس وعدہ کی تکمیل کا وقت قریب آیا جو خُدا نے ابراہامؔ سے کِیا تھا تو وہ قوم مَصرؔ میں بڑھ گئی اور اُن کی تعداد زِیادہ ہوتی گئی۔ 18۱۸۔ اُس وقت تک کہ مِصرؔ میں ایک نیا بادشاہ اُٹھا جو یُوسؔف سے نہ واقف تھا۔ 19۱۹۔ اُس نے ہماری نَسل کوفریب دےکرکےہمارے اَجداد کو یہاں تک ستایاکہ اُس نے اُن کے شِیر خوار لڑکوں کو پھنکوایاتاکہ وہ زِندہ نہ رہیں۔20۲۰۔ اِسی دوران مُوسؔیٰ پَیدا ہُوا جو خُدا کے حُضورنِہایت پسندیدہ تھا۔ وہ تِین مہیِنے تک اپنے باپ کےگھر میں پرورش پاتا رہا۔ 21۲۱۔ جب اُسے ہاہر رکھ دِیا گیا تو فرِعُونؔ کی بیٹی نے اُسے گود لے لِیااور اپنے بیٹے کے طور پر پالا۔22۲۲۔ اَور مُوسؔیٰ مِصؔریوں کی تمام حِکمَت میں تعلیم یافتہ تھا اَوراپنے کلام اَورکام میں قَوی تھا۔ 23۲۳۔ اور جب وہ تقریباًچالِیس برس کا ہوگیا تواُس کےدِل میں یہ خیال پیدا ہُؤاکہ جاکراپنےبھائیوں بنی اِسرؔائیل کا حال دریِافت کروں۔ 24۲۴۔ چُنانچہ اُن میں سے ایک اِسرائیلؔی کو ظُلم سہتے دیکھ کر اُس کا دِفع کیا اور مِصؔری کو مار کرمظلُوم کا بدلہ لِیا۔ 25۲۵۔ اُس نے تو یہ سوچا کہ میرے بھائی یہ سمجھ لیں گے کہ خُدا میرے ہاتھوں اُنہیں آزادی دے گا مگر وہ یہ نہ سمجھے۔26۲۶۔ پِھر دُوسرے دِن وہ اُن کے پاس آنِکلاجوآپس میں لڑ رہے تھے اور اُن کو یہ کہہ کر صُلح کی ترغیِب دی کہ اَے جوانو! تُم تو بھائی بھائی ہو۔ ایک دُوسرے پر کیوں ظُلم کرتے ہو؟ 27۲۷۔ لیکن جو اپنے پڑوسی پر تشدّد کر رہا تھا اُس نے یہ کہہ کر اُسے پِیچھے ہٹا دِیاکہ تُجھے ہم پر کِس نے حاکِم اور قاضی مُقرّر کِیاہے؟ 28۲۸۔ کیا جِس طرح کَل تُو نے اُس مصؔری کو مار ڈالا مُجھے بھی مار ڈالناچاہتا ہَے؟۔29۲۹۔ یہ بات سُنتے ہی وہاں سے مُوسؔیٰ بھاگ گیا اَور مِدیاؔن کے مُلک میں بطور پردیسی رہنے لگا۔ اَور وہاں اُس کے دو بیٹے پیداہُوئے۔ 30۳۰۔ اَورجب چالیِس برس گُزر گئے۔ تواُسے کوہِ سیِؔناکے بِیابان کے درمِیان ایک جلتی ہُوئی خاردار جھاڑی کے شُعلہ میں ایک فرِشتہ دِکھائی دِیا۔31۳۱۔ جب موؔسیٰ نے آگ پر نظر کی تو اُس نظّارہ پرتعجُّب کِیا اور جب دیکھنے کو نزدِیک گیا تو خُداوند کی آواز آئی۔ 32۳۲۔ کہ مَیں تیرے آباؤ اَجداد یعنی ابرہاؔم اور اِضحاؔق اور یعقُوؔب کا خُدا ہُوں ۔تب تو مُوسؔیٰ کانپ اُٹھا اور اُس میں اُس نظارے کودیکھنے کی جُرات نہ رہی۔33۳۳۔ اِس پر خُداوند نے اُس سے کہا کہ اپنے پاؤں سے جوُتی اُتار دے کیونکہ جِس مُقام تُو کھڑا ہے یہ زمِین پاک ہے۔ 34۳۴۔ مَیں نے واقِعی اپنے لوگوں کی مُصِیبت دیکھی جو مِؔصر میں ہیں اور اُن کا آہ و نالہ بھی سُنا چُنانچہ میں اُنہیں چھُڑانےکے لئے اُترا ہُوں۔اب آتو مَیں تُجھے مِصؔر میں بھیجُوں گا۔35۳۵۔ جِس مُوسؔیٰ کا اُنہوں نے یہ کہہ کی اِنکار کِیا تھا کہ تُجھے ہم پر حاکِم اور مُنصِف کِس نے مُقرّر کِیا ہے؟اُسی کو خُدا نے حاکِم اور چُھڑانے والا بنا کر اُس فرِشتہ کے ذریعہ بھیجا جو اُسے جھاڑی میں دکھائی دِیا تھا۔ 36۳۶۔ وہی مُوسؔیٰ اُنہیں مِؔصر سے نِکال لایا۔اَور مِصؔرمیں اَوربُحیرہ قُلزؔم پراَوربِیابان میں چالِیس برسوں تک عجائب و معجزات ظاہر کرتا رہا۔ 37۳۷۔ یہ وہی مُوؔسیٰ ہَے جِس نے قومِ اِسرائؔیل سے کہا تھاکہ خُداتُمہارے لئے مُجھ سا ایک نبی تُمہارےبھائیوں ہی میں سے بَرپاکرےگا۔38۳۸۔ یہ وہی موؔسیٰ ہے جو بِیابان کی کلیسیامیں اُس فرِشتے کے ساتھ تھا جو کوہ سِیناپر اُس سے ہم کلام ہُؤا تھا۔ اورہمارے باپ دادا کے ساتھ بھی تھا۔مُوؔسیٰ نے اُسی سے کلام ِحیات پایاکہ ہم تک پُہنچا دے۔ 39۳۹۔ مگر ہمارے باپ دادانے اُس کے فرمانبردارہونانہ چاہابلکہ اُسےرِدّکر دِیا اَوراُن کے دِل مِؔصرکی طرف مائِل ہوگئے۔ 40۴۰۔ اور اُنہوں نےہارُؔون سے کہا کہ ہمارے لئے ایسے معبُود بنا جو ہمارے آگے آگے چلیں کیونکہ یہ مُوسؔیٰ جو ہمیں مُلکِ مِصؔر سے نِکال لایا ہم نہیں جانتے کہ اُس کاکیا بنا ۔41۴۱۔ اَور اُن ایّام میں اُنہوں نے ایک بچھڑا بنایا اور اُس بُت کے آگے قُربانی چڑھائی اور اپنے ہاتھوں کے کاموں کی خُوشی منائی۔ 42۴۲۔ چُنانچہ خُدا نے اپنا مُنہ پھیرکر اُنہیں چھوڑدِیاکہ آسمان کے لشکر کو پُوجیں جیساکہ انبِیاءکی کِتاب میں لِکھا ہَے کہ اَے اِسرائیل کے خاندان ۔کیا تُم نے بِیابان میں چالیس برسو ں تک۔میرےآگےقُربانیاں اَور نَذَریں گزُرانیں؟43۴۳۔ بلکہ تُم تو مولک کے خَیمہ اور رفاؔن دیوتا کے تارے کو لِئے پھرتے تھے۔یعنی اُن مُورتوں کو جِنہیں تُم نے سِجدہ کرنے کےلئے بنایا تھا۔44۴۴۔ شہادت کا خَیمہ بِیابان میں ہمارے باپ دادا کے پاس تھا جَیسا کہ مُوسؔیٰ سے کلام کرنے والے نے حُکم دِیا تھا کہ جو نمُونہ تُو نے دیکھا ہے اُسی کے مُطابق اِسے بنا۔ 45۴۵۔ اُسی خَیمہ کو ہمارے اَجداد حاصِل کر کے یشُوع کی قَیادت میں وہاں لائے ۔جِس وقت اُن قَوموں کی مِلکیّت پر قبضہ کِیا جِن کو خُدا نے ہمارے اِجداد کے سامنے سے خارِج کر دِیا تھا اور وہ داؤد کے زمانہ تک رہا۔ 46۴۶۔ اُس پر خُدا کی طرف سے فضل ہُؤا اور اُس نے درخواست کی کہ کاش !مَیں یعقُوبؔ کے خُدا کے واسطے مَسکن تَعمیر کر سکُوں ۔47۴۷۔ مگر اُس کے لئے گھر سُلیمؔان نے بنایا۔ 48۴۸۔ لیکن باری تعالیٰ ہاتھ کے بنائے ہُؤئے گھروں میں نہیں رہتا چُنانچہ نبی فرماتا ہے کہ 49۴۹۔ خُداوند فرماتا ہے کہ آسمان میرا تخت اور زمِین میرے پاؤں تلے کی چَوکی ہے۔تُم میرے لِئے کَیسا گھر بنا سکتےہو یا میری آرام گاہ کَون سی ہے؟ 50۵۰۔ کیا یہ سب چِیزیں میرے ہاتھ نے نہیں بنائیں؟51۵۱۔ اَے گردن کِشو اوردِل اور کان کے نامختُونو! تُم ہر وقت رُوح القُدس کی مُخالِفت کرتے رہتے ہو بالکل اُسی طرح جَیسے تُمہارے آباؤ اَجداد بھی کِیا کرتے تھے ۔ 52۵۲۔ انبِیا میں سے تُمہارے آباو اَجداد نے کِسے نہیں ستایا؟ اُنہوں نے تو اُس راست باز کی آمد کی پیش گوئی کرنے والوں کو قتل کِیا اور اب تُم اُس کے پکڑوانے والے اور قاتِل ٹھہرے ۔ 53۵۳۔ تُم نے فرِشتوں کی معرفت شرِیعت تو پائی لیکن اُس پر عمل نہ کِیا۔54۵۴۔ جب اُنہوں نے یہ باتیں سُنِیں تو جی میں جَل گئے اور ستِفَنُس پر دانت پِیسنے لگے۔ 55۵۵۔ مگر ستِفَنُس نے رُوحُ القُدس سے معمُور ہوکر آسمان کی طرف غَور سے نظر کی اور خُدا کے جلال اور یِسُوعؔ کو خُدا کی دہنی طرف کھڑا دیکھ کر۔ 56۵۶۔ کہا کہ دیکھو! مَیں آسمان کو کُھلااور اِبنِ آدمؔ کو خُدا کی دہنی طرف کھڑا دیکھ رہاہُوں۔57۵۷۔ اِس پر اِرکانِ مجلس نے بڑے زورسے چِلّاکر اپنے کان بند کر لئے اَور یک دِل ہوکراُس پر لپکے۔ 58۵۸۔ لیکن وہ اُسے شہر سے باہر لے جاکر سنگسار کرنے لگے اور گواہوں نے اپنےملبُوسات ساؤؔل نام ایک جوان کے پاؤں کے نزدیک رکھ دِئے ۔59۵۹۔ جب وہ ستِفَنُس کو سنگسار کرتے رہے تھے تب وہ یہ کہہ کر دُعا کرتا رہا کہ اَے خُداوند یِسُوعؔ ! میری رُوح کو قبُول کر۔ 60۶۰۔ پِھر اُس نے گُھٹنے ٹیک کر بڑی آواز سے پُکارا کہ اَے خُداوند! یہ گُناہ اِن کے سرنہ لگا اور یہ کہہ کر سوگیا۔
81۱۔ اُسی دِن اُس کَلِیسِیا پر جو یروشلِیؔم میں تھی بڑا ظُلْم بَرپا ہُؤا اَور رسُولوں کے سِوا سب لوگ یَہُودِیَّہ اَور سَامِرِیہ کی اَطراف میں تتَِّر بِتَّر ہوگئے۔ 2۲۔ اَور عِبادَت گُزاروں نے ستِفنُسؔ کو دفنایا اَور اُس پر بڑا ماتَم کِیا۔ 3۳۔ اَور ساؤُؔل کَلِیسِیا کو اِس طرح تَباہ کرتا رہا کہ گَھر گَھر گُھسْنا اَورمَردوں اَور عَورَتوں کو گَھسِیٹ گَھسِیٹ کر قَید کراتا تھا۔4۴۔ چُنان٘چِہ جو اِیْماندار تتَِّر بِتَّر ہو گئے تھے وہ کلام سُناتے رہے۔ 5۵۔۔ اَور فِلپُّؔس شہرِ سَامِرِیہ میں جا کر لوگوں میں مَسِیْح کی مُنادی کرنے لگا۔6۶۔ اَور جو مُعْجِزَاْتْ فِلپُّؔس دکھاتا تھا لوگوں نے اُنہیں سُن اَور دیکھ کر مُتَّفِقَہ طور پر اُس کی باتوں پر جی لگایا۔ 7۷۔ کیونکہ بہت سے لوگوں میں ناپاک رُوحیں تھیں اَور وہ بڑی آواز سے چِلّا کر نِکل گئیں اَور بہت سے مَفلُوج اَور شِفایاب ہؤئے۔ 8۸۔ اِس لئے اُس شہرمیں بڑی خُوشی ہُؤئی۔9۹۔ لیکِن اُس سے پہلے شمعُؔون نامی ایک شَخْص اُس شہر میں جادُوگری کرتاتھا اَور اُس نے سَامِرِیہ کے لوگوں کو حَیرت میں ڈال رکھا تھااَور اُس کا دعوہٰ تھا کہ وہ بھی کوئی خاص شَخْص ہَے۔ 10۱۰۔ اَور چھوٹے سے بڑے تک سب سَامِرِی اُس کی سُن سُن کر یہ کہتے تھے کہ یہ شَخْص خُدا کی وہ قُدْرَت ہَے جو بڑی قُدْرَت کہلاتی ہَے۔ 11۱۱۔ وہ اِس لئے اُس کی طرف مُتَوَجّہ رہتے تھے کہ اُس نے بڑی مُدَّت سے اپنے جادُو کے سَبَب سے اُن کو حَیران کر رکھا تھا۔12۱۲۔ لیکِن جب اُنہوں نے فِلپُّؔس کا یَقِین کِیا جو خُدا کی بادشاہی کی اِنْجِیل اَور یَسُؔوع مَسِیْح کے نام کا پَرْچَار کِیا کرتاتھا۔ تو سب مَرد و زَن بَپْتِسْمَہ لینے لگے۔ 13۱۳۔ یَہاں تک کہ شمعُؔون خود بھی اِیْمان لے آیا اَور بَپْتِسْمَہ لے کر فِلپُّؔس کے ساتھ رہنے لگا۔ اَور عَجائِب اَور بڑے بڑے مُعْجِزَاْتْ دیکھ کر حَیران رہ گیا۔14۱۴۔ ۔جب رسُولوں نے جو یروشلِیم میں تھے سُنا کہ سَامِریوں نے بھی خُدا کا کلام قُبُول کِیا ہَے تو اُنہوں نے پَطْرَسؔ اَور یُوحنّؔا کو اُن کے پاس بھیجا۔ 15۱۵۔ جب وہ وہاں پَہُنْچے تو اُنہوں نے دُعا کی کہ وہ رُوحُ الْقُدس پائیں۔ 16۱۶۔ کیونکہ رُوحُ الْقُدس اب تک اُن میں سے کِسی پر نازِل نہ ہُؤا تھا لیکِن اُنہوں نے صِرْف خُداوَنْد یَسُؔوع کے نام پر بَپْتِسْمَہ پایا تھا۔ 17۱۷۔ تب یُوحنّؔا اَور پَطْرَسؔ نے اُن پر ہاتھ رکھے اَور اُنہوں نے رُوحُ الْقُدس پایا۔18۱۸۔ جب شمعُؔون نے یہ دیکھا کہ رسُولوں کے ہاتھ رکھنے سے رُوحُ الْقُدس دِیا جاتا ہَے تواُس نے رُوپے پیش کرکے اُن سے 19۱۹۔ کہا کہ مُجھے بھی یہ اِخْتِیار دو۔ کہ جِس کِسی پر مَیں ہاتھ رَکُّھوں وہ رُوحُ الْقُدس پائے۔20۲۰۔ پَطْرَسؔ نے اُس سے کہا تیرے رُوپے تیرے ساتھ ہی غارَت ہوں کیونکہ تُو نے یہ سوچا کہ خُدا کی بَخْشِش رُوپَیوں سے حاصِل ہوسکتی ہے۔ 21۲۱۔ تیرا اِس اَمَر میں نہ تو کوئی حِصَّہ ہَے اَور نہ بَخْرہ کیونکہ تیرا دِل خُدا کے حُضُور خالِص نَہِیں۔ 22۲۲۔ چُنان٘چِہ تُو اپنی اِس شَرارَت سے تَوبَہ کر اَور خُدا سے مِنَّت کر تاکہ تیرے دِل کے اِس خیال کی مُعَافِی مُمکِن ہو جائے۔ 23۲۳۔ اِس لئے کہ مَیں یہ دیکھتا ہُوں کہ تُو زَہْر کی کَڑْواہَٹ اَور بَدی کے بند میں مُقَیَّد ہَے۔24۲۴۔ ۔شمعُؔون نے جَوابً کہا تُم میرے لئے خُداوَنْد سے دُعا کرو کہ جو باتیں تُم نے کَہیں اُن میں سے کوئی بات بھی میرے ساتھ پیش نہ آئے۔25۲۵۔ جب پَطْرَس اَور یوحنا گواہی دے چُکےاَور خُداوَنْد کا کلام سُنا چُکے تو پھر وہ سامریہ کے مُتعدّد گاؤں میں اِنجیل سُناتے ہوئے یروشلیم کو واپس لوٹ گئے۔26۲۶۔ پھر خُداوَنْد کے ایک فَرِشتَہ نے فِلپُّؔس سے فرمایاکہ اُٹھ اَور جنوب کی طرف اُس سڑک کو جا جو یروشلیم سے غُزّؔہ کو جاتی ہَے اَور وہ سڑک بیابان میں ہَے۔ 27۲۷۔ وہ اُٹھ کر روانہ ہُؤا تو دیکھو ایک حَبْشی خواجَہ سَرا آ رہا تھا۔ جو حَبْشیوں کی مَلِکَہ کنداکے کا ایک با اختیار وزیر اَور اُس کے سارے خزانہ کا مُختار تھا اَور یروشلیم میں عبادت کے لئے آیاہُؤا تھا۔ 28۲۸۔ وہ اپنے رتھ پر بیٹھا اَور یسعیاہ نبی کے صَحِیفَہ کی تِلاوَت کرتا ہُؤا واپس جا رہا تھا۔29۲۹۔ رُوح نے فِلپُّؔس سے فرمایا کہ نَزْدیک جا کر اُس رتھ کے ساتھ ہو لے۔ 30۳۰۔ چُنان٘چِہ فِلپُّؔس اُس کی طرف دَوڑ گیا اَور اُسے یسعیاہ نبی کے صحیفے کی تلاوت کرتے سُنا اَور پوچھا کہ کیا تُو جو کُچھ پڑھ رہا ہَے اُسے سمجھتا بھی ہَے؟ 31۳۱۔ اِس پر اُس نے کہا یہ مُجھ سے کیسے ہو سکتا ہَے جب تک کوئی میری راہنُمائی نہ کرے؟ تب اُس نے فِلپُّؔس کو رتھ پر آ بیٹھنے کی درخواست کی۔32۳۲۔ اب کتابِ مُقدس کی جس عِبارَت کی وہ تِلاوَت رہا تھا یہ تھی کہ اُسے بِھیڑ کی طَرْح ذَبْح خانے میں لے جایا گیا اَور جِس طرح بِرَہ اپنے بال کترنے والے کے سامنے خاموش رہتا ہَے اُسی طرح اُس نے اپنا مُنہ نہ کھولا۔ 33۳۳۔ اُس کی پست حالی میں اُسے اِنْصاف حاصِل نہ ہُؤا اَور کون اس کی نسل کا حال بیان کرے کیونکہ زمین پر سے اُس کی زِنْدَگی مِٹا دی گئی۔34۳۴۔ خواجَہ سَرا نے فِلِپُّؔس کو مُخاطَب کرتے ہوئے کہا، مَیں تیری مِنّت کرتا ہُوں مُجھے بتا! کہ نبی یہ بات کِس کے مُتَعَلِّق فَرْماتاہَے۔اپنے یا کِسی اَور کے؟ 35۳۵۔ فِلپُّؔس نے اپنی زَبان کھول کر اُسی نوِشتہ سے شُرُوع کر کے اُسے یِسُؔوع کی اِنْجِیل سُنائی۔36۳۶۔ اَور راہ چلتے چلتے وہ کِسی پانی والے مَقام پر پَہُنْچے۔ تب خواجَہ سَرا نے کہا کہ دیکھ پانی مَوجُود ہَے اَب مُجھے بَپْتِسْمَہ پانے سے کونسی چیز روک سکتی ہَے ؟ 37۳۷۔ چُنان٘چِہ فِلِپُّؔس نے فَرْمایا کہ اگر تُو دِل و جان سے اِیمان لائے توتُو بَپْتِسْمَہ پاسکتا ہَے۔ اُس نے جواب میں کہا مَیں اِیْمان لاتا ہُوں کہ یِسُؔوع مِسیح اِبنِ خُدا ہَے۔ 38۳۸۔ چُنان٘چِہ حَبشی نے رتھ کو روکنے کا حُکْم دِیا اَور فِلِپُّؔس اَور خوجَہ سَرا دونوں پانی میں اُتر گئےاَور فِلِپُّؔس نے اُسے بَپْتِسْمَہ دِیا ۔39۳۹۔ جب وہ پانی سے نِکل کر اُوپر آئے تو خُداوَنْد کا رُوح فِلِپُّؔس کو اُٹھا کرلے گیا اَور خوجَہ سَرا نے اُسے پھر نہ دیکھا لیکِن وہ خُوشی خُوشی اپنی راہ چلا گیا۔ 40۴۰۔ لیکِن فِلِپُّؔس اشدُؔود میں ظاہر ہُوا اَور قَیصَر یہ میں پَہُنْچنے تک سب شَہْروں میں اِنْجِیل سُناتا گیا۔
91۱۔ لیکن ساؤل ؔجو ابھی تک خُداوند کے شاگِردوں کو دھمکانے اور قتل کرنے کی دُھن میں تھا سردار کاہِن کے پاس حاضر ہُؤا۔ 2۲۔ اَور اُس سے دمِشق کے عِبادت خانوں کے لِئے اِس مضمُون کے خَطوط مانگے کہ جِنہیں وہ اِس طرِیق پر پائے خواہ مَردہو خَواہ عَورت اُنہیں باندھ کر یروشلیِؔم میں لائے۔3۳۔ جب وہ سفر کرتے کرتے دمِشق کے نزدیک پُہنچا تو اَیسا ہُؤا کہ یکایک آسمان سے ایک نُور اُس کے چوگِرد آچمکا۔ 4۴۔ اور وہ زمِین پر گِر پڑا اوراُس نے یہ آواز سُنی کہ اَے ساؤؔل اَے ساؤؔل ! تُو مُجھے کیوں ستاتا ہے؟5۵۔ جوابً ساؤؔل نے پُوچھا اَے خُداوند ! تُو کَون ہے؟اُس نے کہا مَیں یِسُوعؔ ہُوں جِسے تُو ستاتا ہے۔ 6۶۔ مگر اب تُو اُٹھ اور شہر میں داخل ہو اور جو تُجھے کرنا لازِم ہوگا وہ تُجھےسے کہہ دِیا جائے گا۔ 7۷۔ جو آدمی اُس کے ساتھ سفر کر رہے تھے وہ چُپ چاپ کھڑے تھے کیونکہ وہ آوازتو سُن رہے تھے مگر کِسی کو دیکھ نہ رہے تھے۔8۸۔ اَور ساؤؔل زمِین سے اُٹھا لیکن جب اُس نے آنکھیں کھولیِں تو اُس کو کُچھ دِکھائی نہ دِیا اور وہ لوگ اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے دمِشق لے گئے۔ 9۹۔ اَور وہ وہاں تِین روز تک نہ دیکھ سکا اَور نہ اُس نے کُچھ کھایا نہ پِیا۔10۱۰۔ اب دمِشق میں ایک شاگِرد جِس کا نام حننیاؔہ تھا۔ خُداوند نے رویا میں اُس سے فَرمایاکہ "اَے حننیاؔہ ! "اُس نے کہا "اِے خُداوند دیکھ میں حاضِر ہُوں!۔" 11۱۱۔ خُداوند نے اُس سے فرمایا کہ اُٹھ ۔ اور اُس گلی میں جا جو سیِدھی گلی کہلاتی ہے اور یہُوداؔہ کے گھر میں ساؤؔل نا می ترسی کا پوُچھ لے کیونکہ دیکھ وہ دُعا کر رہا ہے۔ 12۱۲۔ کیونکہ اُس نے رویا میں حننؔیاہ نام ایک شخص کو اندر آتے اور اپنے اُوپر ہاتھ رکھتے دیکھاہےتاکہ پِھر سے بینا ہو جائے۔13۱۳۔ مگر حننؔیاہ نے جوابً کہا کہ اَے خُداوندمیں نے بُہت لوگوں کی زبانی اُس شخص کے مُتعلِق سُن رکھا ہَے کہ اُس نے یروشلؔیِم میں تیرے مُقدّسیِن کو کیا کیا تکالیِف پُہنچائی ہَیں ۔ 14۱۴۔ اِور یہاں کے لئے بھی اُس نے سردار کاہِنوں کی طرف سے اِختِیارپایا ہَے کہ اُن سب کو قید کرے جو تیرا نام لیتے ہَیں۔ 15۱۵۔ مگر خُداوندنے اُس سےیہ فرمایا کہ تُوجاکیونکہ یہ میراچُناہُؤا وہ وسیِلہ ہَے جو میرا نام غیراقوام ،سلاطین اَوربنی اِسراؔئیل پر ظاہر کرےگا ۔ 16۱۶ اَور مَیں اُس پر ظاہر کر دُوں گا کہ میرے نام کی خاطر اُسے کیا کیا تکالیِف برداشت کرنا پڑیں گی۔17۱۷۔ تب حننؔیاہ روانہ ہُؤا اَور اُس گھر میں داخِل ہُؤا اَور اُس پر ہاتھ رکھ کر کہااَے بھائی ساؤؔل۔ خُداوند یعنی یِسُوؔع نے مُجھے بھیجا ِہَے جو تُجھ پر اُس راہ میں ظاہر ہُؤا جِس سے تُوآیا تھا۔تاکہ تُو پھر سے بِینائی پائے اَور رُوحُ القُدس سے معمُورہو جائے۔ 18۱۸۔ اِ س پر ساؤؔل کی آنکھوں پر سے فی الفورایک جِھلّی سی گِرپڑی اَوروہ بِیناہو گیا اور اُٹھ کر بپتِسمہ لِیا۔ 19۱۹۔ پِھر کُچھ کھا کر طاقت پائی۔اور وہ کئی دِن اُن شاگِردوں کے ساتھ رہا جو دمِشق میں تھے۔20۲۰۔ اور فوراً عِبادت خانوں میں یِسُوؔع کی مُنادی کرنے لگا کہ وہ خُدا کا بیٹا ہے۔ 21۲۱۔ اَور اُسے سب سُننے والے حیران ہوکر کہنے لگے کہ کیا یہ وہ نہیں جو یرُوشلِیؔم میں اِس نا م کے پُکارنے والوں کو تباہ کرتاتھا اَوریہاں بھی اِس لئے آیا کہ اُنہیں باندھ کر سردار کاہِنوں کے پاس لے جائے؟ 22۲۲۔ لیکن ساؤؔل مزید قوّی ہوتا گیا۔۔اَوریہ بات ثابت کر کے کہ یِسؔوع ہی مسیح ہَے دَمِشق میں رہنے والے یہودِیوں کو حیران کرتا رہا ۔23۲۳۔ اِس پر کئی دِنوں کے بعدیُہودِیوں نے آپس میں اُسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ 24۲۴۔ لیکن ساؤؔل کو اُن کی سازِش معلوم ہوگئی ۔ کِیونکہ اُنہوں نے رات دِن پھاٹکوں پر نظر رکھی تاکہ اُسے مارڈالیں ۔ 25۲۵۔ لیکن رات کو اُس کے شاگِردوں نےاُسے ٹوکرے میں بِٹھایا اور دِیوار پر سے لٹکا کر اُتار دِیا۔26۲۶۔ جب ساؤؔل یروشلیِم میں پہنچا تو شاگِردوں میں گُھل مِل جانے کی کوشش کی ۔مگر سب اُس سے ڈرتے تھے کیونکہ وہ یقین نہ کرتے تھے کہ یہ بھی شاگِرد ہَے۔ 27۲۷۔ مگر برنباؔس نے اُسے اپنے ہمراہ رسُولوں کے پاس لے جاکراُن سے بیان کِیا کہ اِس نے راہ میں خُداوند کو کِس طرح دیکھا ،اور اُس نے اِس سے کلام کِیا اور یہ بھی کہ اِس نے دمِشق میں کَیسی دلیِری کے ساتھ یِسُوع کے نام سے مُنادی کی۔28۲۸۔ چُنانچہ وہ اُن کے ہمراہ یرُوشلِیم میں اندرباہر آتا جاتا اَور خُداوندکے نام پر دلیری سے کلام کرتا تھا۔ 29۲۹۔ اور وہ یُونانی مائِل یہودیوں کے ساتھ گُفتگُو اور بحث مُباحثہ بھی کِیا کرتا تھا مگروہ اُس کے قتل کی کوشش میں تھے۔ 30۳۰۔ لیکن جب بھائیوں کو یہ خبر مِلی تو وہ اُسے قیصؔریہ میں لے گئےاَور ترسُس کی طرف روانہ کر دِیا۔31۳۱۔ چُنانچہ تمام یہُودؔیہ اور گلیِؔل اور سامرؔیہ میں کلِیسیا کو آرام حاصل ہوگیااور اُس کی ترقّی ہوتی گئی اور وہ خُداوند کے خَوف اور رُوحُ القُدس کی تسلّی پر چلتی اور تعدادًبڑھتی چلی گئی۔ 32۳۲۔ پِھر اَیسا ہُؤا کہ پطرؔس ہر جگہ سفر کرتے کرتے خُدا کے اُن مُقدّسین کے پاس بھی پُہنچا جُو قصبہِ لُدّؔہ میں رہتے تھے۔33۳۳۔ وہاں اُس نے اَینیاؔس نامی ایک مفلُوج کو پایا جو آٹھ برسوں سے چارپائی پر پڑا تھا۔ 34۳۴۔ پطؔرس نے اُس سے فرمایا،اَےاَینؔیاس یِسُؔوع مِسیح تُجھے شِفا دیتا ہے۔اُٹھ اور اپنا بِستر آپ بِچھا ۔وہ فوراً اُٹھ کھڑا ہُؤا۔ 35۳۵۔ تب لُدّؔہ اور شارُوؔن کے سب رہنے والے اُسے دیکھ کر خُداوند کی طرف رجُوع لائے۔36۳۶۔ اور یاؔفا میں ایک شاگردنی تھی جِس کا نام تبِیتا تھا جِس کا تَرجُمہ غزالہ ہے وہ بُہت نیک کام اور خیرات کِیا کرتی تھی۔ 37۳۷۔ اُن ہی دِنوں میں اَیسا ہُؤا کہ وہ بیِمار ہوکر مَرگئی اور اُسے غُسل دے کر بالائی منزل پررکھ دِیا۔38۳۸۔ چُونکہ لُدّؔہ یافا کے نزدیک تھا۔جب شاگرِدوں نے سُناکہ پطؔرس وہاں ہَے تواُس کے پاس دو آدمی بھیج کر درخواست کی کہ ہمارے پاس آنے میں دیر نہ کر۔ 39۳۹۔ پطؔرس اُٹھ کر اُن کے ساتھ چَل دِیا۔ جب پُہنچا تو اُسے بالائی منزل پر لے گئے اور سب بیوائیں روتی ہوئی اُس کے پاس آکھڑی ہوئِیں اور جو کُرتے اور ملبُوسات غزالہ نے اُن کے ساتھ رہ کر بنائے تھے دِکھانے لگِیں۔40۴۰۔ تب پطؔرس نے سب کو کمرے سے باہر بھیج دِیا اور گُھٹنے ٹیک کر دُعا کی ۔ پِھرلاش کی طرف مُتوجّہ ہوکر فرمایااَے تبِیؔتا اُٹھ! پس اُس نے آنکھیں کھول دِیں اور پطرؔس کو دیکھ کر اُٹھ بَیٹھی۔ 41۴۱۔ تب پطؔرس نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسےاُٹھایا اور مُقدّسین اور بیواؤں کو بُلا کر اُسے زِندہ اُن کے سپُرد کر دِیا۔ 42۴۲۔ یہ ماجرہ سارے یافؔا میں مشہُور ہو گیا اور بُہت سے لوگ خُداوند پر اِیمان لے آئے۔ 43۴۳۔ اور یُوں ہُؤا کہ وہ بُہت دِن یاؔفامیں شمعُوؔن نامی ایک دبّاغ کےہاں رہا۔
101۱۔ قیصؔریہ میں کُرنِیلُؔیس نامی ایک شخص تھا جو اُس پلٹن کا ایک صُوبہ دار تھا جو اطالوی پلٹن کہلاتی تھی۔ 2۲۔ وہ دِین دار تھا اور اپنے سارے گھرانے سمیت خُدا سے ڈرتا تھا اور لوگوں کو بہت خَیرات دیتا اور ہر وقت خُدا سے دُعا کِیا کرتا تھا۔3۳۔ اُس نے نویں گھنٹے کے قریب رویا میں صاف صاف دیکھا کہ خُدا کا فرشتہ اُس کے پاس آکر فرماتاہے اےکُرنِیلیُس!۔ 4۴۔ اُس نے اُس کو غَور سے دیکھا اور ڈر کر کہا اے خُداوند یہ کیاہے؟ اُس نے اُس سے فرمایا "تیری دُعائیں اور تیری خَیرات بطوریادگار خُدا کے خضور پہنچیں "۔ 5۵۔ اب تویافا میں آدمی بھیج کر شمعؔون کو جو پطرؔس کہلاتا ہے بُلوا لے۔ 6۶۔ وہ شمعُؔون نامی ایک دباغ کے ہاں مہمان ہے جِس کا گھر سمُندر کے کِنارے ہَے۔7۷۔ اور جب وہ فرِشتہ چلا گیا جِس نے اُس سے باتیں کی تھِیں تو اُس نے دو مُلارمین اور اُن میں سے جو اُس کے پاس حاضِر رہا کرتے تھے ایک دِین دار سِپاہی کو بُلایا۔ 8۸۔ اور اُن سے سب باتیں بیان کر کے اُنہیں یاؔفا میں بھیجا۔9۹۔ وہ دُوسرے دِن جب سفر میں تھے اور شہر کے نزدیک پُہنچے تو پطؔرس چھٹے گھنٹے کے قریب چھت پر دُعا کرنے کو چڑھا۔ 10۱۰۔ اَور اُسے بھُوک لگی اَور وہ کُچھ کھانا چاہتا تھا۔مگر جب لوگ کھانا پکا رہے تھے تووہ وَجد میں آگیا۔ 11۱۱۔  اَور اُس نے دیکھا کہ آسمان کُھل گیا اَور ایک برتن بڑی چادر کی مانند چاروں کونوں سے لٹکاہُؤا آسمان سےزمِین کی طرف اُتر رہا ہَے۔ 12۱۲۔ جِس میں زمیِن کے سب اِقسام کے چَوپائے اور کیِڑے مکُوڑے اورہوا کے پرِندے تھے۔13۱۳۔ تب اُسے ایک آواز سُنائی دی کہ اَے پطرؔس اُٹھ! ذبح کر اور کھا۔ 14۱۴۔ مگر پطرؔس نے کہا اَے خُداوند! ہر گِز نہیں کیونکہ مَیں نے کبھی کوئی حرام یا ناپاک چیز نہیں کھائی۔ 15۱۵۔ پِھراُسے دوبارہ آواز آئی کہ جِن کو خُدا نے حلال ٹھہرایا ہے تُو اُنہیں ہرگزحرام نہ ٹھہرا۔ 16۱۶۔ تِین بار ایسا ہی ہُؤا اَور پھر وہ برتن یکایِک آسمان کی طرف اُٹھا لِیا گیا۔17۱۷۔ جب پطرؔس اَندر ہی اَندر شش و پنج کا شِکار تھا کہ یہ رُؤیاجو مَیں نے دیکھا،کیا ہَے تو دیکھو وہ اِشخاص جِنہیں کُرنِیلیُِس نے بھیجا تھا۔شمعُؔون کا گھر دریافت کرکے دروازہ پر کھڑے ہو گئے۔ 18۱۸۔ اَور پُکار کر پُوچھنے لگے کہ کیا شمعُؔون جو پطرؔس کہلاتا ہَے یہیں مِہمان ہے؟19۱۹۔ جب پطرؔس اُس رویا کے مُتعلق سوچ رہا تھا تو روح نےاُس سے فرمایاکہ دیکھ تِین آدمی تُجھے تلاش کررہے ہیں۔ 20۲۰۔ پس اُٹھ کر نِیچے جا اَور بِلاجھجک اُن کے ساتھ روانہ ہو جا کیونکہ مَیں نے ہی اُنہیں بھیجا ہے۔ 21۲۱۔ پطرؔس نے اُترکر اُن اشخاص سے فرمایا دیکھو جِس کی تمہیں تلاش ہےمَیں ہی ہُوں۔ تُم کِس سبب سے آئے ہو؟22۲۲۔ اُنہوں نے اُس سے کہا کُرنِیلیُس صُوبہ دار نے جوراستباز ،خُدا ترس اَور یہودیوں کی ساری قوم میں نیک نام ہَےایک پاک فرِشتےسے حُکم پایا۔ کہ تُجھے اپنے گھر بُلائےاَور تُجھ سے کلام سُنے ۔ 23۲۳۔ چُنانچہ اُس نے اُنہیں اندر بُلا کر اُن کی خاطِر تَواضُع کی۔اور دوسرے دِن وہ اُن کے ساتھ روانہ ہو گیااور یافا سے کئی بھائی بھی اُس کے ساتھ روانہ ہوئے۔24۲۴۔ یوں دُوسرے روز وہ قَیصرؔیہ میں داخِل ہُؤئے اور کُرنِیلُِس اپنے رشتہ داروں اور قریبی دوستوں کو جمع کر کے اُن کی راہ دیکھ رہا تھا۔25۲۵۔ جب پطرؔس اندر آنے لگا تو اَیسا ہُؤا کہ کُرنِیلُِس نے اُس کا اِستِقبال یوں کِیا کہ اُس کے قَدموں پر گِر کر اُسے سِجدہ کِیا۔ 26۲۶۔لیکن پطؔرس نے اُسے اُٹھا یا اورفرمایا۔ کھڑا ہو مَیں بھی تو ایک اِنسان ہی ہُوں ۔27۲۷۔ اَور اُس سے گُفتگوکرتا ہُؤا اندر گیا اَور بُہت سے لوگوں کو اِکٹّھا پایا۔ 28۲۸۔ اوراُن سے فرمایا کہ تُم تو جانتے ہی ہو کہ کسی یہُودی کاکسی غَیر قَوم والے سے میل جول رکھنا یا اُس کے ہاں جانا مکرُوہ عمل ہَے مگر خُدا نے مُجھ پر ظاہِر کِیا کہ مَیں کِسی آدمی کو نجِس یا ناپاک نہ کہُوں ۔ 29۲۹۔ یہی وجہ ہے کہ جب مُجھےبُلایا گیا تو مَیں بے عُذر چلا آیا ۔چُنانچہ اب مَیں پُوچھتا ہُوں کہ مُجھے کِس سبب سےبُلایا گیاہے؟30۳۰۔ اِس پر کُرنِیؔلیُِس نے کہا کہ اِس وقت پُورے چار روز ہو چُکے ہیں کہ مَیں نویں گھنٹے کے قریب گھر میں دُعا کر رہا تھا۔اَور دیکھو ایک شخص چمکدار پوشاک پہنے ہُوئے میرے سامنے آکھڑا ہُؤا۔ 31۳۱۔ اَور اُس نے فرمایا کہ اَے کُرنیِلیُِسؔ دیکھ تیری دُعا سُن لی گئی اور تیری خَیرات بھی خُدا کے حضُور یاد کی گئی ہے۔ 32۳۲۔ چُنانچہ کِسی کو یاؔفا میں بھیج اورشمعُؔون کو جو پطرؔس کہلاتا ہے اپنے پاس بُلا۔ وہ سمُندر کے کِنارے شمعُؔون دبّاغ کے گھر میں ٹھہرا ہُؤا ہے۔ 33۳۳۔ چُنانچہ مَیں نے فی الفور تیری طرف آدمی روانہ کئِے اور بھی تُو نے خُوب کِیا کہ چلا آیا۔اب ہم سب خُدا کے حضُور حاضِر ہیں تاکہ جو کُچھ خُداوند نے تُجھ سے فرمایا ہے اُسے سُنیں ۔34۳۴۔  پطرؔس نے اپنا مُنہ کھول کر فرمایا کہ ۔ اب مُجھے پُورا یقین ہو گیا ہے کہ خُدا کِسی کا طرف دار نہیں۔ 35۳۵۔ بلکہ ہر قَوم میں سےجو کوئی اُس سے ڈرتا اور راست باری کرتا ہےوہ اُسے پسند آتا ہے۔36۳۶۔ تُم جانتے ہو جو کلام اُس نے بنی اِسرائیل کے پاس بھیجا یعنی جب یِسُوؔع مسیح کی معرفت (جو سب کا خُداوند ہے)صُلح کی خُوشخبری دی۔ 37۳۷۔ اَور اُس بات کو تُم خُود جانتے ہو جو یُوحنّا بپتِسمہ دینے والی کی مُنادی کے بعد گلِیل سے شروُع ہو کر تمام یہودیہ میں پھیل گئی تھی۔ 38۳۸۔ کہ خُدا نے یِسُوؔع ناصری کو رُوحُ القُدس اور قُدرت سے کِس طرح مَسح کِیا۔وہ بھلائی کرتا اور اُن سب کو جو اِبلیِس کے ہاتھ سے طُلم اُٹھاتے تھے شِفا دیتا پِھرا کیونکہ خُدا اُس کے ساتھ تھا۔39۳۹۔ اَور ہم اُن سب کاموں کے گواہ ہیں جو اُس نے مُلکِ یہُود اَور یروشلِیؔم میں کئے لیکن اُنہوں نے اُس کو دار پر لٹکا کر مارڈالا۔ 40۴۰۔ تاہم خُدا نے تِیسرے دِن اُس کو جِلایا اور ظاہِر بھی کر دِیا۔ 41۴۱۔ ساری قوم پر تو نہیں مگر اُن گَواہوں پر جو پہلے سے خُداکے چُنے ہُوئے تھے یعنی ہم پر جِنہوں نے اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد اُس کے ساتھ کھایا پِیا ۔42۴۲۔ اَور اُس نے ہمیں حُکم دِیا کہ اُمّت میں مُنادی کرو اور گواہی دو کہ یہ وُہی ہے جو خُدا کی طرف سے زِندوں اور مُردوں کا مُنصِف مُقرر کِیا گیا۔ 43۴۳۔ سب انبِیاء بھی اُس کے مُتعلِق گواہی دیتے ہَیں کہ جو کوئی اُس پر اِیمان لائے گا۔اُس کے نام سے اپنے گُناہوں کی مُعافی پائے گا۔44۴۴۔ پطؔرس یہ باتیں کر ہی رہا تھا کہ رُوحُ القُدس اُن سب پر نازِل ہُؤا جو کلام سُن رہے تھے۔ 45۴۵۔ اَور پطؔرس کے ساتھ جِتنے مختُؤن اِیمان دار آئے تھے وہ سب حَیران ہُوئے کہ غَیر اَقوام پر بھی رُوحُ القُدس کی بخشِش جاری ہُوئی۔46۴۶۔ کِیونکہ اُنہیں طرح طرح کی زُبانیں بولتے اَور خُدا کی تمجِید کرتے سُنا۔ اِس پر پطؔرس نے فرمایا کہ۔ 47۴۷۔ کیا اُنہیں کوئی پانی سے روک سکتا ہَے کہ بپتِسمہ نہ پائیں۔ جِنہوں نے ہماری طرح رُوحُ القُدس پالِیاہے؟ 48۴۸۔ تب اُس نے حُکم دِیا کہ اُنہیں یِسُوؔع مسیح کے نام پر بپتِسمہ دِیا جائے۔ اِس پر اُنہوں نے اُس سے درخواست کی کہ چَند روزہمارے پاس قیام کر۔
111۱ اَور رسُولوں اَور بھائیِوں نے جو یَہُودؔیہ میں تھےیہ سُنا کہ غَیْر اَقْوام نے بھی خُدا کا کلام قُبُول کِیا۔ 2۲ جب پَطْؔرَس یرُؔوشلِیم میں لوٹا تو مَخْتُونوں کا گِروہ اُس پر تَنْقِید کرتے ہوئے یُوں کہنےلگا۔ 3۳ کہ تُو نامَخْتُونوں کے پاس گیا اَور اُن کے ساتھ کھانا کھایا۔4۴۔ پَطْؔرَس نے اُس وَقِعَہ کی شُرُوع سے وَضاحَت کرتے ہُؤئے بیان کیِا کہ 5۵۔ مَیں شہرِ یافؔا میں دُعا کر رہا تھااَور وَجْد میں آکر ایک رُویا دیکھی۔ کہ ایک بڑی چادَر جَیسا باسَن جِس کے چاروں کونے آسمان سے لٹک رہے تھے اُتر کر مُجھ تک آیا۔ 6۶۔ جب میَں نے اُس پر غَور سے نَظَرْ کی تو زمین کے چوپائے، جَنْگَلی جانْوَر ، کِیڑے مکوڑے اَور ہوا کے پَرِندے دیکھے۔7۷۔ اَور یہ کہتےہُؤئے ایک آواز بھی سُنی کہ اَے پَطْؔرَس اُٹھ! ذَبْح کر اَور کھا۔ 8۸۔ مگر مَیں نے کہا۔ اَے خُداوَنْد ہرگز نہیں۔ کیونکہ میرے حَلْق سے کبھی کوئی حَرام یا ناپاک چِیز نہیں اُتری۔ 9۹۔ تب مُجھے دُوسری بار آسمان سے آواز آئی کہ جِسے خُدا نے حَلال ٹھہرایا تُو اُسے حَرام نہ کہہ۔ 10۱۰۔ تین بار اَیسا ہی ہُؤا۔ پِھر وہ سب چِیزیں آسمان کی طَرْف واپَس اُٹھا لی گئیں۔11۱۱۔  اَور دیکھو اُسی وقت تِین آدْمی جو قَیصؔریہ سے میرے پاس بھیجے گئے تھے اُس گھر کے پاس آکھڑے ہُوئے جِس میں ہم تھے۔ 12۱۲۔  اَور رُوح نے مُجھ سےفرمایا کہ تُو بِلا تَفْرِیق اُن کے ہَمْراہ چلا جا اَور یہ چھ بھائی بھی میرے ہَمْراہ ہو لئے اَور ہم اُس شَخْص کے گَھر میں داخِل ہُوئے۔ 13۱۳۔  اَور اُس نے ہمیں بتایا کہ اُس نے کِس طَرْح ایک فَِرِشْتے کو اپنے گھر میں کھڑے دیکھا جِس نے اُس سے کہا کہ یاؔفا میں آدْمی بھیج اَور شمعُؔون کو جو پَطْرَس کہلاتاہَے بُلوا لے۔ 14۱۴۔  وہ تُجھے اَیسا پَیغام دے گا جِس سے تُجھ سَمیت تیرا سارا خانْدان نَجات پائے گا۔15۱۵۔ جُونہی مَیں نے اُن سے کلام کرنا شُرُوع کِیا تو اُن پر رُوحُ القُدْس اُسی طَرْح نازِل ہُؤا جِس طَرْح اِبْتِدا میں ہم پر ہُؤا تھا۔ 16۱۶۔ تب مُجھے خُداوَنْد کے وہ اَلْفاظ یاد آئے جیسا اُس نے فرمایاتھا کہ در حَقِیقَت یُوحنّؔا نے تو پانی سے بَپتسِْمَہ دِیا مگر تُم رُوحُ القُدْس سے بَپتسِْمَہ پاؤ گے۔17۱۷۔  چونچْہ جب خُدا نے اُن کو بھی وُہی نِعمَت دِی جو ہمیں خُداوَنْد یَسُوع مَسِیح پر اِیمان لانے سے مِلی تھی تو بَھلا مَیں کون تھا کہ خُدا کی مُخالِفَت کرسکتا؟ 18۱۸۔ جب اُنہوں نے یہ باتیں سُنیں تو وہ لا جواب ہو گئے اَور کُچھ نہ کہہ سکے، مگر اُنہوں نے خُدا کی تَمْجِید کی اَور کہا کہ خُدا نے غَیْر اَقْوام کو بھی زِنْدَگی پانے کے لئے تَوبَہ کی تَوفِیق بَخْشی ۔19۱۹۔ چونچْہ جو لوگ اُس اِیْذا رَسانی کے سَبَب سے پَراگَنْدَہ ہوگئے تھے جو ستِفنُؔس کے سَبَب سےپیش آئی تھی۔ وہ سَفَر کرتے کرتے فِینیکؔے اَور کُپرؔس اَور انطاؔکیہ میں پُہنچے۔ مگر وہ صِرْف یَہُودیوں ہی کے ساتھ کلام کِیا کرتے تھے۔ 20۲۰۔  لیکن اُن میں سے چند اَشْخاص جو کپرُسؔی اَور کُریؔنی تھے وہ انطاکؔیہ میں آ کر یُونانیوں کو بھی خُداوَنْد یِسُوع کی اِنْجِیل کی باتیں بتانے لگے۔ 21۲۱۔ اَور خُداوَنْد کا ہاتھ اُن کے ساتھ تھا اَور مُتَعَدِّد لوگ اِیْمان لا کر خُداوَنْد کی طرف رُجُوع لائے۔22۲۲۔ اِن باتوں کی خَبَر یرُوشلِؔیم کی کَلِیسِیا کے کانوں تک پُہنچی اَور اُنہوں نے برنباؔس کو انطاکؔیہ بھیجا۔ 23۲۳۔ جب وہ وہاں پُہنچاتو خُدا کا فضل دیکھا اَور خُوش ہُؤا اَور اُن سب کی حَوصَلَہ اَفْزائی کی کہ دِلی اِرادہ سے خُداوَنْد میں قائم رہو۔ 24۲۴۔ کیونکہ وہ ایک نیک مَرد تھا اَور رُوحُ الْقُدس اَور اِیْمان سے مَعْمُور تھا۔ اَور مُتَعَدِّد لوگ کَلِیسِیا میں زَم ہو گئے۔25۲۵۔  تب برنباؔس ترسُؔس کی طرف روانہ ہُؤا کہ ساؔؤل کو اِحْتِیاط سے تلاش کرے۔ 26۲۶۔ اَور جب وہ اُسے مِل گیا تو وہ اُسے انطاکؔیہ میں لے آیا اَور ایسا ہُؤا کہ وہ سال بھر کَلِیسِیا کی جَماعَت سےمِلتےاَور بَہُت سے لوگوں کو تَعْلِیم دیتے رہےاَور شاگِرْد پہلے انطاکؔیہ ہی میں مَسِیحی کہلائے۔27۲۷۔ اُنہی دِنوں چَنْد اَن٘بِیا یرُوشلِؔیم سے انطاکؔیہ میں آئے۔ 28۲۸۔ اُن میں سے ایک نے جِس کا نام اَکَبُس تھا کھڑے ہو کر رُوح کی ہِدایَت سے ظاہِر کِیا کہ تمام دُنیا میں بڑا کال پڑے گااَور اَیسا کلَؔوُدیُس کے عَہْد میں ہُؤا۔29۲۹۔  اَور شاگِرْدوں نے تَجْوِیز کیا کہ اپنی اپنی اِسْتِعْداد کے مُـطابِق یَہُودِیَّہ میں رہنے والے بھائیوں کی اِمْداد کے لئے کُچھ بھیجیں۔ 30۳۰۔ چُنان٘چِہ اُنہوں نے اَیسا ہی کِیا اَور برنباؔس اَور ساؤؔل کے ہاتھ بزرگوں کے لئے کُچھ رقم بھیجوائی۔
121۱ قریباً اُسی وقت ہیرودیسؔ بادشاہ نے بَدْ سُلوکی کرنے کے لئے کَلیِسیِا کے بَعْض اَرْکان پر ہاتھ ڈالا۔ 2۲ اَور یُوحنّؔا کے بھائی یَعقُؔوب کو تَلْوار سے مار ڈالا۔‫ 3۳۔ اَور جب دیکھا کہ یہ عَمَل یَہُودیوں کو پَسَنْد آیا ہَے تو پَطْرَؔس کو بھی گِرِفْتار کر لِیا۔یہ عیدِ فطِیر کے دِن تھے۔ 4۴۔ اَور اُس کی گِرِفْتار ی کے بعد اُسے اِس اِرادَہ سے قَید میں ڈالا کہ اُسے فَسْح کے بعد عَوام کے سامنے پیش کرے۔اَور اُس پر نَظَرْ رکھنے کے لئے چاروں پَہْروں میں چار چار سِپاہیوں کو تَعِینَات کِیا۔‫ 5۵۔ سو پَطْرَؔس پر تو قَید خانَہ میں کڑی نَظَرْ رکھی جا رہی تھی مگر کَلیِسیِا اُس کے لئے بِلاتوقُّف خُدا سے دُعا کر رہی تھی۔ 6۶۔ اَور جب ہیرودیسؔ اُسے پیش کرنے کو تھا تو اُسی رات پَطْرَؔس دو زَنْجِیروں سے جکڑا ہُؤا دو سِپاہیوں کے دَرْمِیان سو رہا تھا اَور پَہْرے دار دَرْوازے پر قَید خانے کی نِگرانی کر رہے تھے۔‫ 7۷۔اَور دیکھو خُداوَنْد کا ایک فَرِشْتَہ اچانَک اُس پر ظاہِر ہُؤا اَور قَید خانے کی کوٹْھڑی میں رَوشْنی ہو گئی۔ اَور اُس نے پَطْرَؔس کی پَسْلی تَھپْتَھپا کر اُسے جگایا اَور کہا کہ فوراً اُٹھ۔ تب زَنْجِیروں اُس کے ہاتھوں سے اُتر کرگرپڑیں۔ 8۸۔ اَور فرِشتے نے اُس سے کہا کَمر باندھ، اپنی جُوتی پہن۔اَور پَطْرَؔس نے ایسا ہی کِیا۔ پِھر فَرِشْتَہ نے اُس سے کہا۔ اب اپنا چُغَہ پہن کر میرے پِیچھے ہو لے۔‫ 9۹۔پَطْرَؔس نِکل کر فَرِشْتَہ کے پِیچھے ہو لِیا۔ مگر نہ جانا کہ یہ جوکُچھ فَرِشْتَہ کی طرف سے ہو رہا ہَے وہ حَقِیقَت ہَے۔ بلکہ یہ سمجھا کی وہ رُؤیا دیکھ رہا ہَے۔ 10۱۰۔ پس وہ پہلے اَور دوسرے مُحافِظوں سے بچ کر اُس لوہے کے پھاٹَک پر پُہنچے جو شہر کی طرف ہَے۔ وہ اُنکے لئے اَزخُود کُھل گیا۔ پس وہ نِکل کر گلی کے کونہ تک گئے اَور فَرِشْتَہ یکایک اُسکے پاس سے چلا گیا۔‫ 11۱۱۔ اَور پَطْرَؔس نے ہوش میں آکر کہا کہ اب مَیں نے واقعیہ جان لِیا کہ خُداوَنْد نے اپنا فَرِشْتَہ بھیج کر مُجھے ہیرودیسؔ کے ہاتھ سے چَھڑا لِیاہَےاَور یہودی قوم کی ساری اُمید پر بھی پانی پِھیر دیا۔ 12۱۲۔ اَور اِس پر غَوْر و فِکْر کے بعد وہ اُس یُوحنّؔا کی ماں مریؔم کے گھر آیا جو مرقؔس کہلاتا ہَے۔ وہاں بَہُت سے آدْمی جَمْع ہو کر دُعا کر رہے تھے۔‫ 13۱۳۔ جب اُس نے پھاٹَک کا دَرِیچَہ کھٹکھٹایاتو رُؔدی نامی ایک نَوکَرانی دَسْتَک سُننے کوآئی۔ 14۱۴۔ اَور پَطْرَؔس کی آواز پَہْچان کر خُوشی کے مارے دَرْوازَہ نہ کھول پائی بَلْکِہ دَوڑ کر اِنْدَر خَبَر کی کہ پَطْرَؔس دَرْوازَہ پر کَھڑا ہَے۔ 15۱۵۔ اِس پر اُنہوں نے اُس سے کہا اری تُوتو دیِوانی ہَے۔مگر وہ اپنی بات پر مُسِر رہی کہ ایسا ہی ہَے۔ اُنہوں نےاُس سے کہا کہ یہ تواُس کا فَرِشْتَہ ہَے۔‫ 16۱۶۔ مگر پَطْرَؔس دَرْوازَہ کھٹکھٹاتا رہا۔تب اُنہوں نے دَرْوازَہ کھولا اَور اُسے دیکھ کر حیَران ہو گئے۔ 17۱۷۔ پَطْرَؔس نے اُنہیں ہاتھ سے چُپ رہنے کا اِشارہ کرتے ہوئے بَیان کِیا کہ خُداوَنْد نے کِس کِس طرح مُجھے قید خانےسے نِکالا۔ پِھر کہا کہ یعقؔوب اَور بھائیوں کو اِس بات کی خبر کر دینا اَور رَوانَہ ہو کر دوسری جگہ چلا گیا۔18۱۸۔ جب صُبْح ہُوئی تو سِپاہی بَہُت گَھبْرا گئےکہ پَطْرَؔس کا کیا ہُؤاہَے۔ 19۱۹۔ جب ہیرودیسؔ نے اُسے تلاش کیا اَور نہ پایا تو پَہْرے داروں کی تَفْتِیش کر کے اُنہیں سزائے موت کا فَیصْلَہ سُنایا اَورخود یَہُودِیہ کو چھوڑ کر قیصؔریہ میں جا بسا۔‫ 20۲۰۔اَور ہیرودیسؔ صُؔور اَور صؔیدا کے لوگوں سے نِہایَت ناراض تھا۔ چُنان٘چِہ وہ مُتَّحِد ہو کر اُسکے پاس آئے اَور بادشاہ کے نائب بَلستُؔس کو اِعْتِماد میں لےکر صُلْح چاہی۔ کیونکہ اُنکے مُلک کو بادشاہ کے مُلک سے رَسَد پَہُنچتی تھی۔ 21۲۱۔سو ہیرودیسؔ ایک مُقَرَّرَہ دِن پر شَاہاَنَہ پوشاک پہن کر تَخْتِ عَدالَت پر بیٹھا اَور اُن سے خِطاب کرنے لگا۔‫ 22۲۲۔ پس لوگ پُکار اُٹھے کہ یہ تو خُدا کی آواز ہَے نہ کہ اِنسان کی۔ 23۲۳۔اُسی وَقْت خُداوَنْد کے ایک فرِشتے نے اُسے مارا۔ اِس لئے کہ اُس نے خُدا کی تَمْجِید نہ کی۔ اَور اُسے کیڑے پڑ گئے اَور وہ مر گیا۔24۲۴۔لیکن کلامِ خُدا تَرَقّی کرتااَور پھیلتا گیا۔ 25۲۵۔اَور برنباؔس اَور ساؤؔل اپنی خِدْمَت اَنْجام دے کر اَور یُوحؔنا کو جو مرقؔس کہلاتا ہَے ساتھ لے کر یرُوشلِؔیم سے واپس لوٹے۔
131۱۔ انطاکؔیہ کی کَلِیسِیا میں انبیاء اَور مُعَلِّمِین یہ تھے یعنی برنباؔس، شمعؔون جو کالا کہلاتا ہَے، لُوکؔیسُ کُرینی، مناؔہیم جو چوتھائی مُلک کے حاکِم ہیرودیؔس کے ساتھ پلا بڑھاتھا اَور ساؤؔل۔ 2۲۔ جب وہ خُداوَنْد کی عِبادَت کر رہے اَور روزے رکھ رہے تھے تو رُوحُ القُدس نے فرمایا کہ میرے لئے ساؤؔل اَور برنباؔس کو اُس کام کے لئے مَخْصُوص کر دو جس کے واسْطے مَیں نے اُنہیں بُلایا ہَے۔ 3۳۔ تب اُنہوں نے رُوْزَہ رکھنےاَور دُعا کر نے کے بعداُن پر ہاتھ رکھے اَور اُنہیں رَوانَہ کر دِیا۔‫ 4۴۔ چُنان٘چِہ روحُ القُدس کے بھیجے ہوئے برنباؔس اَور ساؔؤل سِلؔوکیہ کو گئے اَور وہاں سے جہاز سے کپُرسؔ کو چلے۔ 5۵۔ اَور جب وہ شہرِسؔلمیس میں تھےتو وہ یَہُودیوں کے عبادتخانوں میں خُدا کا کلام سُنانے لگے اَور یُوحؔنابھی بطورِ مَدَدگار اُن کے ساتھ تھا۔‫ 6۶۔ اَور وہ اُس تمام جزیرے میں سے گُزرتے ہُوئے پافُؔس تک پَہُنْچے ۔ جہاں اُنہیں ایک یہُؔودی جادوگر اَور جھوٹا نَبی مِلا جِس کا نام بر یَسُوع تھا۔ 7۷۔ وہ جادوگرسِرگیُسؔ پولُؔس صُوبہ دار کا تَعَلُّق دار تھا، جو ایک ذَہین شَخْص تھا۔ اِس شَخْص نے برنباؔس اَور ساؔؤل کو بُلا کر خُدا کا کلام سُننا چاہا۔ 8۸۔ مگر الؔیماس جادوگر نے (جِس کے نام کے معنی بھی جادوگر ہی ہَیں) اُنکی مُخالِفَت کی اَور صُوبَہ دار کو اِیْمان لانے سے روکْنا چاہا۔‫ 9۹۔ اَور ساؔؤل نے جو پولُسؔ بھی کہلاتاہَے رُوح اُلقُدس سے مَامُور ہو کر اُس پر غَور سے نَظَرْ کی 10۱۰۔ اَور کہا اے شَیطان کے فرزند تُو جو تمام فَریب اَور مُکر سے بھرا ہُؤا اَور ہر طرح کی راسْتی کا دُشمن ہَے۔کیا خُداوَنْد کی سیدھی راہیں بِگاڑنے سے باز نہ آئے گا؟‫ 11۱۱۔ اَب دیکھ خُداوَنْد کا ہاتھ تُجھ پر ہَے اَور تُو اَندھا ہوجائے گا اَور ایک مُدّت تک سُورج کو نہ دیکھے گا۔ اُسی وقت دُھندلا پن اَور اَندھیرا اُس پر چھا گیا اَور وہ ڈھونڈنے لگا کہ کوئی اُس کا ہاتھ پکڑ کراُسے لے چلے۔ 12۱۲۔ تب صُوبَہ دار یہ ماجرا دیکھ کر اِیمان لے آیا کیونکہ وہ خُداوَنْد کی تَعْلِیم پر حَیران تھا۔‫ 13۱۳۔ پِھر پولُؔس اَور اُس کے ساتھی پافُؔس سے جَہاز پر سوار ہو کر پمفیلیہ کے (شہر )پرگہ میں آئے اَور یوحؔنا اُن سے جُدا ہو کر یروشلؔیم کولوٹ گیا۔ 14۱۴۔اَور وہ پرِگؔہ سے چل کر پسدِؔیہ کے انطاکؔیہ میں پُہنچے اَور سبت کے دِن عِبادتخانہ میں جا بیٹھے۔ 15۱۵۔ پِھر توریت اَور انبیاء کی کتاب کی تلاوت کے بعد عِبادتخانہ کےسرداروں نے اُنہیں کہلا بھیجا کہ اَے بھائیو! اگر لوگوں کی نَصِیحَت کے واسطے تُمہارے دِل میں کوئی بات ہو تو بَیان کرو۔‫ 16۱۶۔ پس پولُؔس نے کھڑے ہو کر اَور ہاتھ سے اِشارہ کرتے ہُوئے کہا اَے اِسرائیلؔیو اَور اَے خُدا ترسو! سنو۔ 17۱۷۔اِس قومِ اسرائیلؔ کے خُدا نے ہمارے باپ دادا کو چُن لِیا اَور جب یہ قوم مُلکِ مِصر میں پردیسیوں کی طرح رہتی تھی اُسےسر بُلند کِیا اَور اپنے دستِ قوی سے اُنہیں وہاں سے نِکال لایا۔ 18۱۸۔ اَور تقریباً چالیس بَرس تک بِیابان میں وہ اُن کی برداشت کرتا رہا۔19۱۹۔ پِھر مُلکِ کِؔنعان میں سات اقوام کو ہلاک کر کے اُن کا مُلک اِن کی مِیراث کر دیا۔ 20۲۰۔اِن تمام واقِعات کو تَقْرِیباً چار سَو پچاس بَرس لگ گئے۔ اَور اِس کے بعد سمُؔو ئیل نبی کے دور تک خُدا اُنہیں قاضِی مُہیا کرتا رہا۔21۲۱۔ اِس کے بعد اُنہوں نے بادشاہ کا تکاضہ کِیا اَور خُدا نے بنؔیمین کے قبیلہ میں سے ایک مرد ساؤؔل بن قؔیس کو چالیِس بَرس کے لئے اُن پر مُقَرَّر کِیا۔ 22۲۲۔ پِھر اُسے معزوُل کر کے داؤؔد کو اُنکا بادشاہ بنایا جِسکی بابت اُس نے یہ گَواہی دی کہ مُجھے ایک شَخْص یسّؔی کا بیٹا داؤؔد میرے دِل کے مُوافِق مِل گیا۔ وُہی میری تمام مرضی کو پُورا کریگا۔‫ 23۲۳۔ اُسی کی نسل میں سے خُدا نے اپنے وعدے کے مُطابق اِسرائیلؔ کے لئے ایک مُنْجی یعنی یسُؔوع کو مَبعُوث کِیا۔ 24۲۴۔ یسُؔوع کے آنے سے پہلے یُوحنّؔا نے اِسرائیلؔ کی تمام قوم کے سامنے تَوبہ کے بَپتِسْمَہ کی تَبْلِیغ کی۔ 25۲۵۔ اَور جب یُوحؔنا اپنا کام مُکَمَّل کرنے کو تھا تو اُس نے کہا کہ تُم مُجھے کیا سمجھتے ہو؟ مَیں وہ تونہیں ہُوں، مگر سُنو، میرے بعد وہ شَخْص آنے والا ہَے کہ مَیں اُس کے پاؤں کی جُوتی کا تَسْمَہ کھولنے کے لائِق نہیں۔‫ 26۲۶۔ اَے بھائیو!، ابراہاؔم کے فَرْزَنْدو،اَور اَے خُدا ترسو! اِس نَجات کے کلام کو ہمارے پاس بھیجا گیا۔ 27۲۷۔ کیونکہ یروشلؔیم میں رہنے والوں اَور اُن کے سرداروں نےاُسےنہ پہچانا بَلْکِہ اُس پر فتویٰ لگا کر اَنبیاء کے کَلِمات کو جن کی تِلاوَت ہر سَبْت پر کی جاتی ہَے پُورا۔‫ 28۲۸۔ اَور گو اُسے سزائے موت دینے کی کوئی وجہ نہ تھی تو بھی اُنہوں نے چلاّ کر پیلاطُؔس سے اُس کی مَوت کا تَقاضہ کِیا۔ 29۲۹۔ اَور جو کُچھ اُس کے حَق میں لکھا تھا جب سب کُچھ پُورا کر چُکے تو اُسے صَلِیب پر سے اُتار کر قَبْر میں رکھّ دِیا۔‫ 30۳۰۔ مگر خُدا نے اُسے مُردوں میں سے زِنْدَہ کِیا۔ 31۳۱۔ اَور وہ بَہُت دِنوں تک اُنکو دکھائی دیتا رہا جو اُس کے ہمراہ گلؔیل سے یروشلؔیم میں آئے تھے۔ اَور اب لوگوں کے سامنے وہی اُس کے گَواہ ہَیں۔‫ 32۳۲۔ اَور اب ہم تُمہیں اُس وَعدَہ کی خوشخَبِری دیتے ہَیں جو ہمارے باپ دادا سے کیا گیا تھا۔ 33۳۳۔ کہ خُدا نے یَسُؔو ع کو زندہ کر کے ہماری الاد کے لئے اُسی وعدہ کو پُورا کِیا۔ چُنانچہ دوسرے مزمور میں لکھا ہَے کہ تُو میرا بیٹا ہَے۔ آج تُو مُجھ سے پیدا ہُؤا ہَے۔ 34۳۴۔ اَور اُس کے اِس طرح مُردوں میں سے زِنْدَہ کرنے کے مُتَعَلِّق کہ وہ پَھر کبھی نہ مَرے گا

اُس نے یُوں فرمایاکہ مَیں داؤؔد کی پاک اَور یقینی بَرَکات تُمہیں دُوں گا۔‫

35۳۵۔ یَہی وَجْہ ہَے کہ وہ ایک اَور مَزمُور میں بھی فرماتا ہَے کہ تُو اپنے مُقدّس کو سڑنے کی نَوبت تک پُہنچنے نہ دے گا۔ 36۳۶۔ کیونکہ داؤؔد تو اپنے وقت میں خُدا کی مَرْضِی کو پُورا کر کےسو گیا اَور اپنے باپ دادا سے جا مِلا اَور اُس کے سڑنے کی نَوبَت بھی آئی۔ 37۳۷۔ مگر جِسے خُدا نے زِنْدَہ کِیا اُس کے سڑنے کی نَوبَت نہیں آئی۔‫ 38۳۸۔ چُنان٘چِہ اَے بھائیو! تُمہیں یہ خبر ہو جائے کہ اِسی شَخْص کے وَسِیلے سے تُمہیں گُناہوں کی مُعَافِی کی خبر دی جا رہی ہَے۔ کیونکہ مُوسؔوی شریعت تُمہیں راست باز نہیں ٹھہرا سکتی تھی۔ 39۳۹۔ لیکن اِس شَخْص کے وَسِیلے سے خُدا اِیْمان لانے والے ہر شَخْص کو راست باز ٹھہراتا ہَے۔‫ 40۴۰۔ سو خبر دار! ایسا نہ ہو کہ جو اَنبیاء کی کِتاب میں مرقوم ہَے وہ تُم پر صادِق آجائے کہ 41۴۱۔ اَے تَحْقِیر کارو! دیکھو۔ مُتَعَجِّب ہو اَور مِٹ جاؤ

کیونکہ مَیں تُمہارے زمانہ میں ایک کام کِیا چاہتاہُوں۔

اَور وہ کام ایساہَےکہ اگر کوئی اُس کا اِعْلان بھی کرے

تو تُم یَقِین نہ کرو گے۔‫

42۴۲۔ جب پولؔوس اَور برنباؔس وہاں سے باہر نکلے تو لوگوں نے اُن سے اِلْتِجا کی کہ اگلے سَبْت بھی ہمیں یہی باتیں دوبارہ بتائی جائیں۔ 43۴۳۔ جب عِبادَت خانے کی مَجلِس خَتْم ہُؤئی تو مُتَعَدِّد یہؔودی اَور خُدا پرست نو مرید یہؔودی پولُؔوس اَور برنباؔس کے پیچھے ہو لئے۔ اُنہوں نے اُن سے کلام کرتے ہُؤئے اُنہیں تَرْغِیب دِی کہ خُدا کے فَضْل پر قائم رہو۔‫ 44۴۴۔ اگلے سَبْت کو تَقْرِیباً سارا شَہْر خُدا کا کلام سُننے کے لئے اِکٹھا ہوگیا۔ 45۴۵۔

مگر یہؔودی اتنا ہُجُوم دیکھ کر حَسَد سے بھر گئے اَور پولُؔس کی تَعْلِیمات کی مُخالِفَت کرنے اَور اُس کی توحین کرنےلگے۔‫

46۴۶۔ پولُؔس اَور برَنباؔس دلیر ی سے کہنے لگے لازم تھا کہ خُدا کا کلام پہلے تُمہیں سُنایا جاتا لیکن چُونْکہ تُم اُسے رَد کرتے ہو اَور اپنے آپ کو حیاتِ ابدی کے لئے نا اَہل ٹھہراتے ہو سو دیکھواب ہم غیر اقوام کی جانب مُتَوَجّہ ہوتے ہَیں۔ 47۴۷۔ کیونکہ خُداوَنْد نے ہمیں یہ کہتے ہُوئے حُکم دیا ہَے کہ مَیں نے تُمہیں غیر اقوام کے لئے نور مُقرّر کِیا ہَے تاکہ تُم زمین کی اِنْتِہا تک نَجات کا باعِث بنو۔48۴۸۔ غیر قوم والے یہ سُن کر خُوش ہُوئے اَور خُدا کے کلام کی بڑائی کرنے لگے اَور جتنے حیاتِ اَبدی کے لئے مُقرّر کئے گئے تھے وہ اِیمان لے آئے۔ 49۴۹۔ اَور تمام علاقہ میں خُدا کا کلام پھیل گیا۔‫ 50۵۰۔ مگر یہودیوں نے خُدا پَرَسْت اَور مُعَزَّز عورتوں اَور شہر کے شُرفا کو اُبھارا اَور پولُؔس اَور بَرنباؔس کو ستانے پر آمادہ کر کے اُنہیں اپنی حُدُود سے نِکَلوا دِیا۔ 51۵۱۔ لیکن پولُؔس اَور بَرنباؔس اپنے پاؤں کی گرد اُنکے سامنے جھاڑ اِکُنیُؔم کوچلے گئے۔ 52۵۲۔ اَور شاگرد خُوشی اَور رُوحُ القُدس سے مَعْمُور ہوتے چلے گئے۔
141اور اِکُنِؔیم میں اَیسا ہُؤا کہ وہ ساتھ ساتھ یہُودِیوں کے عِبادت خانہ میں گئے اور اَیسی تقرِیر کی کہ یہُودِیوں اور یُونانِیوں دونوں کی ایک بڑی جماعت اِیمان لے آئی۔ 2مگر نافرمان یہُودِیوں نے غَیر قَوموں کو اُکسا کر بھائِیوں کی طرف سےبدگُمان کردِیا۔3چُنان٘چِہ وہ بہُت عرصہ تک وہاں رہے اور خُداوند کے بھروسے پر دِلیری سے کلام کرتے رہے اور وہ اُن کے ہاتھوں سے نشِان اور عجِیب کام کرا کر اپنے فَضْلکے کلام کی گواہی دیتا تھا۔ 4لیکِن شہر کے لوگوں میں پھُوٹ پڑگئی۔ بعض یہُودِیوں کی طرف ہوگئے اور بعض رَسُولوں کی طرف۔5مگر جب غَیر قَوم والے اور یہُودی اُنہِیں بیعِزّت اور سنگسار کرنے کو اپنے سَرداروں سمیت اُن پر چڑھ آئے۔ 6تو وہ اِس سے واقِف ہوکر لُکااُنیہ کے شہروں لُسترہ اور دِربے اور اُن کے گِرد نواح میں بھاگ گئے۔ 7اور وہاں مسلسل خُوشخَبری سُناتے رہے۔8اور لُسترہ میں ایک شَخص بَیٹھا تھا جو پاؤں سے لاچار تھا۔ وہ جنم کا لنگڑا تھا اور کبھی نہ چلا تھا۔ 9وہ پولُوسؔ کو باتیں کرتے سُن رہا تھا اور جب اِس نے اُس کی طرف غَور کر کے دیکھا کہ اُس میں شِفا پانے کے لائِق اِیمان ہَے۔ 10تو بڑی آواز سے کہا اپنے پاؤں کے بل سِیدھا کھڑا ہوجا! چُنان٘چِہ وہ اُچھل کر چلنے پھِرنے لگا۔11لوگوں نے پولُوسؔ کا یہ کام دیکھ کر لُکااُنیہ کی بولی میں بُلند آواز سے کہا کہ آدمِیوں کی صُورت میں دیوتا اُتر کر ہمارے پاس آئے ہیَں۔ 12اور اُنہوں نے برنباسؔ کو زیُوس کہا اور پولُوسؔ کو ہرمیس۔ اِس لِئے کہ یہ کلام کرنے میں سبقت رکھتا تھا۔ 13اور زیُوس کے اُس مندر کا پُجاری جو اُن کے شہر کے سامنے تھا بَیل اور پھُولوں کے ہار پھاٹک پر لاکر لوگوں کے ساتھ قُربانی کرنا چاہتا تھا۔14جب برنباس اور پولُوسؔ رَسُولوں نے سُنا تو اپنے کپڑے پھاڑ کر لوگوں میں جاکُودے اور پُکار پُکار کر۔ 15کہنے لگے کہ لوگو! تُم یہ کیا کرتے ہو؟ ہم بھی تُمہارے ہم طبِیعت اِنسان ہیَں اور تُمہیں خُوشخَبری سُناتے ہیَں تاکہ اِن باطِل چِیزوں سے کِنارہ کر کے اُس زِندہ خُدا کی طرف پھِرو جِس نے آسمان اور زمِین اور سُمندر اور جو کُچھ اُن میں ہَے پَیدا کِیا ۔ 16اُس نے اگلے زمانہ میں سب قَوموں کو اپنی اپنی راہ چلنے دِیا۔17تَو بھی اُس نے اپنے آپ کو بے گواہ نہ چھوڑا۔ چُنان٘چِہاُس نے مِہربانیاں کِیں اور آسمان سے تُمہارے لِئے پانی برسایا اور بڑی بڑی پَیداوار کے مَوسم عطا کئِے اور تُمہارے دِلوں کو خُوراک اور خُوشی سے بھر دِیا۔ 18یہ باتیں کہہ کر بھی لوگوں کو مُشکِل سے روکا کہ اُن کے کے لِئے قُربانی نہ کریں۔19پھِر بعض یہُودی انطاکِیہ اور اِکُنِیمُ سے آئے اور لوگوں کو اپنی طرف کر کے پولُوسؔ کو سنگسار کِیا اور اُس کو مُردہ سَمَجھ کر شہر کے باہِر گھسِیٹ لے گئے۔ 20مگر جب شاگِرد اُس کے گِردا گِرد آ کھڑے ہُوئے تو وہ اُٹھ کر شہر میں آیا اور دُوسرے دِن برنباسؔ کے ساتھ دِربے کو چلا گیا۔21اور وہ اُس شہر میں خُوشخَبری سُناکر اور بہُت سے شاگِرد کر کے لُستر اور اِکُنِیمُ اور انطاکِیہ کو واپَس آئے۔ 22اور شاگِردوں کے دِلوں کو مضبُوط کرتے اور نصِیحت دیتے تھے کہ اِیمان پر قائِم رہو اور کہتے تھے ضرُور ہَے کہ ہم بہُت مُصِیبتیں سہہ کر خُدا کی بادشاہی میں داخِل ہوں۔2623اور اُنہوں نے ہر ایک کلِیسِیا میں اُن کے لِئے بُزُرگوں کو مُقرّر کِیا اور روزہ سے دُعا کر کے اُنہِیں خُداوند کے سُپرد کِیا جِس پر وہ اِیمان لائے تھے۔ 24اور پسِدیہ میں ہوتے ہُوئے پمفِیلیہ میں پہُنچے۔ 25اور پرگہ میں کلام سُنا کر اتلیہ کو گئے۔اور وہاں سے جہاز پر اُس انطاکِیہ میں آئے جہاں اُس کے کام کے لِئے جو اُنہوں نے اَب پُورا کِیا خُدا کے فَضْلکے سپُرد کِئے گئے تھے۔ 27وہاں پُہنچکر اُنہوں نے کلِیسِیا کو جمع کِیا اور اُن کے سامنے بیان کِیا کہ خُدا نے ہماری معرفت کیا کچھ کِیا اور یہ کہ اُس نے غَیر قَوموں کے لِئے اِیمان کا دروازہ کھول دِیا۔ 28اور وہ شاگِردوں کے پاس مُدّت تک رہے۔
151پھِر بعض لوگ یہُودیہ سے آ کر بھائِیوں کو تعلِیم دینے لگے کہ مُوسٰی کی رسم کے مُوافِق تُمہارا ختنہ نہ ہو تو تُم نِجات نہِیں پاسکتے۔ 2چُنان٘چِہ جب پولُوسؔ اور برنباسؔ کی اُن سے بہُت تکرار اور بحث ہُوئی تو کلِیسِیا نے ٹھہرایا کہ پولُوسؔ اور برنباسؔ اور اُن میں سے چند اَور شَخص اِس مسئلہ کے لِئے رَسُولوں اور بُزُرگوں کے پاس یروشلِیم جائیں۔3چُنان٘چِہکلِیسِیا نے اُن کو روانہ کِیا اور وہ غَیر قَوموں کے رُجُوع لانے کا بیان کرتے ہُوئے فِینیکے اور سامریہ سے گُزرے اور سب بھائِیوں کو بہُت خُوش کرتے گئے۔ 4جب یروشلِیم میں پہُنچے تو کلِیسِیا اور رَسُول اور بُزُرگ اُن سے خُوشی کے ساتھ مِلے اور اُنہوں نے سب کُچھ بیان کِیا جو خُدا نے اُن کی معرفت کِیا تھا۔5مگر فرِیسِیوں کے فِرقہ سے جو اِیمان لائے تھے اُن میں سے بعض نے اُٹھ کر کہا کہ اُن کا ختنہ کرانا اور اُن کو مُوسٰی کی شَرِیعَت پر عمل کرنے کا حُکم دینا ضرُور ہَے۔ 6چُنان٘چِہرَسُول اور بُزُرگ اِس بات پر غور کرنے کے لِئے جمع ہُوئے۔7اور بہُت بحث کے بعد پطرسؔ نے کھڑے ہوکر اُن سے کہا کہ اَے بھائِیوں! تُم جانتے ہوکہ بہُت عرصہ ہُؤا جب خُدا نے تُم لوگوں میں سے مُجھے چُنا کہ غَیر قَومیں میری زبان سے خُوشخَبری کا کلام سُن کر اِیمان لائیں۔ 8اور خُدا نے جو دِلوں کی جانتا ہَے اُن کو بھی ہماری طرح رُوحُ القُدس دے کر اُن کی گواہی دی۔ 9اور اِیمان کے وسِیلہ سے اُن کے دِل پاک کر کے ہم میں اور اُن میں کُچھ فرق نہ رکھّا۔10چُنان٘چِہ اَب تُم شاگِردوں کی گَردَن پر اَیسا جُئوا رکھ کر جسکو نہ ہمارے باپ دادا اُٹھا سکتے تھے نہ ہم خُدا کو کِیُوں آزماتے ہو؟ ۔ 11حالانکہ ہم کو یقِین ہَے کہ جِس طرح وہ خُداوند یِسُوعؔ کے فَضْلہی سے نِجات پائیں گے اُسی طرح ہم بھی پائیں گے۔12پھِر ساری جماعت چُپ رہی اور پولُوسؔ اور برنباس کا بیان سُننے لگی کہ خُدا نے اُن کی معرفت غَیر قَوموں میں کَیسے کَیسے نِشان اور عجِیب کام ظاہِر کئِے۔13جب وہ خاموش ہُوئے تو یَعقُوب کہنے لگا کہ اَے بھائِیو میری سُنو! ۔ 14شمعُون نے بیان کِیا ہَے کہ خُدا نے پہلے پہل غَیر قَوموں پر کِس طرح توجُّہ کی تاکہ اُن میں سے اپنے نام کی ایک اُمّت بنالے۔15اور نبِیوں کی باتیں بھی اِس کے مُطابِق ہیَں۔ چُنانچہ لکِھا ہے کہ۔ 16اِن باتوں کے بعد مَیں پھِر آ کر داؤدؔ کے گِرے ہُوئے خَیمہ کو اُٹھاؤں گا اور اُس کے پھٹے ٹُوٹے کی مُرَمَّت کر کے اُسے کھڑا کرُوں گا۔ 17تاکہ وہ آدمِی جو باقی رہ گئے ہیَں خُداوند کو تلاش کریں اور سب قَومیں جو میرے نام کی کہلاتی ہیَں کہیں کہ خُداوند نے ہی یہ سب کام اُسی نے کِیے ہَیں۔ 18یہ وُہی خُداوند فرماتا ہَے جو دُنیا کے شُرُوع سے اِن باتوں کی خَبر رکھتا ہَے۔19چُنان٘چِہمیرا فَیصلہ یہ ہَے کہ جو غَیر قَوموں میں سے خُدا کی طرف رُجُوع ہوتے ہَیں ہم اُن کو تکلِیف نہ دیں۔ 20مگر اُن کو لِکھ بھیجیں کہ بُتوں کی مکرُوہات اور حرامکاری اور گلا گھونٹے ہُوئے جانوروں اور لہُو سے پرہیز کریں۔ 21کِیُونکہ قدِیم زمانہ سے ہر شہر میں مُوسٰی کی توریت کی منادی کرنے والے ہوتے چلے آئے ہَیں اور وہ ہر سَبت کو عِبادت خانوں میں سُنائی جاتی ہَے۔22اِس پر رَسُولوں اور بُزُرگوں نے ساری کلِیسِیا سمیت مُناسِب جانا کہ اپنے میں سے چند شَخص چُن کر پولُوسؔ اور برنباس کے ساتھ انطاکِیہ کو بھیجیں یعنی یہُؤداہ کو جو برسبّا کہلاتا ہَے اور سیلاس کو۔ یہ شَخص بھائِیوں میں مُقدّم تھے۔ 23اور اِن کے ہاتھ یہ لِکھ بھیجا کہ انطاکِیہ اور سُوریہ اور کِلکیہ کے رہنے والے رسولوں، بزرگوں اوربھائِیوں کو اوراُن بھائیوں کو جو غیر قوموں کے درمیان رہتے ہیں سَلام پُہنچے۔24چُونکہ ہم نے سُنا ہَے کہ بعض نے ہم میں سے جِن کو ہم نے حُکم نہ دِیا تھا وہاں جا کر تُمہیں اپنی باتوں سے گھبرا دِیا اور تُمہارے دِلوں کو اُلٹ دِیا۔ 25اِس لِئے ہم نے ایک دِل ہوکر مُناسِب جانا کہ بعض چُنے ہُوئے آدمِیوں کو اپنے عِزیزوں برنباس اور پولُوسؔ کے ساتھ تُمہارے پاس بھیجیں۔ 26یہ دونوں اَیسے آدمِی ہَیں جِنہوں نے اپنی جانیں ہمارے خُداوند یِسُوعؔ مسِیح کے نام پر نِثار کر رکھّی ہیَں۔27چُنان٘چِہہم نے یہُوداہ اور سِیلاس کو بھیجا ہَے۔ وہ یِہی باتیں زبانی بھی بیان کریں گے۔ 28کِیُونکہ رُوح اُلقُدس نے اور ہم نے مُناسِب جانا کہ اِن ضرُوری باتوں کے سِوا تُم پر اَور بوجھ نہ ڈالیں۔ 29کہ تُم بُتوں کی قُربانیوں کے گوشت سے لہُو اور گلا گھونٹے ہُوئے جانوروں اور حِرامکاری سے پرہیز کرو۔ اگر تُم اِن چِیزوں سے اپنے آپ کو بَچائے رکھّو گے تو سَلامت رہو گے۔ والسّلام۔30چُنان٘چِہوہ رُخصت ہوکر انطاکِیہ میں پُہنچے اور جماعت کو اِکھٹّا کر کے خط دے دِیا۔ 31وہ پڑھ کر اُس کے تسلّی بخش مضمُون سے خُوش ہُوئے۔ 32اور یہُوداہؔ اور سِیلاسؔ نے جو خُود بھی یہی تھے بھائِیوں کو بہُت سی نصِیحت کر کے مضبُوط کردِیا۔33وہ چند روز رہ کر اور بھائِیوں سے سَلامتی کی دُعا لے کر اپنے بھیجنے والوں کے پاس رُخصت کر دِئے گئے۔ 34[لیکِن سِیلاسؔ کو وہاں رہنا اچھّا لگا]۔ 35مگر پولُوسؔ اور برنباس انطاکِیہ ہی میں رہے اور بہُت سے اَور لوگوں کو خُداوند کا کلام سِکھاتے اور اُس کی منادی کرتے رہے۔36چند روز بعد پولُوسؔ نے برنباس سے کہا کہ جِن جِن شہروں میں ہم نے خُدا کا کلام سُنایا تھا آؤ پھِر اُن میں چل کر بھائِیوں کو دیکھیں کہ کَیسے ہَیں۔ 37اور برنباس کی صلاح تھی کہ یُوحنّا کو جو مرقُس کہلاتا ہَے اپنے ساتھ لے چلیں۔ 38مگر پولُوسؔ نے یہ مُناسِب نہ جانا کہ جو شَخص پمفِیلیہ میں کِنارہ کر کے اُس کام کے لِئے اُن کے ساتھ نہ گیا تھا اُس کو ہمراہ لے چلیں۔39چُنان٘چِہ اُن میں اَیسی سخت تکرار ہُوئی کہ ایک دُوسرے سے جُدا ہوگئے اور برنباؔس مرقُسؔ کو لے کر جہاز پر کُپرُس کو روانہ ہُؤا۔ 40مگر پولُوسؔ نے سِیلاس کو پسند کِیا اور بھائِیوں کی طرف سے خُداوند کے فَضْلکے سپُرد ہوکر روانہ ہُؤا۔ 41اور وہ کلِیسِیاؤں کو مضبُوط کرتا ہُؤا سُوریہ اور کِلکیہ سے گُزرا۔
161پھِر وہ دِربے اور لُسترہ میں بھی پہُنچا۔ تو دیکھو وہاں تِمُیتھیُس نام ایک شاگِرد تھا۔ اُس کی ماں تو یہُودی تھی جو اِیمان لے آئی تھی مگر اُس کا باپ یُونانی تھا۔ 2وہ لُؔسترہ اور اِکُنِؔیمُ کے بھائِیوں میں نیک نام تھا۔ 3پولُوسؔ نے چاہا کہ یہ میرے ساتھ چلے۔ چُنان٘چِہ اُس کو لے کر اُن یہُودِیوں کے سبب سے جو اُس نواح میں تھے اُس کا ختنہ کردِیا کِیُونکہ وہ سب جانتے تھے کہ اِس کا باپ یُونانی ہَے۔4اور وہ جِن جِن شہروں میں سے گُزرے تھے وہاں کے لوگوں کو وہ احکام عمل کرنے کے لئِے پہُنچاتے جاتے تھے جو یروشلِیم کے رَسُولوں اور بُزُرگوں نے جاری کِئے تھے۔ 5چُنان٘چِہ کلِیسِیائیں اِیمان میں مضبُوط اور شُمار میں روز بروز زیادہ ہوتی گئِیں۔6اور وہ فروگیہ گلَتیہ کے علاقہ میں سے گُزرے کِیُونکہ رُوح اُلقُدس نے اُنہِیں آسیہ میں کلام سُنانے سے منع کِیا۔ 7اور اُنہوں نے مُوسیہ کے قرِیب پہُنچ کر بِتُونیہ میں جانے کی کوشِش کی مگر یِسُوعؔ کے رُوح نے اُنہِیں جانے نہ دِیا 8چُنان٘چِہ وہ مُوسیہ سے گُذر کر تروآس میں آئے۔9اور پولُوسؔ نے رات کو رویا میں دیکھا کہ ایک مَکِدُنی آدمِی کھڑا ہُؤا اُس کی مِنّت کر کے کہتا ہَے کہ پار اُترکر مَکِدُنیہ میں آ اور ہماری مدد کر۔ 10اُس کے رویا دیکھتے ہی ہم نے فوراً مَکِدُنیہ میں جانے کا اِرادہ کِیا کِیُونکہ ہم اِس سے یہ سَمجھے کہ خُدا نے اُنہِیں خُوشخَبری دینے کے لِئے ہم کو بُلایا ہَے۔11چُنان٘چِہ ترو آسؔ سے جہاز پر روانہ ہوکر ہم سِیدھے سمُتراکؔے میں اور دُوسرے دِن نیاپُؔلس میں آئے۔ 12اور وہاں سے فِلپّی میں پہُنچے جو مَکِدُنیہ کا شہر اور اُس قِسمت کا صدر اور ایکبستی ہے اور ہم چند روز اُس شہر میں رہے۔ 13اور سَبت کے دِن شہر کے دروازہ کے باہِر ندی کے کِنارے گئے جہاں سَمَجھےکہ دُعا کرنے کی جگہ ہوگی اور بَیٹھ کر اُن عَورتوں سے جو اِکٹھّی ہُوئی تھِیں کلام کرنے لگے۔14اور تُھوار تیرہ شہر کی ایک خُدا پرست عَورت لُدِیہ نام قِرمر بیچنے والی بھی سُنتی تھی۔ اُس کا دِل خُداوند نے کھولا تاکہ پولُوسؔ کی باتوں پر تَوَجّہ کرے۔ 15اور جب اُس نے اپنے گھرانے سمیت بپتِسمہ لے لِیا تو منِّت کر کے کہا کہ اگر تُم مُجھے خُداوند کی اِیماندار بندی سَمَجھتے ہوتو چل کر میرے گھر میں رہو۔ چُنان٘چِہ اُس نے ہمیں مجبُور کِیا۔16جب ہم دُعا کرنے کی جگہ جارہے تھے تو اَیسا ہُؤا کہ ہمیں ایک لَونڈی مِلی جِس میں غَیب دان رُوح تھی۔ وہ غَیب گوئی سے اپنے مالِکوں کے لِئے بہُت کُچھ کماتی تھی۔ 17وہ پولُوسؔ کے اور ہمارے پِیچھے آ کر چلانے لگی کہ یہ آدمِی خُدا تعالیٰ کے بندے ہَیں جو تُمہیں نِجات کی راہ بتاتے ہیَں۔ 18وہ بہُت دِنوں تک اَیسا ہی کرتی رہی۔ آخِر پولُوسؔ سخت پریشان ہُؤا اور پھِر کر اُس رُوح سے کہا کہ مَیں تُجھے یِسُوعؔ مسِیح کے نام سے حُکم دیتا ہُوں کہ اِس میں سے نِکل جا۔ وہ اُسی گھڑی نِکل گئی۔19جب اُس کے مالِکوں نے دیکھا کہ ہماری کمائی کی اُمِید جاتی رہی تو پولُوسؔ اور سِیلاسؔ کو پکڑ کر حاکِموں کے پاس چَوک میں کھینچ لے گئے۔ 20اور اُنہِیں فَوجداری کے حاکِموں کے آگے لے جا کر کہا کہ یہ آدمِی جو یہُودی ہیں ہمارے شہر میں بڑی کھلبلی ڈالتے ہیَں۔ 21اور اَیسی رسمیں بتاتے ہیَں جِن کو قُبُول کرنا اور عمل میں لانا ہم رُومیوں کو روا نہِیں۔22اور عام لوگ بھی مُتّفِق ہوکر اُن کی مُخالفت پر آمادہ ہُوئے اور فَوجداری کے حاکمِوں نے اُن کے کپڑے پھاڑ کر اُتار ڈالے اور بینت لگانے کا حُکم دِیا۔ 23اور بہُت سے بینت لگوا کر اُنہِیں قَید خانہ میں ڈالا اور داروغہ کو تاکِید کی بڑی ہوشیاری سے اُن کی نگِہبانی کرے۔ 24اُس نے اَیسا حُکم پاکر اُنہِیں اَندر کے قَید خانہ میں ڈال دِیا اور اُن کے پاؤں کاٹھ میں ٹھونک دِئے۔25آدھی رات کے قرِیب پولُوسؔ اور سِیلاسؔ دُعا کررہے اور خُدا کی حمد کے گیت گارہے تھے اور قَیدی سُن رہے تھے۔ 26کہ یکایک بڑا بھَونچال آیا۔ یہاں تک کہ قَید خانہ کی نیوہِل گئی اور اُسی دم سب دروازے کھُل گئے اور سب کی بیڑیاں کھُل پڑیں۔27اور داروغہ جاگ اُٹھا اور قَید خانہ کے دروازے کھُلے دیکھ کر سَمَجھا کہ قَیدی بھاگ گئے۔ پَس تلوار کھینچ کر اپنے آپ کو مار ڈالنا چاہا۔ 28لیکِن پولُوسؔ نے بڑی آواز سے پُکار کر کہا کہ اپنے تِئیں نُقصان نہ پہُنچا کِیُونکہ ہم سب مَوجُود ہیَں۔29وہ چراغ منگوا کر اَندر جاکُود اور کانپتا ہُؤا پولُوسؔ اور سِیلاسؔ کے آگے گِرا۔ 30اور اُنہِیں باہِر لاکر کہا اَے صاحبو! مَیں کیا کرُوں کہ نِجات پاؤں ؟ 31اُنہوں نے کہا خُداوند یِسُوعؔ پر اِیمان لا تو تُو اور تیرا گھرانا نِجات پائے گا۔32اور اُنہوں نے اُس کو اور اُس کے سب گھر والوں کو خُداوند کا کلام سُنایا۔ 33اور اُس نے رات کو اُسی گھڑی اُنہِیں لے جا کر اُن کے زخم دھوئے اور اُسی وقت اپنے سب لوگوں سمیت بپتِسمہ لِیا۔ 34اور اُنہِیں اُوپر گھر میں لے جا کر دستر خوان بِچھایا اور اپنے سارے گھرانے سمیت خُدا پر اِیمان لاکر بڑی خُوشی کی۔35جب دِن ہُؤا تو فوجداری کے حاکمِوں نے حوالداروں کی معرفت کہلا بھیجا کہ اُن آدمِیوں کو چھوڑ دے۔ 36اور داروغہ نے پولُوسؔ کو اِس بات کی خَبر دی کہ فَوجداری کے حاکمِوں نے تُمہارے چھوڑ دینے کا حُکم بھیج دِیا۔ چُنان٘چِہ اَب نِکل کر سَلامت چلے جاؤ۔37مگر پولُوسؔ نے اُن سے کہا کہ اُنہوں نے ہم کو جو رُومی ہَیں قُصُور ثابِت کِئے بغَیر علانِیہ پِٹوا کر قَید میں ڈالا اور اَب ہم کو چُپکے سے نِکالتے ہیَں ؟ یہ نہِیں ہو سکتا بلکہ وہ آپ آ کر ہمیں باہِر لے جائیں۔ 38حوالداروں نے فَوجداری کے حاکِموں کو اِن باتوں کی خَبردی۔ جب اُنہوں نے سُنا کہ یہ رُومی ہیَں تو ڈر گئے۔ 39اور آ کر اُن کی مِنّت کی اور باہِر لے جا کر دَرخواست کی کہ شہر سے چلے جائیں۔40چُنان٘چِہ وہ قَید خانہ سے نِکل کر لُدِیہ کے ہاں گئے اور بھائِیوں سے مِل کر اُنہِیں تسلّی دی اور روانہ ہُوئے۔
171پھِر وہ امفِپُلِس اور اَپُلّونیہ ہوکر تھِسّلُنِیکے میں آئے جہاں یہُودِیوں کا ایک عِبادت خانہ تھا۔ 2اور پولُوسؔ اپنے دستُور کے مُوافِق اُن کے پاس گیا اور تِین سبتوں کو کِتابِ مُقدّس سے اُن کے ساتھ بحث کی۔3اور اُس کے معنی کھول کھول کر دلِیلیں پیش کرتا تھا کہ مسِیح کو دُکھ اُٹھانا اور مُردوں میں سے جی اُٹھنا ضرُور تھا اور یہی یِسُوعؔ جِس کی مَیں تُمہیں خَبر دیتا ہُوں مسِیح ہَے۔ 4اُن میں سے بعض نے مان لِیا اور پولُوسؔ اور سِیلاؔس کے شِریک ہُوئے اور خُدا پرست یُونانِیوں کی ایک بڑی جماعت اور بہُتیری شِریف عَورتیں بھی اُن کی شِریک ہُوئیں۔5مگر یہُودِیوں نے حسد میں آ کر بازاری آدمِیوں میں سے کئی بدمعاشوں کو اپنے ساتھ لِیا اور بِھیڑ لگا کر شہر میں فساد کرنے لگے اور یاسون کا گھر گھیر لیا اوراُن کی تلاش کرنے لگے اور اُنہِیں لوگوں کے سامنے لے آنا چاہا۔ 6اور جب اُنہِیں نہ پایا تو یاسون اور کئی اَور بھائِیوں کو شہر کے حاکِموں کے پاس چِلّاتے ہُوئے کھینچ لے گئے کہ وہ شَخص جِنہوں نے جہان کو باغی کردِیا یہاں بھی آئے ہَیں۔ 7اور یاسون نے اُنہِیں اپنے ہاں اُتارا ہَے اور یہ سب کے قیصر کے احکام کی مُخالفت کر کے کہتے ہیَں کہ بادشاہ تو اَور ہی ہے یعنی یِسُوعؔ ۔8یہ سُن کر عام لوگ اور شہر کے حاکِم گھبرا گئے۔ 9اور اُنہوں نے یاسونَ اور باقِیوں کی ضمانت لے کر اُنہِیں چھوڑ دِیا۔10لیکِن بھائِیوں نے فوراً راتوں رات پولُوسؔ اور سِیلاسؔ کو بیریہّ میں بھیجدیا۔ وہ وہاں پہُنچ کر یہُودِیوں کے عِبادت خانہ میں گئے۔ 11یہ لوگ تھِسّلُنِیکے کے یہُودِیوں سے نِیک ذات تھے کِیُونکہ اُنہوں نے بڑے شوق سے کلام کو قُبُول کِیا اور روز بروز کِتاب مُقدّس میں تحقِیق کرتے تھے کہ آیا یہ باتیں اِسی طرح ہَیں۔ 12چُنان٘چِہ اُن میں سے بھی بہُت سی عِزّت دار عَورتیں اور مرد اِیمان لائے۔13جب تھِسّلُنِیکے کے یہُودِیوں کو معلُوم ہُؤا کہ پولُوسؔ بیرِیہّ میں بھی خُدا کا کلام سُناتا ہَے تو وہاں بھی جا کر لوگوں کو اُبھارا اور اُن میں کھلبلی ڈالی۔ 14اُس وقت بھائِیوں نے فوراً پولُوسؔ کو روانہ کِیا کہ سُمندر کے کِنارے تک چلا جائے لیکِن سِیلاسؔ اور تِیمُتھِیُس وہِیں رہے۔ 15اور پولُوسؔ کے رہبر اُسے اتھینے تک لے گئے اور سِیلاسؔ اور تِیمُتھِیُس کے لِئے یہ حُکم لے کر روانہ ہُوئے کہ جہاں تک ہوسکے جلد میرے پاس آؤ۔16جب پولُوسؔ اتھینے میں اُن کی راہ دیکھ رہا تھا تو شہر کو بُتوں سے بھرا ہُؤا دیکھ کر اُس کا جی جل گیا۔ 17اِس لِئے وہ عبادت خانہ میں یہُودِیوں اور خُدا پرستوں سے اور چَوک میں جو ملِتے تھے اُن سے روز بحث کِیا کرتا تھا۔18اور چند اِپکورُی اور ستوئیکی فیسُوف اُس کا مُقابلہ کرنے لگے۔ بعض نے کہا کَہ یہ بکواسی کیا کہنا چاہتا ہَے؟ اَوروں نے کہا یہ غیر معبُودوں کی خَبر دینے والا معلُوم ہوتا ہَے اِس لِئے کہ وہ یِسُوعؔ اور قِیامت کی خُوشخَبری دیتا تھا۔19چُنان٘چِہ وہ اُسے اپنے ساتھ اریوپگُس پر لے گئے اور کہا آیا ہم کو معلُوم ہو سکتا ہَے کہ یہ نئی تعلِیم جو تُو دیتا ہَے کیا ہَے؟۔ 20کِیُونکہ تُو ہمیں انوکھی باتیں سُناتا ہَے چُنان٘چِہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اِن سے غرض کیا ہَے۔ 21(اِس لِئے کے سب اتھینوی اور پردیسی جو وہاں مُقِیم تھے اپنی فرصُت کا وقت نئی نئی باتیں کہنے سُننے کے سِوا اور کِسی کام میں صِرف نہ کرتے تھے)۔22پولُوسؔ نے اریو پگُس کے بیچ میں کھڑے ہوکر کہا کہ اَے اتھینے والو! مَیں دیکھتا ہُوں کہ تُم ہر بات میں دیوتاؤں کے بڑے ماننے والے ہو۔ 23چُنان٘چِہ میں نے سِیر کرتے اور تُمہارے معبُودوں پر غَور کرتے وقت ایک اَیسی قُربان گاہ بھی پائی جِس پر لِکھا تھا کہ نا معلُوم خُدا کے لِئے۔ چُنان٘چِہ جِس کو تُم بغَیر معلُوم کِئے پُوجتے ہو مَیں تُم کو اُسی کی خَبر دیتا ہُوں۔24جِس خُدا نے دُنیا اور اُس کی سب چِیزوں کو پَیدا کیا وہ آسمان اور زمِین کا مالِک ہوکر ہاتھ کے بنائے ہُوئے مندروں میں نہِیں رہتا۔ 25نہ کِسی چِیز کا مُحتاج ہوکر آدمِیوں کے ہاتھوں سے خِدمت لیتا ہَے کِیُونکہ وہ تو خُود سب کو زِندگی اور سانس اور سب کُچھ دیتا ہَے۔26اور اُس نے ایک ہی اصل سے آدمِیوں کی ہر ایک قَوم تمام رُوی زمِین پر رہنے کے لئِے پَیدا کی اور اُن کی مِیعادیں اور سکوُنت کی حدیں مُقرر کِیں۔ 27تاکہ خُدا کو ڈھونڈیں۔ شاید کہ ٹٹول کر اُسے پائیں ہر چند وہ ہم میں سے کسِی سے دُور نہِیں۔28کِیُونکہ اُسی میں ہم جِیتے اور چلتے پھِرتے اور مَوجُود ہیَں۔ جیَسا تُمہارے شاعِروں میں سے بھی بعض نے کہا ہَے کہ ہم تو اُس کی نسل بھی ہیَں۔ 29چُنان٘چِہ خُدا کی نسل ہوکر ہم کو یہ خیال کرنا مُناسِب نہِیں کہ ذاتِ اِلہٰی اُس سونے یا رُوپے یا پتھّر کی مانِند ہَے جو آدمِی کے ہُنر اور اِیجاد سے گھڑے گئے ہوں۔30چُنان٘چِہ خُدا جہالت کے وقتوں سے چشم پوشی کر کے اَب سب آدمِیوں کو ہر جگہ حُکم دیتا ہَے کہ تَوبہ کریں۔ 31کِیُونکہ اُس نے ایک دِن ٹھہرایا ہَے جِس میں وہ راستی سے دُنیا کی عدالت اُس آدمِی کی معرفت کرے گا جِسے اُس نے مُقرّر کِیا ہَے اور اُسے مُردوں میں سے جِلاکر یہ بات سب پر ثابِت کردی ہَے۔32جب اُنہوں نے نے مُردوں کی قِیامت کا ذِکر سُنا تو بعض ٹھٹھا مارنے لگے اور بعض نے کہا کہ یہ بات ہم تُجھ سے پھِر کبھی سُنیں گے۔ 33اِسی حالت میں پولُوسؔ اُن کے بِیچ میں سے نِکل گیا۔ 34مگر چند آدمِی اُس کے ساتھ مِل گئے اور اِیمان لے آئے۔ اُن میں دیونُسیِ یُس اریوپگُس کا ایک حاکِم اور دَمَرِس نام ایک عَورت تھی اور بعض اَور بھی اُن کے ساتھ تھے۔
181ان باتوں کے بعد پولُوسؔ اتھینے سے روانہ ہوکر کُرنِتھُس میں آیا۔ 2اورِ وہاں اُس کو اَکوِلہ نام ایک یہُودی مِلا جو پُنطُس کی پَیدایش تھا اور اپنی بِیوی پِرسکلہ سمیت اطالِیہ سے نیا نیا آیا تھا کِیُونکہ کلو دِیس نے حُکم دِیا تھا کہ سب یہُودی رومہ سے نِکل جائیں۔ چُنان٘چِہ وہ اُن کے پاس گیا۔ 3اور چُونکہ اُن کا ہم پیشہ تھا اُن کے ساتھ رہا اور وہ کام کرنے لگے اور اُن کا پیشہ خَیمہ دوزی تھا۔4اور وہ ہر سَبت کو عِبادت خانہ میں بحث کرتا اور یہُودِیوں اور یُونانِیوں کو قائِل کرتا تھا۔ 5اور جب سِیلاؔس اور تِمُتھیئس مَکِدُنیہ سے آئے تو پولُوسؔ کلام سُنانے کے جوش سے مجبُور ہوکر یہُودِیوں کے آگے گواہی دے رہا تھا کہ یِسُوع ہی مسِیح ہَے۔ 6جب لوگ مُخالفت کرنے اور کُفر بکنے لگے تو اُس نے اپنے کپڑے جھاڑ کر اُن سے کہا تُمہارا خُون تُمہاری ہی گَردَن پر۔ مَیں پاک ہُوں۔ اَب سے غَیر قَوموں کے پاس جاؤں گا۔7چُنان٘چِہ وہاں سے چلا گیا اور طِطُس یوستُس نام ایک خُدا پرست کے گھر گیا جو عِبادت خانہ سے مِلا ہُؤا تھا۔ 8اور عِبادت خانہ کا سَردار کرِسپُس اپنے تمام گھرانے سمیت خُداوند پر اِیمان لایا اور بہُت سے کُرنتھی سُن کر اِیمان لائے اور بپتِسمہ لِیا۔9اور خُداوند نے رات کو رویا میں پولُوسؔ سے کہا خَوف نہ کر بلکہ کہے جا اور چُپ نہ رہ۔ 10اِس لِئے کہ مَیں تیرے ساتھ ہُوں اور کوئی شَخص تُجھ پر حملہ کر کے ضرر نہ پہُنچا سکے گا کِیُونکہ اِس شہر میں میرے بہُت سے لوگ ہیَں۔ 11چُنان٘چِہ وہ ڈیڑھ برس اُن میں رہ کر خُدا کا کلام سِکھاتا رہا۔12جب گلّیوجو اخَیہ کا صُوبہ دار تھا اور یہُودی ایکا کر کے پولُوسؔ پر چڑھ آئے اور اُسے عدالت میں لے جا کر۔ 13کہنے لگے کہ یہ شَخص لوگوں کو ترغِیب دیتا ہَے کہ شَرِیعَت کے بر خِلاف خُدا کی پرستِش کریں۔14جب پولُوسؔ نے بولنا چاہا تو گلیو نے یہُودِیوں سے کہا اَے یہُودیو! اگر کُچھ ظُلم یا بڑی شرارت کی بات ہوتی تو واجِب تھا کہ مَیں صبر کر کے تُمہاری سُنتا۔ 15لیکِن جب یہ اَیسے سوال ہیَں جو لفظوں اور ناموں اور خاص تُمہاری شریعت سے عِلاقہ رکھتے ہَیں تو تُم ہی جانو۔ میں اَیسی باتوں کا مصنف بننا چاہتا۔16اور اُس نے اُنہِیں عدالت سے نِکلوادیا۔ 17پھِر سب لوگوں نے عِبادت خانہ کے سَردار سوستھِنیس کو پکڑ کر عدالت کے سامنے مارا مگر گلیو نے اِن باتوں کی کُچھ پروانہ کی۔18چُنان٘چِہ پولُوسؔ بہُت دِن وہاں رہ کر بھائِیوں سے رخُصت ہُؤا اور چُونکہ اُس نے مَنّت مانی تھی۔ اِس لِئے کِنخِریؔہ میں سر مُنڈایا اور جہاز پر سُوریہ کو روانہ ہُؤا اور پِرِسکّلہ اور اَکولہ اُس کے ساتھ تھے۔ 19اور اِفِس میں پہُنچ کر اُس نے اُنہِیں وہاں چھوڑا اور آپ عِبادت خانہ میں جا کر یہُودِیوں سے بحث کرنے لگا۔20جب اُنہوں نے اُس سے دَرخواست کی کہ اَور کُچھ عرصہ ہمارے ساتھ رہ تو اُس نے منظُور نہ کِیا۔ 21بلکہ یہ کہہ کر اُن سے رُخصت ہُؤا کہلازم ہے کہ میں عید پر یروشلؔیم جاؤں اور اگر خُدا نے چاہا تو تمہارےپاس پھِر آؤں گا اور یہ کہہ کراِفُس سے جہاز پر روانہ ہُؤا۔22پھِر قیصرِیہ میں اُترکر یروشلِیم کو گیا اور کلِیسِیا کو سَلام کر کے انطاکِیہ میں آیا۔ 23اور چند روز رہ کر وہاں سے روانہ ہُؤا اور ترتیب وار گلِتیہ کے عِلاقہ اور فُروگیہ سے گُزرتا ہُؤا سب شاگِردوں کو مضبُوط کرتا گیا۔24پھِر اُپلّوس نام ایک یہُودی اِسکندریہ کی پَیدایش خُوش تقریر اور کِتاب مُقدّس کا ماہِر اِفِس میں پہُنچا۔ 25اِس شَخص نے خُداوند کی راہ کی تعلِیم پائی تھی اور رُوحانی جوش سے کلام کرتا اور یِسُوعؔ کی بابت صحیح صحیح تعلِیم دیتا تھا مگر صِرف یُوحنّا کے بپتِسمہ سے واقِف تھا۔ 26وہ عِبادت خانہ میں دِلیری سے بولنے لگا مگر پِرسکلّہ اور اَکوِلہ اُس کی باتیں سُن کر اُسے اپنے گھر لے گئے اور اُس کو خُدا کی راہ اَور زیادہ صِحت سے بتائی۔27جب اُس نے اِرادہ کِیا کہ پار اُترکر اَخیہ کو جائے تو بھائِیوں نے اُس کی ہِمّت بڑھا کر شاگِردوں کو لِکھا کہ اُس سے اچھّی طرح مِلنا۔ اُس نے وہاں پہُنچ کر اُن لوگوں کی بڑی مدد کی جو فَضْل کے سبب سے اِیمان لائے تھے۔ 28وہ کِتابِ مُقدّس سے یِسُوعؔ کا مسِیح ہونا ثابِت کر کے بڑے زور شور سے یہُویوں کو علانِیہ قائِل کرتا رہا۔
191اور جب اپلُوس کُرِنِتھسؔ میں تھا تو اَیسا ہُؤا کہ پولُوسؔاُوپر کے عِلاقہ سے گُزر کر اِفِسُسؔ میں آیا اور کئی شاگِردوں کو دیکھ کر۔ 2اُن سے کہا کیا تُم نے اِیمان لاتے وقت رُوح اُلقدُس پایا اُنہوں نے اُس سے کہا کہ ہم نے تو سُنا بھی نہِیں کہ رُوحُ القُدس نازِل ہُؤا ہَے۔4اُس نے کہا چُنان٘چِہتُم نے کِس کا بپتِسمہ لِیا؟ اُنہوں نے کہا یُوحنّا کا بپتِسمہ۔ 3پولُوسؔ نے کہا یُوحنّاؔ نے لوگوں کو یہ کہہ کر تَوبہ کا بپتِسمہ دِیا کہ جو میرے پِیچھے آنے والا ہَے اُس پر یعنی یِسُوعؔ پر اِیمان لانا۔5اُنہوں نے یہ سُن کر خُداوند یِسُوعؔ کے نام کا بپتِسمہ لِیا۔ 6جب پولُوسؔنے اُن پر ہاتھ رکھّے تو رُوحُ القُدس اُن پر نازِل ہُؤا اور وہ طرح طرح کی زبانیں بولنے اور نبُوّت کرنے لگے۔ 7اور وہ تخمِیناً بارہ آدمِی تھے۔8پھِر وہ عِبادت خانہ میں جا کر تِین مہینے تک دِلیری سے بولتا اور خُدا کی بادشاہی کی بابت بحث کرتا (اور لوگوں کو قائِل کرتا رہا۔) 9لیکِن جب بعض سخت دِل اور نافرمان ہوگئے بلکہ لوگوں کے سامنے اِس طِریق کو بُرا کہنے لگے تو اُس نے اُن سے کِنارہ کر کے شاگِردوں کو الگ کرلِیا اور ہر روز تُرنُّس کے مدرسہ میں بحث کِیا کرتا تھا۔ 10دو برس تک یہی ہوتا رہا۔ یہاں تک کے آسِیہ کے رہنے والوں کیا یہُودی کیا یُونانی سب نے خُداوند کا کلام سُنا۔11اور خُدا پولُوسؔ کے ہاتھوں سے خاص خاص مُعجِزے دِکھاتا تھا۔ 12یہاں تک کے رُومال اور پٹکے اُس کے بَدَن سے چھُو کر بِیماروں پر ڈالے جاتے تھے اور اُن کی بِیمارِیاں جاتی رہتی تھِیں اور بُری رُوحیں اُن میں سے نِکل جاتی تھِیں۔13مگر بعض یہُودِیوں نے جو جھاڑ پھُونک کرتے پھِرتے تھے یہ اِختیّار کِیا کہ جِن میں بُری رُوحیں ہوں اُن پر خُداوند یِسُوعؔ کا نام یہ کہہ کر پھُوکیں کہ جِس یِسُوعؔ کی پولُوسؔمنادی کرتا ہَے مَیں تُم کو اُسی کی قَسم دیتا ہُوں۔ 14اور سِکِوا یہُودی سَردار کاہِن کے سات بَیٹے اَیسا کِیا کرتے تھے۔15بُری رُوح نے جواب میں اُن سے کہا کہ یِسُوعؔ کو تو مَیں جانتی ہُوں اور پولُوسؔ سے بھی واقِف ہُوں مگر تُم کون ہو؟ 16اور وہ شَخص جِس پر بُری رُوح تھی کُود کر اُن پر جا پڑا اور دونوں پر غالِب آ کر اَیسی زِیادتی کی کہ وہ ننگے اور زخمی ہوکر اُس گھر سے نِکل بھاگے۔ 17اور یہ بات اِفسُس کے سب رہنے والے یہُودِیوں اور یُونانِیوں کو معلُوم ہوگئی۔ چُنان٘چِہ سب پر خَوف چھاگیا اور خُداوند یِسُوعؔ کے نام کی بُزُرگی ہُوئی۔18جو اِیمان لائے تھے اُن میں سے بہُتروں نے آ کر اپنے اپنے کاموں کا اِقرار اور اظہار کِیا۔ 19اور بہُت سے جادُوگروں نے اپنی اپنی کتابیں اِکٹھی کر کے سب لوگوں کے سامنے جلادِیں اور جب اُن کی قِیمت کا حِساب ہُؤا تو پچاس ہزار رُوپے نِکلیں۔ 20اِسی طرح خُدا کا کلام زور پکڑ کر پھَیلتا اور غالِب ہوتا گیا۔21جب یہ ہوچُکا تو پولُوسؔنے جی میں ٹھانا کہ مَکِدُنیہ اور اخؔیہ سے ہوکر یروشلِیم کو جاؤں گا اور کہا کہ وہاں جانے کے بعد مُجھے رومہ بھی دیکھنا ضرُور ہَے۔ 22چُنان٘چِہ اپنے خِدمتگزاروں میں سے دو شَخص یعنی تِیمُتھیُس اور اِراستُس کو مَکِدُنیہ میں بھیج کر آپ کُچھ عرصہ آسیہ میں رہا۔23اُس وقت اِس طِریق کی بابت بڑا فساد اُٹھا۔ 24کیونکر دیمیتِریُس نام ایک سُنارتھا جو اَرتمِس کے رو پہلے مندر بنواکر اُس پیشہ والوں کو بہُت کام دِلوا دیتا تھا۔ 25اُس نے اُن کو اور اُن کے مُتعلق اَور پیشہ والوں کو جمع کر کے کہا اَے لوگو! تُم جانتے ہوکہ ہماری آسودگی اِسی کام کی بدَولت ہَے۔26اور تُم دیکھتے اور سُنتے ہوکہ صِرف اِفسُس ہی میں نہِیں بلکہ تقریباً تمام آسیہ میں اِس پولُوسؔ نے بہُت سے لوگوں کو یہ کہہ کر قائِل اور گُمراہ کردِیا ہے کہ جو ہاتھ کے بنائے ہُوئے ہیں وہ خُدا نہِیں ہَیں۔ 27چُنان٘چِہ صِرف یہی خطرہ نہِیں کہ ہمارا پیشہ بے قدر ہوجائے گا بلکہ بڑی دیوی اَرتمِس کا مندر بھی نا چِیز ہو جائے گا اور جِسے تمام آسیہ اور ساری دُنیا پُوجتی ہَے خُود اُس کی عظمت جاتی رہے گی۔28جب اٗنہوں نے یہ سٗنا تو قہر سے بھر گئے اور چِلّا چِلّا کر کہنے لگے کہ اِفسیوں کی اَرتمِس بڑی ہَے۔ 29اور تمام شہر میں ہلچل پڑگئی اور لوگوں نے گَیُس اور اَرِستر خُس مَکِدُنیہ والوں کو جو پولُوسؔکے ہم سفر تھے پکڑ لِیا اور ایک دِل ہوکر تماشا گاہ کو دَوڑے۔30جب پولُوسؔ نے مجمع میں جانا چاہا تو شاگِردوں نے جانے نہ دِیا۔ 31اور آسیہ کے حاکِموں میں سے اُس کے بعض دوستوں نے آدمِی بھیج کر اُس کی مِنّت کی کہ تماشہ گاہ میں جانے کی جُرٔات نہ کرنا۔ 32اور بعض کُچھ چِلّائے اور بعض کُچھ کیونکر مجلِس درہم برہم ہوگئی تھی اور اکثر لوگوں کو یہ بھی خَبر نہ تھی کہ ہم کِس لِئے اِکٹھے ہُوئے ہیَں۔33پھِر اُنہوں نے اِسکندر کو جِسے یہُودی پیش کرتے تھے بھِیڑ میں سے نِکال کر آگے کردِیا اور اِسکندر نے ہاتھ سے اِشارہ کر کے مجمع کے سامنے عُذر بیان کرنا چاہا۔ 34جب اُنہِیں معلُوم ہُؤا کہ یہ یہُودی ہَے تو سب ہم آواز ہوکر کوئی دو گھنٹے تک چِلّاتے رہے کہ اِفسیوں کی اَرتمِس بڑی ہَے۔35پھِر شہر کے محرّر نے لوگوں کو ٹھنڈا کر کے کہا اَے اِفِسیو!کون سا آدمی نہیں جانتا کہ افسیوں کا شہر بڑی دیوی ارتمِس کے مندر اور اُس مُورت کا مُحافِظ ہے جوزِیوس کی طرف سے گِری تھی؟۔ 36چُنان٘چِہ جب کوئی اِن باتوں کے خِلاف نہِیں کہہ سکتا تو واجِب ہَے کے تُم اِطمینان سے رہو اور بے سوچے کُچھ نہ کرو۔ 37کِیُونکہ یہ لوگ جِن کو تُم یہاں لائے ہو نہ مندر کو لُوٹنے والے ہَیں نہ ہماری دیوی کی بد گوئی کرنے والے۔38چُنان٘چِہ اگر دیمیتِریُس اور اُس کے ہم پیشہ کِسی پر دعوٰی رکھتے ہوں تو عدالت کھُلی ہَے اور صُوبہ دار مَوجُود ہَیں۔ ایک دُوسرے پر نالِش کریں۔ 39اور اگر تُم کِسی اَور امر کی تحقِیقات چاہتے ہوتو باضابطہ مجلِس میں فَیصلہ ہوگا۔ 40کِیُونکہ آج کے بلوے کے سبب سے ہمیں اپنے اُوپر نالِش ہونے کا اندیشہ ہَے اِس لِئے کہ اِس کی کوئی وجہ نہِیں ہَے اور اِس صُورت میں ہم اِس ہنگامہ کی جوابدِہی نہ کرسیں گے۔ یہ کہہ کر اُس نے مجلِس کر برخاست کِیا۔

201جب ہُلّڑ مَوقُوف ہوگیا تو پولُوسؔنے شاگِردوں کو بُلوا کر نصِیحت کی اور اُن سے رخُصت ہوکر مَکِدُنیہ کو روانہ ہُؤا۔ 2اور اُس عِلاقہ سے گُزر کر اور اُنہِیں بہُت نصِیحت کر کے یُونان میں آیا۔ 3جب تِین مہینے رہ کر سُوریہ کی طرف جہاز پر روانہ ہونے کو تھا تو یہُودِیوں نے اُس کے برخِلاف سازِش کی۔ پھِر ایک مقصد کے تحت اُس کی یہ صلاح ہُوئی کہ مَکِدُؔنیہ ہوکر واپَس جائے۔4اور پُرُسؔ کا بَیٹا سوپُؔترُس جو بیریہّ کا تھا اور تھِسّلُنِیکِیوں میں سے ارِستؔرخُس اور سِکُؔندُس اور گؔیُس جو دِربے کا تھا اور تِیؔمُتھیُس اور آسیہ کا تُخِؔکُس تُرُفِمُؔس آسیہ تک اُس کے ساتھ گئے۔ 5یہ آگے جا کر ترو آس میں ہماری راہ دیکھتے رہے۔ 6اور عِید فطِیر کے دِنوں کے بعد ہم فلپّی سے جہاز پر روانہ ہوکر پانچ دِن کے بعد تروآس میں اُن کے پاس پہُنچے اور سات دِن وَہیں رہے۔7ہفتہ کے پہلے دِن جب ہم روٹی توڑنے کے لِئے جمع ہُوئے تو پولُوسؔنے دُوسرے دِن روانہ ہونے کا اِرادہ کر کے اُن سے باتیں کِیں اور آدھی رات تک کلام کرتا رہا۔ 8جِس بالا خانہ پر ہم جمع تھے اُس میں بہُت سے چراغ جل رہے تھے۔9یُوتُؔخُس نام ایک جوان کھِڑکی میں بَیٹھا تھا۔ اُس پر نِید کا بڑا غلبہ تھا اور جب پولُوسؔزیادہ دیر تک باتیں کرتا رہا تو وہ نِیند کے غلبہ میں تِیسری منزل سے گِر پڑا اور اُٹھایا گیا تو مُردہ تھا۔ 10پولُوسؔ اُتر کر اُس سے لِپٹ گیا اور گلے لگا کر کہا گھبراؤ نہِیں۔ اِس میں جان ہَے۔11پھِر اُوپر جا کر روٹی توڑی اور کھا کر اِتنی دیر تک اُن سے باتیں کرتا رہا کہ پَو پھٹ گئی۔ پھِر وہ روانہ ہوگیا۔ 12اور وہ اُس لڑکے کو جِیتا لائے اور اُن کی بڑی خاطِر جمع ہُوئی۔13ہم جہاز تک آگے جا کر اِس اِرادہ سے استُؔس کو روانہ ہُوئے کہ وہاں پہُنچ کر پولُوسؔ کو چڑھالیں کِیُونکہ اُس نے پَیدل جانے کا اِرادہ کر کے یہی تجویز کی تھی۔ 14چُنان٘چِہ جب استُؔس میں ہمیں مِلا تو ہم اُسے چڑھا کر مِتُؔلینے میں آئے۔15اور وہاں سے جہاز پر روانہ ہوکر دُوسرے دِن خِؔیُس کے سامنے پہُنچے اور تیِسرے دِن سامُس تک آئے اور اگلے دِن مِیلیتُس میں آگئے۔ 16کِیُونکہ پولُوسؔ نے ٹھان لِیا تھا کہ اِفِؔسُس کے پاس سے گُزرے اَیسا نہ ہوکہ اُسے آسؔیہ میں دیر لگے۔ اِس لِئے کہ وہ جلدی کرتا تھا کہ اگر ہوسکے تو پِنتیکُست کے دِن یروشلِیم میں ہو۔17اور اُس نے مِیلؔیتُس سے اِفؔسُس میں کہلا بھیجا اور کلِیسِیا کے بُزُرگوں کو بُلایا۔ 18جب وہ اُس کے پاس آئے تو اُن سے کہا تُم خُود جانتے ہوکہ پہلے ہی دِن سے کہ مَیں نے آسؔیہ میں قدم رکھّا ہر وقت تُمہارے ساتھ کِس طرح رہا۔ 19یعنی کمال فروتنی سے اور آنسُو بہا بہا کر اور آزمایشوں میں جو یہُودِیوں کی سازش کے سبب سے مُجھ پر واقِع ہُوئیں خُداوند کی خِدمت کرتا رہا۔ 20اور جو جو باتیں تمُہارے فائِدہ کی تھِیں اُن کے بیان کرنے اور علانیہ اور گھر گھر سِکھانے سے کبھی نہ جھِجکا۔ 21بلکہ یہُودِیوں اور یُونانِیوں کے رُو برُو گواہی دیتا رہا کہ خُدا کے سامنے تَوبہ کرنا اور ہمارے خُداوند یِسُوعؔ مسِیح پر اِیمان لانا چاہِئے۔24بلکہ یہُودِیوں اور یُونانِیوں کے رُو برُو گواہی دیتا رہا کہ خُدا کے سامنے تَوبہ کرنا اور ہمارے خُداوند یِسُوعؔ مسِیح پر اِیمان لانا چاہِئے۔ 22اور اَب دیکھو مَیں رُوح میں بندھا ہُؤا یروشلِیم کو جاتا ہُوں اور نہ معلُوم کہ وہاں مُجھ پر کیا کیا گُزرے۔ 23سِوا اِس کے کہ رُوحُ القُدس ہر شہر میں گواہی دے دے کر مُجھ سے کہتا ہے کہ قَید اور مُصِیبتیں تیرے لِئے تیّار ہَیں۔لیکِن مَیں اپنی جان کو عِزیز نہِیں سَمَجھتا کہ اُس کی کُچھ قدر کرُوں بمُقابلہ اِس کے کہ اپنا دَور اور وہ خِدمت جو خُداوند یِسُوعؔسے پائی ہے پُوری کرُوں یعنی خُدا کے فَضْل کی خُوشخَبری کی گواہی دُوں۔ 25اور اَب دیکھو مَیں جانتا ہُوں کہ تُم سب جِن کے درمیان مَیں بادشاہی کی منادی کرتا پھِرا میرا مُنہ پھِر نہ دیکھو گے۔ 26اِسلئے مَیں آج کے دِن تُمہیں قطعی کہتا ہُوں کہ سب آدمِیوں کے خُون سے پاک ہُوں۔ 27کِیُونکہ مَیں خُدا کی ساری مرضی تُم سے پُورے طَور پر بیان کرنے سے نہ جھِجکا۔28چُنان٘چِہ اپنی اور اُس سارے گلّہ کی خَبرداری کرو جِس کا رُوحُ القُدس نے تُمہیں نِگہبان ٹھہرایا تاکہ ایک چرواہے کی طرح خُدا کی کلِیسِیا کی گلّہ بانی کرو جِسے اُس نے خاص اپنے خُون سے مول لِیا۔ 29مَیں یہ جانتا ہُوں کہ میرے جانے کے بعد پھاڑنے والے بھیڑئے تُم میں آئیں گے جِنہِیں گلّہ پر کُچھ ترس نہ آئے گا۔ 30اور خُود تُم میں سے اَیسے آدمِی اُٹھیں گے جو اُلٹی اُلٹی باتیں کہیں گے تاکہ شاگِردوں کو اپنی طرف کھینچ لیں۔31اِس لِئے جاگتے رہو اور یاد رکھّو کہ مَیں تِین برس تک رات دِن آنسُو بہا بہا کر ہر ایک کو سمجھانے سے باز نہ آیا۔ 32اب مَیں تُمہیں خُدا اور اُس کے فَضْل کے کلام کے سُپرد کرتا ہُوں جو تُمہاری ترقّی کر سکتا ہَے اور تمام مُقدّسوں میں شِریک کر کے مِیراث دے سکتا ہَے۔33مَیں نے کِسی کی چاندی یا سونے یا کپڑے کا لالچ نہِیں کِیا۔ 34تُم آپ جانتے ہوکہ اِنہی ہاتھوں نے میری اور میرے ساتھِیوں کی حاجتیں رفع کِیں۔ 35مَیں نے تُم کو سب باتیں کر کے دِکھا دِیں کہ اِس طرح محِنت کر کے کمزوروں کو سنبھالنا اور خُداوند یِسُوعؔ کی باتیں یاد رکھنا چاہِیے کہ اُس نے خُود کہا دینا لینے سے مُبارک ہَے۔36اُس نے یہ کہہ کر گُٹنے ٹیکے اور اُن سب کے ساتھ دُعا کی۔ 37اور وہ سب بہُت روئے اور پولُوسؔ کے گلے لگ لگ کر اُس کے بوسے لِئے۔ 38اور خاص کر اِس بات پر غمگِین تھے جو اُس نے کہی تھی کہ تُم پھِر میرا مُنہ نہ دیکھو گے۔ پھِر اُسے جہاز تک پہُنچایا۔
211اور جب ہم اُن سے بمُشکِل جُدا ہوکر جہاز پر روانہ ہُوئے تو اَیسا ہُؤا کہ سِیدھی راہ سے کوسؔ میں آئے اور دُوسرے دِن رُدُسؔ میں اور وہاں سے پتؔرہ میں۔ 2پھِر ایک جہاز سِیدھا فِینیکے کو جاتا ہُؤا مِلا اور اُس پر سوار ہوکر روانہ ہُوئے۔3جب کُپُرس نظر آیا تو اُسے بائیں ہاتھ چھوڑ کر سُورؔیہ کو چلے اور صُوؔر میں اُترے کِیُونکہ وہاں جہاز کا مال اُتارنا تھا۔ 4جب شاگِردوں کو تلاش کرلِیا تو ہم سات روز وہاں رہے۔ اُنہوں نے رُوح کی معرفت پولُوسؔ سے کہا کہ یروشلِیم میں قدم نہ رکھنا۔5اور جب وہ دِن گُزر گئے تو اَیسا ہُؤا کہ ہم نِکل کر روانہ ہُوئے اور سب نے بِیویوں اور بچّوں سمیت ہم کو شہر کے باہِر تک پہُنچایا۔ پھِر ہم نے سُمندر کے کِنارے گھُٹنے ٹیک کر دُعا کی۔ 6اور ایک دُوسرے سے وِداع ہوکر ہم تو جہاز پر چڑھے اور وہ اپنے اپنے گھر واپَس چلے گئے۔7ہم صُوؔر سے جہاز کا سفر تمام کر کے پَتُلَمِؔیس میں پہُنچے اور بھائِیوں کو سَلام کِیا اور ایک دِن اُن کے ساتھ رہے۔ 8دُوسرے دِن ہم روانہ ہوکر قیصرِؔیہ میں آئے اور فلِؔپُّس مُبشر کے گھر جو اُن ساتوں میں سے تھا اُتر کر اُس کے ساتھ رہے۔ 9اُس کی چار کُنواری بیٹیاں تھِیں جو نبُّووت کرتی تھِیں۔10اور جب وہاں بہُت روز رہے تو اگؔبُس نام ایک نبی یہُودیہ سے آیا۔ 11اُس نے ہمارے پاس آ کر پولُوسؔ کا کمر بند لِیا اور اپنے ہاتھ پاؤں باندھ کر کہا رُوحُ القُدس یُوں فرماتا ہَے کہ جِس شَخص کا یہ کمر بند ہَے اُس کو یہُودی یروشلِؔیم میں اِسی طرح باندھیں گے اور غَیرقَوموں کے ہاتھ میں حوالہ کریں گے۔12جب یہ سُنا تو ہم نے اور وہاں کے لوگوں نے اُس کی مِنّت کی کہ یروشلِیم کو نہ جائے۔ 13مگر پولُوسؔ نے جواب دِیا کہ تُم کیا کرتے ہو؟ کِیُوں رو روکر میرا دِل توڑتے ہو؟ مَیں تو یروشلِؔیم میں خُداوند یِسُوعؔ کے نام پر نہ صِرف باندھے جانے بلکہ مرنے کو بھی تیّار ہُوں۔ 14جب اُس نے نہ مانا تو ہم یہ کہہ کر چُپ ہوگئے کہ خُداوند کی مرضی پُوری ہو۔15اُن دِنوں کے بعد ہم اپنے سفر کا اسباب تیّار کر کے یروشلِیم کو گئے۔ 16اور قیصرِیہ سے بھی بعض شاگِرد ہمارے ساتھ چلے اور ایک قدِیم شاگِرد مَنَاسون کُپڑی کو ساتھ لے آئے تاکہ ہم اُس کے ہاں مِہمان ہوں۔17جب یروشلِؔیم میں پہُنچے تو بھائِی بڑی خُوشی کے ساتھ ہم سے مِلے۔ 18اور دُوسرے دِن پولُوسؔ ہمارے ساتھ یَعقُوؔب کے پاس گیا اور سب بُزُرگ وہاں حاضِر تھے۔ 19اُس نے اُنہِیں سَلام کر کے جو کُچھ خُدا نے اُس کی خِدمت سے غَیرقَوموں میں کِیا تھا مُفّصل بیان کِیا۔20اُنہوں نے یہ سُن کر خُدا کی تمجِید کی۔ پھِر اُس سے کہا اَے بھائِی تُو دیکھا ہے کہ یہُودِیوں میں ہزارہا آدمِی اِیمان لے آئے ہیَں اور وہ سب شَرِیعَت کے بارے میں سرگرم ہَیں۔ 21اور اُن کو تیرے بارے میں سِکھا دِیا گیا ہَے کہ تُو غَیر قَوموں میں رہنے والے سب یہُودِیوں کو یہ کہہ کر مُوسیٰؔ سے پِھر جانے کی تعلِیم دیتا ہے کہ نہ اپنے لڑکوں کا ختنہ کرو نہ مُوسوی رسموں پر چلو۔22چُنان٘چِہ کیا کِیا جائے؟ لوگ ضرُور سُنیں گے کہ تُو آیا ہَے۔ 23اِس لِئے جو ہم تُجھ سے کہتے ہیَں وہ کر ۔ ہمارے ہاں چار آدمِی اَیسے ہیں جِنہوں نے مَنت مانی ہَے۔ 24اُنہِیں لے کر اپنے آپ کو اُن کے ساتھ پاک کر اور اُن کی طرف سے کُچھ خرچ کرتا کہ وہ سر مُنڈائیں تو سب جان لیں گے کہ جو باتیں اُنہِیں تیرے بارے میں سِکھائی گئی ہیں اُن کی کُچھ اصل نہِیں بلکہ تُو خُود بھی شَرِیعَت پر عمل کر کے دُرستی سے چلتا ہَے۔25مگر غَیر قَوموں میں سے جو اِیمان لائے اُن کی بابت ہم نے یہ فَیصلہ کر کے لِکھا تھاکہ وہ صِرف بُتوں کی قُربانی کے گوشت سے اور لہُو اور گلا گھونٹے ہُوئے جانوروں اور حرامکاری سے اپنے آپ کو بَچائے رکھّیں۔ 26اِس پر پولُوسؔ اُن آدمِیوں کو لے کر اور دُوسرے دِن اپنے آپ کو اُن کے ساتھ پاک کر کے ہَیکل میں داخِل ہُؤا اور خَبردی کہ جب تک ہم میں سے ہر ایک کی نذرنہ چڑھائی جائے تقدُّس کے دِن پُورے کریں گے۔27جب وہ سات دِن پُورے ہونے کو تھے تو آسیؔہ کے یہُودِیوں نے اُسے ہَیکل میں دیکھ کر سب لوگوں میں ہلچل مچائی اور یُوں چِلّا کر اُس کو پکڑلِیا۔ 28کہ اَے اِسرئیلیو مدد کرو۔ یہ وُہی آدمِی ہَے جو ہر جگہ سب آدمِیوں کو اُمّت اور شَرِیعَت اور اِس مقام کے خِلاف تعلِیم دیتا ہے بلکہ اُس نے یُونانِیوں کو بھی ہَیکل میں لاکر اِس پاک مقام کو ناپاک کِیا ہَے۔ 29کِیُونکہ اُنہوں نے اِس سے پہلے ترُفِمس اِفِسی کو اُس کے ساتھ شہر میں دیکھا تھا۔ اُسی کی بابت اُنہوں نے خیال کِیا کہ پولُوسؔاُسے ہَیکل میں لے آیا ہَے۔30اور تمام شہر میں ہلچل پڑگئی اور لوگ دَوڑ کر جمع ہُوئے اور پولُوسؔ کو پکڑکر ہَیکل سے باہِر گھسِیٹ کرلے گئے اور فوراً دروازے بند کر لئِے گئے۔ 31جب وہ اُسے قتل کرنا چاہتے تھے تو اُوپر پلٹن کے سَردار کے پاس خَبر پہُنچی کہ تمام یروشلِؔیم میں کھلبلی پڑگئی ہَے۔32وہ اُسی دم سِپاہِیوں اور صُوبہ داروں کولے کر اُن کے پاس نیِچے دَوڑا آیا اور وہ پلٹن کے سَردار اور سِپاہِیوں کو دیکھ کر پولُوسؔکی مارپیٹ سے باز آئے۔ 33اِس پر پلٹن کے سَردار نے نزدِیک آ کر اُسے گِرفتار کِیا اور دو زنجِیروں سے باندھنے کا حُکم دے کر پُوچھنے لگا کہ یہ کَون ہَے اور اِس نے کیا کِیا ہَے؟34بِھیڑ میں سے بعض کُچھ چلائے اور بعض کُچھ۔ پَس جب ہُلّڑ کے سبب سے کُچھ حقِیقت دریافت نہ کرسکا تو حُکم دِیا کہ اُسے قلعہ میں لے جاؤ۔ 35جب سِیڑھیوں پر پہُنچا تو بِھیڑ کی زبردستی کے سبب سے سِپاہِیوں کو اُسے اُٹھاکر لے جانا پِڑا۔ 36کِیُونکہ لوگوں کی بِھیڑ یہ چلاتی ہُوئی اُس کے پِیچھے پڑی کہ اُس کا کام تمام کر۔37اور جب پولُوسؔ کو قلعہ کے اَندر لے جانے کو تھے تو اُس نے پلٹن کے سَردار سے کہا کیا مُجھے اِجازت ہَے کہ تُجھ سے کُچھ کہُوں؟ اُس نے کہا تُو یُونانی جانتا ہَے؟۔ 38کیا تُو وہ مِصری نہِیں جو اِس سے پہلے غازِیوں میں سے چار ہزار آدمِیوں کو باغی کر کے بیابان میں لے گیا؟39پولُوسؔ نے کہا مَیں یہُودی آدمِی کلکِؔیہ کے مشہُور شہر ترسُؔس کا باشِندہ ہُوں مَیں تیری مِنّت کرتا ہُوں کہ مُجھے لوگوں سے بولنے کی اِجازت دے۔ 40جب اُس نے اُسے اِجازت دی تو پولُوسؔنے سِیڑھیوں پر کھڑے ہوکر لوگوں کو ہاتھ سے اِشارہ کِیا۔ جب وہ چُپ چاپ ہوگئے تو عِبرانی زبان میں یُوں کہنے لگا کہ
221اَے بھائِیو اور بُزُرگو! میرا عُذر سُنو جو اَب تُم سے بیان کرتا ہُوں۔ 2جب اُنہوں نے سُنا کہ ہم سے عِبرانی زبان میں بولتا ہَے تو اَور بھی چُپ چاپ ہوگئے۔ چُنان٘چِہ اُس نے کہا۔3مَیں یہُودی ہُوں اور کلِکیہ کے شہر تَرسُس میں پَیدا ہُؤا مگر میری تربِیت اِس شہر میں گملی ایل کے قدموں میں ہُوئی اور مَیں نے باپ دادا کی شَرِیعَت کی خاص پاِبنِدی کی تعلِیم پائی اور خُدا کی راہ میں اَیسا سرگرم تھا جَیسے تُم سب آج کے دِن ہو۔ 4چُنانچہ مَیں نے مردوں اور عَورتوں کو باندھ باندھ کر اور قَید خانہ میں ڈال ڈال کر مسِیحی طِریق والوں کو یہاں تک ستایا کہ مروا میں ڈالا۔ 5چُنانچہ سَردار کاہِن اور سب بُزُرگ میرے گواہ ہَیں کہ اُن سے مَیں بھائِیوں کے نام خط لے کر دمشق کو روانہ ہُؤا تاکہ جِتنے وہاں ہوں اُنہِیں بھی باندھ کر یروشلِیم میں سزا دِلانے کو لاؤں۔6جب مَیں سفر کرتا کرتا دمشقؔ کے نزدِیک پہُنچا تو اَیسا ہُؤا کہ دوپہر کے قرِیب یکایک ایک بڑا نُور آسمان سے میرے گِردا گِرد آچمکا۔ 7اور مَیں زمِین پر گِر پڑا اور یہ آواز سُنی کہ اَے ساؤل اَے ساؤل! تو مُجھے کِیُوں ستاتا ہَے؟ 8میں نے یہ جواب دِیا کہ اَے خُداوند! تُو کَون ہَے ؟ اُس نے مُجھ سے کہا مَیں یِسُوعؔناصری ہُوں جِسے تُو ستاتا ہَے؟9اور میرے ساتھِیوں نے نُور دیکھا لیکِن جو مُجھ سے بولتا تھا اُس کی آواز نہ سُنی۔ 10مَیں نے کہا اَے خُداوند مَیں کیا کرُوں ؟ خُداوند نے مُجھ سے کہا اُٹھ کر دمشق میں جا۔ جو کُچھ تیرے کرنے کے لِئے مُقرّر ہُؤا ہَے وہاں تُجھ سے سب کہا جائے گا۔ 11جب مُجھے اُس نُور کے جلال کے سبب سے کُچھ دِکھائی نہ دِیا تو میرے ساتھی میرا ہاتھ پکڑ کر مُجھے دمشق میں لے گئے۔12اور حننِیاؔہ نام ایک شَخص جو شَرِیعَت کے مُوافِق دِیندار اور وہاں کے سب رہنے والے یہُودِیوں کے نزدِیک نیکنام تھا۔ 13میرے پاس آیا اور کھڑے ہوکر مُجھ سے کہا بھائِی ساؤل پھِر بِینا ہو! اُسی گھڑی بِینا ہوکر مَیں نے اُس کو دیکھا۔

14اُس نے کہا ہمارے باپ دادا کے خُدا نے تُجھ کو اِس لِئے مُقرّر کِیا ہَے کہ تُو اُس کی مرضی کو جانے اور اُس راستباز کو دیکھے اور اُس کے مُنہ کی آواز سُنے۔ 15کِیُونکہ تُو اُس کی طرف سے سب آدمِیوں کے سامنے اُن باتوں کا گواہ ہوگا جو تُو نےدیکھی اور سُنی ہیَں۔ 16اب کِیُوں دیر کرتا ہَے؟ اُٹھ بپتِسمہ لے اور اُس کا نام لے کر اپنے گُناہوں کو دھو ڈال۔17جب مَیں پھِر یروشلِؔیم میں آ کر ہَیکل میں دُعا کر رہا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ مَیں بے خُود ہوگیا۔ 18اور اُس کو دیکھا کہ مُجھ سے کہتا ہَے جلدی کر اور فوراً یروشلِیم سے نِکل جا کِیُونکہ وہ میرے حق میں تیری گواہی قُبول نہ کریں گے۔19مَیں نے کہا اَے خُداوند! وہ خُود جانتے ہَیں کہ جو تُجھ پر اِیمان لائے مَیں اُن کو قَید کراتا اور جا بجا عِبادت خانوں میں پِٹواتا تھا۔ 20اور جب تیرے شہِید سِتفَنُؔس کا خُون بہایا جاتا تھا تو مَیں بھی وہاں کھڑا تھا اور اُس کے قتل پر راضی تھا اور اُس کے قاتِلوں کے کپڑوں کی حِفاظت کرتا تھا۔ 21اُس نے مُجھ سے کہا جا۔ مَیں تُجھے غَیر قَوموں کے پاس دُور دُور بھیجُوں گا۔22وہ اِس بات تک تو اُس کی سُنتے رہے۔ پھِر بُلند آواز سے چِلّائے کہ اَیسے شَخص کو زمِین پر سے فنا کر دے! اُس کا زِندہ رہنا مُناسِب نہِیں۔ 23جب وہ چِلّاتے اور اپنے کپڑے پھینکتے اور خاک اُڑاتے تھے۔ 24تو پلٹن کے سَردار نے حُکم دے کر کہا کہ اُسے قلعہ میں لے جاؤٔ اور کوڑے مارکر اُس کا اِظہار لو تاکہ مُجھے معلُوم ہوکہ وہ کِس سبب سے اُس کی مُخالفت میں یُوں چِلّاتے ہَیں۔25جب اُنہوں نے تسموں سے باندھ لِیا تو پولُوسؔنے اُس صُوبہ دار سے جو پاس کھڑا تھا کہا کیا تُمہیں روا ہَے کہ ایک رُومی آدمِی کو کوڑے مارو اور وہ بھی قُصُور ثابِت کئِے بغَیر؟۔ 26صُوبہ دار یہ سُن کر پلٹن کے سَردار کے پاس گیا اور اُسے خَبر دے کر کہا تُو کیا کرتا ہَے؟ یہ تو رُومی آدمِی ہَے۔27پلٹن کے سَردار نے اُس کے پاس آ کر کہا مُجھے بتا تو۔ کیا تُو رُومی ہَے؟ اُس نے کہا ہاں۔ 28پلٹن کے سَردار نے جواب دِیا کہ مَیں نے بڑی رقم دے کر رُومی ہونے کا رُتبہ حاصِل کِیا۔ پولُوسؔنے کہا مَیں تو پَیدایشی ہُوں۔ 29چُنان٘چِہ جو اُس کا اِظہار لینے کو تھے فوراً اُس سے الگ ہوگئے اور پلٹن کا سَردار بھی یہ معلُوم کر کے ڈرگیا کہ جِس کو مَیں نے باندھا ہے وہ رُومی ہَے۔30صُبح کو یہ حقِیقت معلُوم کرنے کے اِرادہ سے کہ یہُودی اُس پر کیا اِلزام لگاتے ہَیں اُس نے اُس کو کھول دِیا اور سَردار کاہِن اور سب صدرِ عدالت والوں کو جمع ہونے کا حُکم دِیا اور پولُوسؔ کو نیچِے لیجا کر اُن کے سامنے کھڑا کر دِیا۔
231پولُوسؔ نے صدرِ عدالت والوں کو غَور سے دیکھ کر کہا اَے بھائِیو! مَیں نے آج تک کمال نیک نِیتّی سے خُدا کے واسطے عُمر گزاری ہَے۔ 2سَردار کاہِن حننِیاؔہ نے اُن کو جو اُس کے پاس کھڑے تھے حُکم دِیا کہ اُس کے مُنہ پر طمانچہ مارو۔ 3پولُوسؔ نے اُس سے کہا کہ اَے سفیدی پھِری ہُوئی دِیوار! خُدا تُجھے ماریگا۔ تُو شَرِیعَت کے مُوافِق میرا اِنصاف کرنے کو بَیٹھا ہَے اور کیا شَرِیعَت کے برخِلاف مُجھے مارنے کا حُکم دیتا ہَے۔4جو پاس کھڑے تھے اُنہوں نے کہا کیا تُو خُدا کے سَردار کاہِن کو بُرا کہتا ہَے؟۔ 5پولُوسؔ نے کہا اَے بھائِیو! مُجھے معلُوم نہ تھا کہ یہ سَردار کاہِن ہَے کِیُونکہ لکِھا ہَے کہ اپنی قَوم کے سَردار کو بُرا نہ کہہ۔6جب پولُوسؔ نے یہ معلُوم کِیا کہ بعض صدُوقی ہیَں بعض فِریسی تو عدالت میں پُکار کر کہا کہ اَے بھائِیو! مَیں فِریسی اور فِریسیوں کی اَولاد ہُوں۔ مُردوں کی اُمِید اور قِیامت کے بارے میں مُجھ پر مُقدّمہ ہورہا ہَے۔ 7جب اُس نے یہ کہا تو فِریسیوں اور صدُوقِیوں میں تکرار ہُوئی اور حاضرِین میں پھُوٹ پڑگئی۔ 8کِیُونکہ صدُوقی تو کہتے ہیَں کہ نہ قِیامت ہوگی نہ کوئی فِرشتہ ہَے نہ رُوح مگر فرِیسی دونوں کا اِقرار کرتے ہَیں۔9چُنان٘چِہ بڑا شور ہُؤا اور فِریسیوں کے فِرقہ کے بعض فقِیہ اُٹھے اور یُوں کہہ کر جھگڑنے لگے کہ ہم اِس آدمِی میں کُچھ بُرائی نہِیں پاتے اور اگر کِسی رُوح یا فِرشتہ نے اِس سے کلام کِیا ہوتو پھِر کیا ؟۔ 10اور جب بڑی تکرار ہُوئی تو پلٹن کے سَردار نے اِس خَوف سے کہ مبادا پولُوسؔ کے ٹکڑے کردِئے جائیں فَوج کا حُکم دِیا کہ اُتر کر اُسے اُن میں سے زبردستی نکِالو اور قلعہ میں لے آؤ۔11اُسی رات خُداوند اُس کے پاس آکھڑا ہُؤا اور کہا خاطِر جمع رکھ کہ جَیسے تُونے میری بابت یروشلِیم میں گواہی دی ہَے وَیسے ہی ضرورہَے کہ تُو رومہ میں بھی گواہی دے۔12جب دِن ہُؤا تو یہُودِیوں نے ایکا کر کے اور لعنت کی قَسم کھا کر کہا کہ جب تک ہم پولُوسؔ کو قتل نہ کرلیں نہ کُچھ کھائیں گے نہ پِئیں گے۔ 13اور جِنہوں نے آپس میں یہ سازِش کی وہ چالِیس سے زیادہ تھے۔14چُنان٘چِہ اُنہوں نے سَردار کاہِنوں اور بُزُرگوں کے پاس جا کر کہا کہ ہم نے سخت لعنت کی قَسم کھائی ہَے کہ جب تک پولُوسؔ کو قتل نہ کرلیں کُچھ نہ چکھّیں گے۔ 15چُنان٘چِہ اَب تُم صدرِ عدالت والوں سے مِل کر پلٹن کے سَردار سے عرض کرو کہ اُسے تُمہارے پاس لائے۔ گویا تُم اُس کے معاملہ کی حقِیقت زیادہ دریافت کرنا چاہتے ہو اور ہم اُس کے پہُنچنے سے پہلے اُسے مار ڈالنے کو تیّار ہیَں۔16لیکِن پولُوسؔ کا بھانجا اُن کی گھات کا حال سُن کر آیا اور قلعہ میں جا کر پولُوسؔ کو خَبر دی۔ 17پولُوسؔ نے صُوبہ داروں میں سے ایک کو بُلاکر کہا اِس جوان کو پلٹن کے سَردار کے پاس لے جا۔ یہ اُس سے کُچھ کہنا چاہتا ہَے۔18چُنان٘چِہ اُس نے اُس کو پلٹن کے سَردار کے پاس لے جا کر کہا کہ پولُوسؔ قَیدی نے مُجھے بُلاکر دَرخواست کی کہ اِس جوان کو تیرے پاس لاؤُں کہ تُجھ سے کُچھ کہنا چاہتا ہَے۔ 19پلٹن کے سَردار نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اور الگ جا کر پُوچھا کہ مُجھ سے کیا کہنا چاہتا ہَے؟20اُس نے کہا یہُودِیوں نے ایکا کِیا ہَے کہ تُجھ سے دَرخواست کریں کہ کل پولُوسؔ کو صدرِ عدالت میں لائے۔ گویا تُو اُس کے حال کی اَور بھی تحقِیقات کرنا چاہتا ہَے۔ 21لیکِن تُو اُن کی نہ ماننا کِیُونکہ اُن میں چالِیس شَخص سے زیادہ اُس کی گھات میں ہَیں جِنہوں نے لعنت کی قَسم کھائی ہے کہ جب تک اُسے مار نہ ڈالیں نہ کھائیں گے نہ پِئیں گے اور اَب وہ تیّار ہَیں۔ صِرف تیرے وعدہ کا اِنتظار ہَے۔22چُنان٘چِہ سَردار نے جوان کو یہ حُکم دے کر رُخصت کِیا کہ کِسی سے نہ کہنا کہ تُونے مُجھ پر یہ ظاہِر کِیا۔ 23اور وہ صُوبہ داروں کو پاس بُلاکر کہا کہ دوسَو سِپاہی اور ستّر سوار اور دو سَو نیزہ بردار پہر رات گئے قیصرِیہ جانے کو تیّار کر رکھنا۔ 24اور حُکم دِیا کہ پولُوسؔ کی سواری کے لئِے جانوروں کو بھی حاضِر کریں تاکہ اُسے فیلِکس حاکِم کے پاس صحِیح سَلامت پہُنچادیں۔25اور اِس مضُمون کا خط لِکھا۔ 26کلؔودِیُس لُوسِیاس کا فیلِؔکس بہادر حاکِم کو سَلام۔ 27اِس شَخص کو یہُودِیوں نے پکڑ کر مار ڈالنا چاہا مگر جب مُجھے معلُوم ہُؤا کہ یہ رُومی ہَے تو فَوج سمیت چڑھ گیا اور چھُڑایا لایا۔28اور اِس بات کے دریافت کرنے کا اِرادہ کر کے کہ وہ کِس سبب سے اُس پر نالِش کرتے ہیں اُسے اُن کی صدرِ عدالت میں لے گیا۔ 29اور معلُوم ہُؤا کہ وہ اپنی شَرِیعَت کے مسئلوں کی بابت اُس پر نالِش کرتے ہَیں لیکِن اُس پر کوئی اَیسا اِلزام نہِیں لگایا گیا کہ قتل یا قَید کے لائِق ہو۔ 30اور جب مُجھے اِطلاع ہُوئی کہ اِس شَخص کے برخِلاف سازِش ہونے والی ہَے تو مَیں نے اِسے فوراً تیرے پاس بھیج دِیا ہَے اور اِس کے مُدّعِیوں کو بھی حُکم دے دِیا ہَے کہ تیرے سامنے اِس پر دعویٰ کریں۔31چُنان٘چِہ سپاہِیوں نے حُکم کے مُوافِق پولُوسؔکو لے کر راتوں رات انتتیپتِرس میں پہُنچا دِیا۔ 32اور دُوسرے دِن سواروں کو اُس کے ساتھ جانے کے لئِے چھوڑ کر آپ قلعہ کو پھِرے۔ 33اُنہوں نے قَیصریہ میں پہُنچ کر حاکِم کو خط دے دِیا اور پولُوسؔ کو بھی اُس کے آگے حاضِر کِیا۔34اُس نے خط پڑھ کر پُوچھا کہ یہ کِس صُوبہ کا ہَے؟ اور یہ معلُوم کر کے کہ کِلِکیہ کا ہَے۔ 35اُس سے کہا کہ جب تیرے مُدّعی بھی حاضِر ہوں گے تو مَیں تیرا مُقدّمہ کرُوں گا اور اُسے ہیرودِیس کے قلعہ میں قَید رکھنے کا حُکم دِیا۔
241پانچ دِن کے بعد حننِیاؔہ سَردار کاہِن بعض بُزُرگوں اور تِرطُلُسؔ نام ایک وکِیل کو ساتھ لےکر وہاں آیا اور اُنہوں نے حاکِم کے سامنے پولُوسؔ کے خِلاف فریاد کی۔ 2جب وہ بُلایا گیا تِرطُلُسؔ اِلزام لگا کر کہنے لگاکہ اَے فیلِکسؔ بہادر! چُونکہ تیرے وسِیلہ سے ہم بڑے امن میں ہیَں اور تیری دُور اندیشی سے اِس قَوم کے فائِدہ کے لِئے خرابیوں کی اِصلاح ہوتی ہَے۔ 3ہم ہر طرح اور ہر جگہ کمال شُکرگزاری کے ساتھ تیرا اِحسان مانتے ہَیں۔4مگر اِس لِئے کہ تُجھے زیادہ تکلِیف نہ دوُں مَیں تیری مِنَت کرتا ہُوں کہ تُو مِہربانی سے مختصراً ہماری باتیں سُن لے۔ 5کِیُونکہ ہم نے اِس شَخص کو مُفسد اور دُنیا کے سب یہُودِیوں میں فِتنہ انگیز اور ناصریوں کے بِدعتی فِرقہ کاسرگر وہ پایا۔ 6اِس نے ہَیکل کو ناپاک کرنے کی کوشِش کی تھی اور ہم نے اِسے پکڑا [اور ہم نے چاہا کہ اپنی شَرِیعَت کے مُوافِق اِس کی عدالت کریں۔ 12 7لیکِن لُوسِیاسؔ سرادر آ کر بڑی زبردستی سے اُسے ہمارے ہاتھ سے چِھین لے گیا۔ 8اور اُس کے مُدّعیوں کو حُکم دِیا کہ تیرے پاس جائیں] اِسی سے تحقِیق کر کے تُو آپ اِن سب باتوں کو دریافت کر سکتا ہَے جِن کا ہم اِس پر اِلزام لگاتے ہَیں۔ 9اور یہُودِیوں نے بھی اِس دعویٰ میں مُتفِق ہوکر کہاکہ یہ باتیں اِسی طرح ہَیں۔10جب حاکِم نے پولُوسؔ کو بولنے کا اِشارہ کِیا تو اُس نے جواب دِیا چُونکہ مَیں ہُوں کہ تُو بہُت برسوں سے اِس قَوم کی عدالت کرتا ہَے اِس لِئے میں خاطِر جمعی سے اپنا عُذر بیان کرتا ہُوں۔ 11تُو دریافت کر سکتا ہَے کہ بارہ دِن سے زیادہ نہِیں ہُوئے کہ مَیں یروشلِؔیم میں عِبادت کرنے گیا تھا۔ 12اور اُنہوں نے مُجھے نہ ہَیکل میں کِسی کے ساتھ بحث کرتے یا لوگوں میں فساد اُٹھاتے پایا نہ عِبادت خانوں میں نہ شہر میں۔ 13اور نہ وہ اِن باتوں جِن کا مُجھ پر اَب اِلزام لگاتے ہَیں تیرے سامنے ثابِت کرسکتے ہیَں۔14لیکِن تیرے سامنے یہ اِقرار کرتا ہُوں کہ جِس طِریق کو وہ بِدعت کہتے ہیَں اُسی کے مُطابِق مَیں اپنے باپ دادا کے خُدا کی عِبادت کرتا ہُوں اور جو کُچھ توریت اور نبِیوں کے صِحیفوں میں لِکھا ہَے اُس سب پر میرا اِیمان ہَے۔ 15اور خُدا سے اُسی بات کی اُمِید رکھتا ہُوں جِس کے وہ خُود بھی مُنتظِر ہَیں کہ راستبازوں اور ناراستوں دونوں کی قِیامت ہوگی۔ 16اِسی لِئے مَیں خُود بھی کوشِش میں رہتا ہُوں کہ خُدا اور آدمِیوں کے باب میں میرا دِل مُجھے کبھی ملامت نہ کرے۔17بہُت برسوں کے بعد مَیں اپنی قَوم کو خَیرات پہُنچانے اور نذریں چڑھانے آیا تھا۔ 18اُنہوں نے بغَیر ہنگامہ یا بلوے کے مُجھے طہارت کی حالت میں یہ کام کرتے ہُوئے ہَیکل میں پایا۔ ہاں آسیہ کے چند یہُودی تھے۔ 19اور اگر اُن کا مُجھ پر کُچھ دعویٰ تھا تو اُنہِیں تیرے سامنے حاضِر ہوکر فریاد کرنا واجِب تھا۔20یایہی خُود کہیں کہ جب مَیں صدر عدالت کے سامنے کھڑا تھا تو مُجھ میں کیا بُرائی پائی تھی۔ 21سِوا اِس ایک بات کے کہ مَیں نے اُن میں کھڑے ہوکر بُلند آواز سے کہا تھا کہ مُردوں کی قِیامت کے بارے میں آج مُجھ پر تمُہارے سامنے مُقدّمہ ہورہا ہَے۔22فیلِکؔس نے جو صحِیح طَور پر اِس طِریق سے واقِف تھا یہ کہہ کر مُقدّمہ کو مُلتوی کردِیا کہ جب پلٹن کا سَردار لُوسِیاؔس آئے گا تو مَیں تمُہارا مُقدّمہ فَیصل کرُوں گا۔ 23اور صُوبہ دار کو حُکم دِیا کہ اُس کو قَید تو رکھ مگر آرام سے رکھنا اور اِس کے دوستوں میں سے کِسی کو اِس کی خِدمت کرنے سے منع نہ کرنا۔24اور چند روز کے بعد فیلِکؔس اپنی بِیوی درُوسِلّہ کو جو یہُودی تھی ساتھ لے کر آیا اور پولُوسؔ کو بُلُوا کر اُس سے مسِیح یِسُوع کے دِین کی کَیفِیت سُنی۔ 25اور جب وہ راست بازی اور پر ہیز گاری اور آیندہ عدالت کا بیان کررہا تھا تو فیلِکؔس نے دہشت کھا کر جواب دِیا کہ اِس وقت توجا۔ فُرصت پاکر تُجھے پِھر بُلاؤں گا۔26اُسے پولُوسؔ سے کُچھ رُوپے ملِنے کی اُمِید بھی تھی اِس لِئے اُسے اَور بھی بُلا بُلا کر اُس کے ساتھ گُفتگُو کِیا کرتا تھا۔ 27لیکِن جب دو برس گُزر گئے تو پُرکِیُؔس فیسؔتُس کی جگہ مُقرّر ہُؤا اور فیلِکؔس یہُودِیوں کو اپنا اِحسان مند کرنے کی غرض سے پولُوسؔ کو قَید ہی میں چھوڑ گیا۔

1[نوٹ: اچھے نسخہ جات میں ۷ آیت شامل نہیں]
2[نوٹ: اچھے نسخہ جات میں ۷ آیت شامل نہیں]

251چُنان٘چِہ فیستُس صُوبہ میں داخِل ہوکر تیِن روز کے بعد قَیصریہ سے یروشلِؔیم کو گیا۔ 2اور سَردار کاہِنوں اور یہُودِیوں کے رِئیسوں نے اُس کے ہاں پولُوسؔ کے خِلاف فریاد کی۔ 3اور اُس کی مُخالفت میں یہ رعایت چاہی کہ وہ اُسے یروشلِؔیم میں بُلا بھیجے اور گھات میں تھے کہ اُسے راہ میں مار ڈالیں۔4مگر فیستُؔس نے جواب دِیا کہ پولُوسؔ تو قَیصؔریہ میں قَید ہَے اور مَیں آپ جلد وہاں جاؤں گا۔ 5چُنان٘چِہ تُم میں سے جو اِختیّار والے ہیں وہ ساتھ چلیں اور اگر اِس شَخص میں کُچھ بیجا بات ہو تو اُس کی فریاد کریں۔6وہ اُن میں آٹھ دس دِن رہ کر قَیصؔریہ کو گیا اور دُوسرے دِن تختِ عدالت پر بَیٹھ کر پولُوسؔ کے لانے کا حُکم دِیا۔ 7جب وہ حاضِر ہؤا تو جو یہُودی یروشلِؔیم سے آئے تھے وہ اُس کے آس پاس کھڑے ہوکر اُس پر بہُتیرے سخت اِلزام لگانے لگے مگر اُن کو ثابِت نہ کرسکے۔ 8لیکِن پولُوسؔ نے یہ عُذرکِیا کہ مَیں نے نہ تو کُچھ یہُودِیوں کی شَرِیعَت کا گُناہ کِیا ہَے نہ ہَیکل کا نہ قَیصؔریہ کا۔9مگر فیستُؔس نے یہُودِیوں کو اپنا اِحسان مند بنانے کی غرض سے پولُوسؔ کو جواب دِیا کیا تُجھے یروشلِؔیم جانا منظُور ہَے کہ تیرا یہ مُقدّمہ وہاں میرے سامنے فیَصل ہو؟۔ 10پولُوسؔ نے کہا مَیں قَیصؔر کے تختِ عدالت کے سامنے کھڑا ہُوں۔ میرا مُقدّمہ یہِیں فَیصل ہونا چاہئے۔ یہُودِیوں کا مَیں نے کُچھ قُصُور نہِیں کِیا۔ چُنانچہ تُو بھی خُوب جانتا ہَے۔11اگر بدکار ہُوں یا مَیں نے قتل کے لائِق کوئی کام کِیا ہَے تُو مُجھے مرنے سے اِنکار نہِیں لیکِن جِن باتوں کا وہ مُجھ پر اِلزام لگاتے ہیَں اگر اُن کی کُچھ اصل نہِیں تو اُن کی رعایت سے کوئی مُجھ کو اُن کے حوالہ نہِیں کر سکتا۔ مَیں قَیصؔر کے ہاں اِپیل کرتا ہُوں۔ 12پھِر فیستُس نے صلاح کاروں سے مصلحت کر کے جواب دِیا کہ تُونے قَیصؔر کے ہاں اِپیل کی ہَے تو قَیصؔر ہی کے پاس جائے گا۔13اور کُچھ دِن گُزر نے کے بعد اگِرپّاؔ بادشاہ اور برنِیکؔے نے قیصرِؔیہ میں آ کر فیستُؔس سے مُلاقات کی۔ 14اور اُن کے کُچھ عرصہ وہاں رہنے کے بعد فیستُؔس نے پولُوسؔ کے مُقدّمہ کا حال بادشاہ سے کہہ کر بیان کِیا کہ ایک شَخص کو فیلِکؔس قَید میں چھوڑ گیا ہَے۔ 15جب میں یروشلِؔیم میں تھا تو سَردار کاہِنوں اور یہُودِیوں کے بُزُرگوں نے اُس کے خِلاف فریاد کی اور سزا کے حُکم کی دَرخواست کی۔ 16اُن کو میں نے جواب دِیا کہ رُومیوں کا یہ دستُور نہِیں کہ کِسی آدمِی کو رعایتہً سزا کے لِئے حوالہ کریں جب تک کہ مُدّعاعلَیہ کو اپنے مُدعیوں کے رُوبرُو ہوکر دعویٰ کے جواب دینے کا مَوقع نہ ملِے۔17چُنان٘چِہ جب وہ یہاں جمع ہُوئے تو مَیں نے کُچھ دیر نہ کی بلکہ دُوسرے ہی دِن تختِ عدالت پر بَیٹھ کر اُس آدمی کو لانے کا حُکم دِیا۔ 18مگر جب اُس کے مُدّعی کھڑے ہُوئے تو جِن بُرائیوں کا مُجھے گُمان تھا اُن میں سے اُنہوں نے کِسی کا اِلزام اُس پر نہ لگایا۔ 19بلکہ اپنے دِین اور کِسی شَخص یِسُوعؔ کی بابت اُس سے بحث کرتے تھے جو مرگیا تھا اور پولُوسؔاُس کو زِندہ بتاتا ہَے۔ 20چُونکہ مَیں اِن باتوں کی تحقِیقات کی بابت اُلجھن میں تھا اِس لِئے اُس سے پُوچھا کیا تُو یروشلِؔیم میں جانے کو راضی ہَے کہ وہاں اِن باتوں کا فَیصلہ ہو؟21مگر جب پولُوسؔ نے اِپیل کی کہ میرا مُقدّمہ شہنشاہ کی عدالت میں فَیصل ہوتو مَیں نے حُکم دِیا کہ جب تک اُسے قَیصؔر کے پاس نہ بھیجُوں وہ قَید رہے۔ 22اگِرپّاؔ نے فیستُؔس سے کہا مَیں بھی اُس آد مِی کی سُننا چاہتا ہُوں۔ اُس نے کہا کہ تُوکل سُن لے گا۔23چُنان٘چِہ دُوسرے دِن جب اگِرپّاؔ اور برنِیکؔے بڑی شان و شوکت سے پلٹن کے سَرداروں اور شہر کے رِئیسوں کے ساتھ دیوانخانہ میں داخِل ہُوئے تو فیستُؔس کے حُکم سے پولُوسؔ حاضِر کِیا گیا۔ 24پھِر فیستُؔس نے کہا اَے اگِرپّا بادشاہ اور اَے سب حاضرِین تُم اِس شَخص کو دیکھتے ہو جِس کی بابت یہُودِیوں کی ساری گروہ نے یروشلِؔیم میں اور یہاں بھی چِلّا چِلّا کر مُجھ سے عرض کی کہ اِس کا آگے کو جِیتا رہنا مُناسِب نہِیں۔25لیکِن مُجھے معلُوم ہُؤا کہ اُس کے قتل کے لائِق کُچھ نہِیں کِیا اور جب اُس نے خُود شہنشاہ کے ہاں اِپیل کی تو مَیں نے اُس کو بھیجنے کی تجویِز کی۔ 26اُس کی نسِبت مُجھے کوئی ٹھِیک بات معلُوم نہِیں کہ سرکارِ عالی کو لِکھُوں۔ اِس واسطے مَیں نے اُس کو تُمہارے آگے اور خاص کر اَے اگِرپاؔ بادشاہ تیرے حضُور حاضِر کیا ہَے تاکہ تحقِیقات کے بعد لِکھنے کے قابِل کوئی بات نِکلے۔ 27کِیُونکہ قَیدی کے بھیجتے وقت اُن اِلزاموں کو جو اُس پر لگائے گئے ہوں ظاہِر نہ کرنا مُجھے خِلاف عقل معلُوم ہوتا ہَے۔
261اگِرپّا نے پولُوسؔ سے کہا تُجھے اپنے لِئے بولنے کی اِجازت ہَے۔ پولُوسؔ ہاتھ بڑھا کر اپنا جواب یُوں پیش کرنے لگاکہ۔ 2اَے اگِرپّاؔ بادشاہ جِتنی باتوں کی یہُودی مُجھ پر نالِش کرتے ہَیں آج تیرے سامنے اُن کی جو ابدِ ہی کرنا اپنی خُوش نصِیبی جانتا ہُوں۔ 3خاص کر اِس لِئے کہ یہُودِیوں کی سب رسموں اور مسُلوں سے واقِف ہَے۔ چُنان٘چِہ مَیں مِنّت کرتا ہُوں کہ تحُمّل سے میری سُن لے۔4سب یہُودی جانتے ہیں کہ اپنی قَوم کے درمیان اور یروشلِیم میں شُرُوع جوانی سے میرا چال چلن کیَسا رہا ہَے۔ 5چُونکہ وہ شُرُوع سے مُجھے جانتے ہیں اگر چا ہیں تو گواہ ہوسکتے ہیَں کہ مَیں فرِیسی ہوکر اپنے دِین کے سب سے زیادہ پاِبنِدِ مزہب فِرقہ کی طرح زِندگی گزُارتا تھا۔6اور اَب اُس وعدہ کی اُمِید کے سبب سے مُجھ پر مُقدّمہ ہورہا ہَے جو خُدا نے ہمارے باپ دادا سے کِیا تھا۔ 7اُسی وعدہ کے پُورا ہونے کی اُمِید پر ہمارے بارہ کے بارہ قبِیلے دِل و جان سے رات دِن عِبادت کِیا کرتے ہَیں۔ اِسی اُمِید کے سبب سے اَے بادشاہ! یہُودی مُجھ نالِش کرتے ہیَں۔ 8جب کہ خُدا مُردوں کو جِلاتا ہَے تویہ بات تُمہارے نزدِیک کِیُوں غَیر مُعتبر سَمَجھی جاتے ہَے؟9مَیں نے بھی سَمَجھا تھاکہ یِسُوعؔ ناصری کے نام کی طرح طرح سے مُخالفت کرنا مُجھ پر فرض ہَے۔ 10چُنان٘چِہ مَیں نے یروشلِؔیم میں اَیسا ہی کِیا اور سَردار کاہِنوں کی طرف سے اِختیّار پاکر بہُت سے مُقدّسوں کو قَید میں ڈالا اور جب وہ قتل کِئے جاتے تھے تو مَیں بھی یہی راۓ دیتا تھا۔ 11اور ہر عِبادت خانہ میں اُنہِیں سزا دِلا دِلا کر زبردستی اُن سے کفُر کہلواتا تھا بلکہ اُن کی مُخالفت میں اَیسا دِیوانہ بناکہ غَیر شہروں میں بھی جا کر اُنہِیں ستاتا تھا۔12اِسی حال میں سَردار کاہِنوں سے اِختیّار اور پروانے لے کر دمشقؔ کو جاتا تھا۔ 13تو اَے بادشاہ مَیں نے دوپہر کے وقت راہ میں یہ دیکھا کہ سُورج کے نُور سے زیادہ ایک نُور آسمان سے میرے اور میرے ہمسفروں کے گِردا گِرد آچمکا۔ 14جب ہم سب زمِین پر گِر پڑے تو مَیں نے عِبرانی زبان میں یہ آواز سُنی کہ اَے ساولؔ اَے ساولؔ! تُو مُجھے کِیُوں ستاتا ہَے؟ پَینے کی آر پر لات مارنا تیرے لِئےمُشکِل ہَے۔15مَیں نے کہا اَے خُداوند تُو کَون ہَے؟ خُداوند نے فرمایا مَیں یِسُوعؔ ہُوں جِسے تُو ستاتا ہَے۔ 16لیکِن اُٹھ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کِیُونکہ مَیں اِس لِئے تُجھ پر ظاہِر ہُؤا ہُوں کہ تُجھے اُن چِیزوں کا بھی خادِم اور گواہ مُقرّر کرُوں جِنکی گواہی کے لِئے تُو نے مُجھے دیکھا ہَے اور اُن کا بھی جِنکی گواہی کے لِئے مَیں تُجھ پر ظاہِر ہُؤا کرُوں گا۔ 17تُجھے اِس اُمّت اور غَیر قَوموں سے بَچاتا رہُوں گا جِن کے پاس تُجھے اِس لِئے بھیجتا ہُوں۔ 18کہ تُو اُن کی آ نکھیں کھول دے تاکہ اَندھیرے سے روشنی کی طرف اور شَیطان کے اِختیّار سے خُدا کی طرف رُجُوع لائیں اور مُجھ پر اِیمان لانے کے باعِث گُناہوں کی مُعافی اور مُقدّسوں میں شِریک ہوکر مِیراث پائیں۔19اِس لِئے اَے اگِرپّاؔ بادشاہ! مَیں اُس آسمانی رویا کا نافرمان نہ ہُؤا۔ 20بلکہ پہلے دمشقیوں کو پِھر یروشلِؔیم اور سارے مُلک یہُودیہ کے باشِندوں کو اور غَیر قَوموں کو سَمَجھاتا رہا کہ تَوبہ کریں اور خُدا کی طرف رُجُوع لاکر تَوبہ کے مُوافِق کام کریں۔ 21اِنہی باتوں کے سبب سے یہُودِیوں نے مُجھے ہَیکل میں پکڑکر مار ڈالنے کی کوشِش کی۔22لیکِن خُدا کی مدد سے مَیں آج تک قائِم ہُوں اور چھوٹے بڑے کے سامنے گواہی دیتا ہُوں اور اُن باتوں کے سِوا کُچھ نہِیں کہتا جِنکی پشِیینگوئی نبِیوں اور مُوسٰی نے بھی کی ہَے۔ 23کہ مسِیح کو دُکھ اُٹھانا ضرُور ہَے اور سب سے پہلے وُہی مُردوں میں سے زِندہ ہوکر اِس اُمّْت کو اور غَیر قَوموں کو بھی نُور کا اِشتہار دے گا۔24جب وہ اِس طرح جوابد ہی کررہا تھ تو فیستُسؔ نے بڑی آواز سے کہا اَے پولُوسؔ! تُو دیوانہ ہَے۔ بہُت عِلم نے تُجھے دِیوانہ کر دِیا ہَے۔ 25پولُوسؔ نے کہا اَے فیستُس بہادر! مَیں دِیوانہ نہِیں بلکہ سَچّائی اور ہوشیاری کی باتیں کہتا ہُوں۔ 26چُنان٘چِہ بادشاہ جِس سے مَیں دِلیران کلام کرتا ہُوں یہ باتیں جانتا اور مُجھے یقِین ہَے کہ اِن باتوں میں سے کوئی اُس سے چِھپی نہِیں کِیُونکہ یہ ماجرا کِہیں کونے میں نہِیں ہُؤا۔27اَے اگِرپّاؔ بادشاہ کیا تُو نبِیوں کا یقِین کرتا ہَے؟ مَیں جانتا ہُوں کہ تُو یقِین کرتا ہَے۔ 28اگِرپّا نے پولُوسؔسے کہا تُو تو تھوڑی ہی سی نصِیحت کر کے مُجھے مسِیحی کرلینا چاہتا ہَے۔ 29پولُوسؔ نے کہا مَیں تُو خُدا سے چاہتا ہُوں کہ تھوڑی نصِیحت سے یا بہُت سے صِرف تُوہی نہِیں بلکہ جِتنے لوگ آج میری سُنتے ہَیں میری مانِند ہو جائیں سِوا اِن زِنجیروں کے۔30تب بادشاہ اور حاکِم اور برِنیکؔے اور اُن کے ہمنشِین اُٹھ کھڑے ہُوئے۔ 31اور الگ جا کر ایک دوُسرے سے باتیں کرنے اور کہنے لگے کہ یہ آد مِی اَیسا تو کُچھ نہِیں کرتا جو قتل یا قَید کے لائِق ہو۔ 32اگِرپّاؔ نے فیستُسؔ سے کہا کہ اگر یہ آد مِی قَیصؔر کے ہاں اپِیل نہ کرتا تو چُھوٹ سکتا تھا۔‫
271جب جہاز اطالیہ کو ہمارا جانا ٹھہر گیا تو اُنہوں نے پولُوسؔ اور بعض اَور قَیدیوں کو شہنشاہی پلٹن کے ایک صُوبہ دار یُولیُسؔ نام کے حوالہ کِیا۔ 2اور ہم ادر مُتیُمّؔ کے ایک جہاز پر آسیؔہ کے کِنارے کی بندر گاہوں میں جانے کو تھا سوار ہوکر روانہ ہُوئے اور تھِّسلُینکؔے کا ارِسترخُسؔ مَکِدُنؔی ہمارے ساتھ تھا۔3دوُسرے دِن صَیدؔا میں جہاز ٹھہرا اور یُولیُسؔ نے پولُوسؔ پر مِہربانی کر کے دوستوں کے پاس جانے کی اِجازت دی تاکہ اُس کی خاطِر داری ہو۔ 4وہاں سے ہم روانہ ہُوئے اور کُپُرسؔ کی آڑ میں ہوکر چلے اِس لِئے کہ ہوا مُخالِف تھی۔ 5پِھر ہم کِلِکیہؔ اور پمفِیؔلیہ کے سَمَندَر سے گُزر کر لُوکیؔہ کے شہر مُورہؔ میں اُترے۔ 6وہاں صُوبہ دار کو اِسکؔندریہ کا ایک جہاز اِطالؔیہ جاتا ہُؤا مِلا۔ چُنان٘چِہ ہم کو اُس میں بِٹھا دِیا۔7اور ہم بہُت دِنوں تک آہِستہ آہِستہ چل کر جب مُشکِل سے کَنِدُسؔ کے سامنے پُہنچے تو اِس لِئے کہ ہوا ہم کو آگے بڑھنے نہ دیتی تھی سلمؔونے کے سامنے سے ہوکر کریتےؔ کی آڑ میں چلے۔ 8اور بمُشکِل اُس کے کِنارے کِنارے چل کر حسِینؔ بندر نام ایک مقام میں پہُنچے جِس سے لؔسَیَہ شہر نزدِیک تھا۔9جب بہُت عرصہ گُزر گیا اور جہاز کا سفر اِس لِئے خطرناک ہوگیا کہ روزہ کا دِن گُزر چُکا تھا تو پولُوسؔنے اُنہِیں یہ کہہ کر نِصیحت کی۔ 10کہ اَے صاحِبو! مُجھے معلُوم ہوتا ہَے کہ اِس سفر میں تکِیف اور بہُت نقُصان ہوگا۔ نہ صِرف مال اور جہاز کا بلکہ ہماری جانوں کا بھی۔ 11مگر صُوبہ دار نے نا خُدا اور جہاز کے مالِک کی باتوں پر پولُوسؔکی باتوں سے زیادہ لحِاظ کِیا۔12اور چُونکہ وہ بندر جاڑوں میں رہنے کے لِئے اچھّا نہ تھا اِس لِئے اکثر لوگوں کی صلاح ٹھہری کہ وہاں سے روانہ ہوں اور اگر ہوسکے تو فِینِکؔس میں پہُنچ کر جاڑا کاٹیں۔ وہ کریتےؔ کا ایک بندرہَے جِس کا رُخ شِمال مشِرق اور جنُوب مشِرق کو ہَے۔ 13جب کُچھ کُچھ دکِھّنا ہوا چلنے لگی تو اُنہوں نے یہ سَمَجھ کر کہ ہمارا مطلب حاصِل ہوگیا لنگر اُٹھایا اور کریتے کے کِنارے کے قرِیب قرِیب چلے۔14لیکِن تھوڑی دیر ایک بڑی طُوفانی ہوا جو یُورکلُؔون کہلاتی ہَے کریتے پرسے جہاز پر آئی۔ 15اور جب جہاز ہوا کے قابُو میں آ گیا اور اُس کا سامنا نہ کرسکا توہم نے لاچار ہوکر اُس کو بہنے دِیا۔ 16اور کَودہؔ نام ایک چھوٹے جزِیرہ کی آڑ میں بہُتے بہُتے ہم بڑی مُشِکل سے ڈونگی کو قابُو میں لائے۔17اور جب مَلّاح اُس کو اُوپر چڑھا چُکے تو جہاز کی مضبُوطی کی تدبِیریں کر کے اُس کو نِیچے سے باندھا اور سُورتؔس کے چور بالُو میں دھس جانے کے ڈر سے جہاز کا ساز و سامان اُتار لِیا اور اُسی طرح بہُتے چلے گئے۔ 18مگر جب ہم نے آندھی سے بہُت ہچکولے کھائے تو دوُسرے دِن وہ جہاز کا مال پھینکنے لگے۔19اور تیِسرے دِن اُنہوں نے اپنے ہی ہاتھوں سے جہاز کے آلات واسباب بھی پھینک دِئے۔ 20اور جب بہُت دِنوں تک نہ سُرج نظر آیا نہ تارے اور شِدّت کی آندھی چل رہی تھی تو آخر ہم کو بچنے کی اُمِید بِالکُل نہ رہی۔21اور جب بہُت فاقہ کرچُکے تو پولُوسؔ نے اُن کے بِیچ میں کھڑے ہوکر کہا اَے صاحِبو! لازم تھا کہ تُم میری بات مانکر کریتؔے سے روانہ نہ ہوتے اور یہ تکلِیف اور نُقصان نہ اُٹھاتے۔ 22مگر اَب میں تُم کو نصِیحت کرتا ہُوں کہ خاطِر جمع رکھّو کِیُونکہ تُم میں سے کِسی کی جان کا نُقصان نہ ہوگا مگر جہاز کا۔23کِیُونکہ خُدا جِس کا مَیں ہُوں اور جِس کی عِبادت بھی کرتا ہُوں اُس کے فِرشتہ نے اِسی رات کو میرے پاس آ کر۔ 24کہا اَے پولُوسؔ! نہ ڈر۔ ضرُور ہے کہ تُو قَیصؔر کے سامنے حاضِر ہو اور دیکھ جِتنے لوگ تیرے ساتھ جہاز میں سوار ہَیں اُن سب کی خُدا نے تیری خاطِر جان بخشی کی۔ 25اِس لِئے اَے صاحِبو! خاطِر جمع رکھّو کِیُونکہ مَیں خُدا کا یقِین کرتا ہُوں کہ جَیسا مُجھ سے کہا گیا ہَے وَیساہی ہوگا۔ 26لیکِن یہ ضرُور ہَے کہ ہم کِسی ٹاپُو میں جاپڑیں۔27جب چَودھوِیں رات ہُوئی اور ہم بحِر اور یہ میں ٹکراتے پِھرتے تھے تو آدھی رات کے قرِیب مَلّاحوں نے اٹکل سے معلُوم کِیا کہ کِسی مُلک کے نزدِیک پہُنچ گئے۔ 28اور پانی کی تھاہ لے کر بِیس پرُسہ پایا اور تھوڑا آگے بڑھ کر اور پِھر تھاہ لے کر پندرہ پرُسہ پایا۔ 29اور اِس ڈر سے کہ مبادا چٹانوں پر جاپڑیں جہاز کے پِیچھے سے چار لنگر ڈالے اور صُبح ہونے کے لِئے دُعا کرتے رہے۔30اور جب مَلّاحوں نے چاہاکہ جہاز پر سے بھاگ جائیں اور اِس بہانہ سے کہ گلہی سے لنگر ڈالیں ڈونگی کو سُمندر میں اُتارا۔ 31تو پولُوسؔنے صُوبہ دار اور سپاہِیوں سے کہا کہ اگر یہ جہاز پر نہ رہیں گے تو تُم نہِیں بچ سکتے۔ 32اِس پر سپاہِیوں نے ڈونگی کی رسّیاں کاٹ کر اُسے چھوڑ دِیا۔33اور جب دِن نِکلنے کو ہُؤا تو پولُوسؔ نے سب کی مِنّت کی کہ کھانا کھالو اور کہا کہ تُم کو اِنتظار کرتے کرتے اور فاقہ کھینچتے آج چَودہ دِن ہوگئے اور تُم نے کُچھ نہِیں کھایا۔ 34اِس لِئے تُمہاری مِنّت کرتا ہُوں کہ کھانا کھالو کِیُونکہ اِس پر تُمہاری بِہتری مَوقُوف ہَے اور تُم میں سے کِسی کے سرکا ایک بال بِیکانہ ہوگا۔ 35یہ کہہ کر اُس نے روٹی لی اور اُن سب کے سامنے خُدا کا شُکر کِیا اور توڑ کر کھانے لگا۔36پِھر اُن سب کی خاطِر جمع ہُوئی اور آپ بھی کھانا کھانے لگے۔ 37اور ہم سب مِل کر جہاز میں دوسَو چھہتّر آد مِی تھے۔ 38جب وہ کھا کر سیر ہُوئے تو گیہُوں کو سُمندر میں پھینک کر جہاز کو ہلکا کرنے لگے۔39جب دِن نِکل آیا تو اُنہوں نے اُس مُلک کو نہ پہچانا مگر ایک کھاڑی دیکھی جِس کا کِنارہ صاف تھا اور صلاح کہ اگر ہوسکے تو جہاز کو اُس پر چڑھالیں۔ 40چُنان٘چِہ لنگر کھول کر سُمندر میں چھوڑ دِئے اور پتواروں کی بھی رسّیاں کھول دِیں اور اگلا پال ہُؤا کے رُخ پر چڑھا کر اُس کِنارے کی طرف چلے۔ 41لیکِن ایک اَیسی جگہ جا پڑے جِس کی دونوں طرف سُمندر کا زور تھا اور جہاز زمِین پر ٹِک گیا۔ چُنان٘چِہ گلہی تو دھکا کھا کر پھنس گئی مگر دُنبالہ لہروں کے زور سے ٹُوٹنے لگا۔42اور سِپاہیوں کی یہ صلاح تھی کہ قَیدیوں کو مار ڈالیں کہ اَیسا نہ ہو کوئی تَیرکر بھاگ جائے۔ 43لیکِن صُوبہ دار نے پولُوسؔ کو بَچانے کی غرض سے اُن کو اِس اِرادہ سے باز رکھّا اور حُکم دِیا کہ جو تیَر سکتے ہیں پہلے کُود کر کِنارے پر چلے جائیں۔ 44اور باقی لوگ بعض تختوں پر اور بعض جہاز کی اَور چِیزوں کے سہارے سے چلے جائیں اور اِسی طرح سب کے سب خُشکی پر سَلامت پہُنچ گئے۔
281جب ہم پہُنچ گئے تو جانا کہ اِس ٹاپُو کا نام مِلِؔتے ہَے۔ 2اور اُن اجنبِیوں نے ہم پر خاص مہربانی کی کِیُونکہ مینہ کی جھڑی اور جاڑے کے سبب سے اُنہوں نے آگ جلاکر ہم سب کی خاطِر کی۔3جب پولُوسؔ نے لکڑیوں کا گٹھا جمع کر کے آگ میں ڈالا تو ایک سانپ گرمی پاکر نِکلا اور اُس کے ہاتھ پر لپٹ گیا۔ 4جِس وقت اُن اجنبِیوں نے وہ کِیڑا اُس کے ہاتھ سے لٹکا ہُؤا دیکھا تو ایک دوُسرے سے کہنے لگے کہ بیشک یہ آدمِی خُونی ہَے۔ اگرچہ سُمندر سے بچ گیا تَو بھی عدل اُسے جِینے نہِیں دیتا۔5چُنان٘چِہ اُس نے کِیڑے کو آگ میں جھٹک دِیا اور اُسے کُچھ ضررنہ پہُنچا۔ 6مگر وہ مُنتظِر تھے کہ اِس کا بَدَن سُوج جائے گا یایہ مرکر یکایک گِرپڑیگا لیکِن جب دیر تک اِنتظار کِیا اور دیکھا کہ اُس کو کُچھ ضرر نہ پہُنچا تو اَور خیال کر کے کہ یہ تو کوئی دیوتا ہَے۔7وہاں سے قرِیب پُبلؔیُس نام اُس ٹاپو کے سَردار کی مِلک تھی اُس نے گھر لیجا کر تین دِن تک بڑی مہربانی سے ہماری مِہمانی کی۔ 8اور اَیسا ہُؤا کہ پُبلؔیُس کا باپ اور پیِچش کی وجہ سے بِیمار پڑا تھا۔ پولُوسؔ نے اُس کے پاس جا کر دُعا کی اور اُس پر ہاتھ رکھ کر شِفادی۔ 9جب اَیسا ہُؤا تو باقی لوگ جو اُس ٹاپُو میں بِیمار تھے آئے اور اچھّے کِئے گئے۔ 10اور اُنہوں نے ہماری بڑی عِزّت کی اور چلتے وقت جو کُچھ ہمیں درکا تھا جہاز پر رکھ دِیا۔11تِین مہِینے کے بعد ہم اِسکؔندریہ کے ایک جہاز پر روانہ ہُوئے جو جاڑے بھر اُس ٹاپُو میں رہا تھا اور جِس کا نِشان دیسُکُؔوری تھا۔ 12اور سُرَکُؔوسہ میں جہاز ٹھہرا کر تِین دِن رہے۔13اور وہاں سے پھیر کھا کر ریگیُؔم میں آئے ایک روز بعد دکھِّنا چلی تو دُوسرے دِن پُتیُلؔی میں آئے۔ 14وہاں ہم کو بھائِی مِلے اور اُن کی مِنّت سے ہم سات دِن اُن کے پاس رہے اور اِسی طرح رومؔہ تک گئے۔ 15وہاں سے بھائِی ہماری خَبر سُن کر اَپّیُس کے چوک اور تِین سراؔی تک ہمارے اِستقبال کو آئے اور پولُوسؔنے اُنہِیں دیکھ کر خُدا کا شُکر کِیا اور اُس کی خاطِر جمع ہُوئی۔16جب ہم رومؔہ میں پہُنچے تو پولُوسؔ کو اِجازت ہُوئی کہ اکیلا اُس سِپاہی کے ساتھ رہے جو اُس پر پہرا دیتا تھا۔ 17تِین روز کے بعد اَیسا ہُؤا کہ اُس نے یہُودِیوں کے ریئسوں کو بُلوایا اور جب جمع ہوگئے تو اُن سے کہا اَے بھائِیو! ہر چند مَیں نے اُمّت کے اور باپ دادا کی رسموں کے خِلاف کُچھ نہِیں کِیا تُو بھی یروشلِؔیم سے قَیدی ہوکر رُومیوں کے ہاتھ حوالہ کِیا گیا۔ 18اُنہوں نے میری تحقِیقات کر کے مُجھے چھوڑ دینا چاہا کِیُونکہ میرے قتل کا کوئی سبب نہ تھا۔19مگر جب یہُودِیوں نے مُخالفت کی تو مَیں نے لاچار ہوکر قؔیصر کے ہاں اِپیل کی مگر اِس واسطے نہِیں کہ اپنی قَوم پر مُجھے کُچھ اِلزام لگانا تھا۔ 20چُنان٘چِہ اِس لِئے مَیں نے تُمہیں بُلایا ہَے کہ تُم سے مِلُو اور گُفتگُو کرُوں کِیُونکہ اِسرائیل کی اُمِید کے سبب سے مَیں اِس زنجِیر سے جکڑا ہُؤا ہُوں۔21اُنہوں نے اُس سے کہا نہ ہمارے پاس یہُوؔدیہ سے تیرے بارے میں خط آئے نہ بھائِیوں میں سے کِسی نے آ کر تیری کُچھ خَبر دی نہ بُرائی بیان کی۔ 22مگر ہم مُناسب جانتے ہَیں کہ تُجھ سے سُنیں کہ تیرے خیالات کیا ہیَں کِیُونکہ اِس فِرقہ کی بابت ہم کو معلُوم ہَے کہ ہر جگہ اِس کے خِلاف کہتے ہیَں۔23اور وہ اُس سے ایک دِن ٹھہرا کر کثرت سے اُس کے ہاں جمع ہُوئے اور وہ خُدا کی بادشاہی کی گواہی دے دے کر اور مُوؔسٰی کی توریت اور نبِیوں کے صحِیفوں سے یِسُوعؔ کی بابت سَمَجھا سَمَجھا کر صُبح سے شام تک اُن سے بیان کرتا رہا۔ 24اور بعض نے اُس کی باتوں کو مان لِیا اور بعض نے مانا۔25جب آ پس میں مُتفِق نہ ہُوئے تو پولُوسؔکے اِس ایک بات کے کہنے پر رُخصت ہُوئے کہ رُوحُ القُدس نے یسعیاؔہ کی معرفت تُمہارے باپ دادا سے خُوب کہا کہ۔ 26اِس اُمّت کے پاس جا کر کہہ کہ تُم کانوں سے سُنو گے اور ہرگِز نہ سَمَجھو گے اور آنکھوں سے دیکھوگےاور ہرگِز معلُوم نہ کرو گے۔27کِیُونکہ اِس اُمّت کے دِل پر چربی چھاگئی ہَے اور وہ کانوں سے اُونچا سُنتے ہیَں اور اُنہوں نے اپنی آنکھیں بند کرلی ہیں کہِیں اَیسا نہ ہوکہ آنکھوں سے معلُوم کریں اور کانوں سے سُنیں اور دِل سے سَمَجھیں اور رُجُوع لائیں اور مَیں اُنہِیں شِفا بخشُوں۔28چُنان٘چِہ تُم کو معلُوم ہوکہ خُدا کی اِس نِجات کا پَیغام غَیر قَوموں کے پاس بھیجا گیا ہَے اور وہ اُسے سُن بھی لیں گی۔ 29[جب اُس نے کہا تو یہُودی آ پس میں بہُت بحث کرتے چلے گئے]۔30اور وہ پُورے دو برس اپنے کرایہ کے گھر میں رہا۔ 31اور جو اُس کے پاس آتے تھے۔ اُن سب سے مِلتا رہا اور کمال دِلیری سے بغَیر روک ٹوک کے خُدا کی بادشاہی کی منادی کرتا اور خُدا یِسُوعؔ مسِیح کی باتیں سِکھاتا رہا۔